Showing posts with label سیاست. Show all posts
Showing posts with label سیاست. Show all posts

نیا پاکستان

میں کسی جماعت کا سپورٹر ہوں نہ ہی سیاست میں کوئی خاص دلچسپی۔ حقیقت بتاؤں تو میں اُن لوگوں میں سے تھا جنکے مطابق پاکستانی سیاست میں ایک آدمی بھی اقتدار کے قائل نہیں۔ سب غدار، مُلک دُشمن، عوام دُشمن، فرعون، جاگیردار، ان پڑھ اور نا اہل ہیں۔ بلاشبہ اِس میں بہت حد تک حقیقت بھی ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ احساس ہوا کہ ووٹ دینا ہماری اہم ذمہ داری ہے۔ اِسکی حیثیت امانت کی سی ہے جسکو جلد از جلد اور ایمانتدار سے لُٹا دینا چاہئیے۔ لہٰذا فیصلہ کیا کہ جو کم درجے کا نا اہل ہو اُسکو ووٹ دی جائے۔ ایسے میں مختلف وجوہات کی بناء پر مختلف پارٹیاں اور نام سامنے آئے۔ بالآخر ن لیگ کو ووٹ دینے کا ارادہ کیا لیکن الیکشن سے کچھ دن قبل ہی چند بناء پر عمران خان کو ووٹ کے قابل سمجھا۔ مُجھے یقین تھا عمران خان تیس سے زیادہ سیٹیں نہیں جیت سکتا اور خواہش تھی کہ عمران خان ایک اچھی اپوزیشن بنائے کیونکہ سیاست میں اپوزیشن کا نہایت اہم کردار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عموماً عوام کے بیشتر اہم مسائل اپوزیشن کی وجہ سے ہی حل ہوا کرتے ہیں۔

        الیکشن کے دِن اپنے آبائی گاؤں میں جو مناظر میں نے دیکھے، وہ تاحال تصورات سے اوجھل ہونے کا نام نہیں لیتے۔ سُنسان گلیوں اور روڈوں پر نوجوانوں اور گاڑیوں کا رش، ہر جانب شور، ہلہ گلہ اور رونق، یوں محسوس ہورہا تھا گویا عید ہو۔ میں نے آج تک اپنے گاؤں میں عید پر بھی اتنے نوجوانوں کو نہیں دیکھا، نہ ہی اِس جوش و جذبے کے ساتھ جس طرح الیکشن کے دِن۔۔۔ وہ مناظر بھُلائے نہیں بھولتے۔ حیران کن طور پر پی ٹی آئی کے ووٹروں کی تعداد اندازے کے مطابق نوے فیصد تک تھی اور جو لوگ ہمیشہ سے پی پی یا مسلم لیگ کے جیالے رہے، وہ سب بھی پی ٹی آئی کو سپورٹ کرتے نظر آئے۔ حتٰی کہ مُلک کے دور دراز علاقوں سے اُن نوجوانوں کو فقط ووٹ ڈالنے کیلئے گاؤں آتے دیکھا جو اب کسی خوشی، غمی اور عید پر بھی نہیں آیا کرتے۔ اور تو اور پہلی مرتبہ دیکھا کہ نوجوان بیرون ملک سے فقط ووٹ ڈالنے آئے۔ جی ہاں، ایسے نوجوان جو دُنیا بھر سے فقط کچھ دِن کیلئے ووٹ دینے پاکستان آئے اور حیران تو تب ہوا جب معلوم ہوا ایک نوجوان فقط دُبئی سے ووٹ ڈالنے آیا اور رات کو ہی واپس روانہ ہوگیا۔ اِس سب کو دیکھ کر میرے ذہن سے عمران اور فقط تیس سیٹوں والا خیال نکل گیا۔

         بعد ازاں شام کے وقت پنجاب کے مختلف علاقوں میں رہنے والے اپنے عزیز و اقارب سے وہاں کے حالات پوچھے تو تقریباً سب نے پیشن گوئی کی کہ پی ٹی آئی ہمارے پولنگ سٹیشن میں جیتے گی۔ ابتدائی نتائج  کے مطابق، پی ٹی آئی کو بیشتر حلقوں میں واضح اکثریت حاصل تھی اور تو اور پنجاب کے چند نہایت ہی اہم حلقوں میں بھی پی ٹی آئی کی اکثریت تھی لیکن رات گئے اچانک نتائج تبدیل ہونے لگے۔ حیرانگی کی انتہا نہ رہی جب علم ہوا کہ میرے اپنے پولنگ سٹیشن میں بھی ن لیگ پہلے، پی پی دوسرے اور پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر رہی جو وہاں ووٹ ڈالنے والے کسی شخص، حتٰی کہ باقی جماعتوں کے ووٹروں کیلئے بھی قطعاً قابل قبول نہیں۔ پھر اُسکے بعد دھاندلی کے متعلق موقع پر موجود بیشمار افراد کے بیانات اور ایک دو نہیں، ان گنت ویڈیوز اور تصاویر سامنے آنے کے بعد کچھ بھی چھُپا نہیں رہا۔۔


        کسی جماعت کے سپورٹر سے بالا تر ہوکر دیکھا جائے تو بلاشبہ دھاندلی ہوئی اور کسی ایک حلقے میں نہیں، بہت بڑے پیمانے پر ہوئی۔ کراچی میں جو ہوا، اُس پر افسوس اور تجزئیے کیلئے تو الفاظ بھی کم پڑتے ہیں۔ دِل خون کے آنسو روتا ہے لیکن وہاں تو ہمیشہ ہی ایسا ہوا کرتا ہے، لوگوں کو پہلے سے ہی یہی اُمید تھی اور دُنیا حقیقت جانتی ہے اور مانتی ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی میں دھاندلی ہوئی اور کس دہشتگرد، درندہ صفت اور مُلک دُشمن پارٹی نے کروائی۔ لیکن جو کچھ پنجاب اور دیگر علاقوں میں ہوا وہ نہایت افسوسناک اور شرمناک ہے۔ مُجھے یہ دُکھ قطعاً نہیں کی پی ٹی آئی یا کوئی خاص جماعت نہیں جیتی بلکہ دُکھ اِس بات کا ہے کہ الیکشن کے دُرست نتائج سامنے نہیں آئے۔ پی ٹی آئی اِس سے بھی بُری طرح ہارتی لیکن دھاندلی کے بغیر ہارتی تو کچھ افسوس نہ تھا۔

        اِن الیکشن میں جوانوں کے جوش و جزبے، اُنکی سیاست میں دلچسپی، مُلک میں مثبت تبدیلی کی خواہش اور جستجو کو دیکھ کر میں بذاتِ خود نوجوانوں سے شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔ جو حوصلہ شکنی اِن الیکشن کے نتائج نے عوام خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کی کی، شائید اب اُسکا ازالہ کبھی نہ ہوسکے۔ اور تو اور بیشمار نوجوانوں کو یہ سُنتے دیکھ کر میں کیا محسوس کرتا ہوں، وہ بیان کرنے سے قاصر ہوں کہ ’’یہ ہمارا زندگی کا پہلا اور آخری ووٹ تھا‘‘۔ بیشتر تو مکمل طور پر ہمت ہار گئے اور بقول اُنکے اب پاکستان کا نظام کبھی نہیں بدل سکتا۔ یہ جاگیردارانہ اور گندہ نظام ایسے ہی تھا اور ایسا ہی رہے گا۔ ہمارے چاہنے نہ چاہنے، ووٹ دینے نہ دینے سے کبھی کوئی اقتدار میں نہیں آسکتا۔ بلکہ ایک بزرگ تو کہنے لگے کہ بیٹا آپ نے تو ابھی دیکھا، یہاں ہمیشہ سے ہماری توقعات اور سوچ سے بالکل مختلف نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہ سب کچھ پہلے سے ہی طے شدہ ہوتا ہے کہ کس کو جتوانا ہے اور کیسے اگلے چند سال گزارنے ہیں۔

        قصہ مختصر یہاں عوام کا نہیں، کسی اور کا مینڈیٹ چلتا ہے اور وہ کون ہے، اِس میں مختلف قیاس آرئیاں ہیں، لہٰذا کچھ کہہ نہیں سکتا۔ فقط یہ کہوں گا جو بھی ہے، وہ ملک دُشمن اور غدار ہے، چاہے وہ کوئی پارٹی ہے، ایجنسیاں ہیں، غیر مُلکی ہاتھ، میڈیا یا سسٹم کی خرابی ہے۔۔۔۔ آپ سب کو ماننا پڑے گا، جی ہاں ماننا پڑے گا کہ الیکشن بالکل بھی شفاف نہ تھے اور عوام کا مینڈیٹ بالکل بھی سامنے نہیں آیا۔ :(

        عمران خان سے بیشتر اختلافات کے باوجود، دوسری اہم بات جو ہم سب کو ماننا پڑے گی وہ یہ کہ عمران خان نے عوام خصوصاً   خواتین اور نوجوانوں کو گھروں سے باہر نکلنے، سیاست میں دلچسپی لینے اور مُلک کی مثبت تبدیلی کیلئے جستجو کرنے کی نئی راہ روشن کی۔ اور اب ضرورت اِس امر کی ہے کہ پارٹیوں، لیگوں اور تحریکوں کے جال سے خود کو آزاد کر کے، ایک دوسرے پر تنقید کا دامن چھوڑتے ہوئے، پوری قوم یکجا ہو جائے اور فقط بحیثیت پاکستانی، سب سے پہلے کراچی کو پُرامن بنانے کی جستجو کی جائے۔ مُجھے اُمید ہے کہ میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس جیسے اہم ذرائع تمام نوجوانوں اور قوم کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اور اگر قوم یکجا ہوجائے تو نہ صرف ہم کراچی کو ایک مرتبہ پھر روشنیوں کا شہر بنا سکتے ہیں بلکہ پورے پاکستان کیلئے اِک نئی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

      اللہ تبارک وتعالٰی سے دُعا ہے کہ وہ جلد ہمارے خوابوں کو حقیقت کی شکل دے دے اور ہمیں ویسا نیا پاکستان مل جائے جسکی آس لگائے تمام قوم بیٹھی ہے۔ (آمین)

بلاگی دوستوں کے نام

بلاگستان نے میرا ہمیشہ سے لکھنے کا شوق پورا کیا اور مُجھے اپنے اظہارِ خیالات کی کھلی آزادی دیتے ہوئے اِنہیں دُنیا کے سامنے لانے کو موقع دیا۔ بیشتر اُردو بلاگران جس لگن اور جذبے سے انٹرنیٹ کی دُنیا میں اُردو کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں وہ بلاشبہ قابل تحسین ہے۔ ایک خوش آئیند بات جو مجھے بہت پسند ہے وہ یہ کہ بلاگران ایک دوسرے سے کسی نہ کسی صورت میں رابطے میں ہیں۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس اور آن لائن چیٹنگ وغیرہ کے علاوہ، اب بیشتر بلاگران کے آپس میں براہِ راست روابط بھی ہیں اور مزے کی بات کہ یہ روابط دھیرے دھیرے دوستیوں کی اشکال اختیار کرنے لگے ہیں۔ مُلک بلکہ دُنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے اُردو بلاگران اب آپس میں بہترین دوست بنتے جارہے ہیں۔ کوئی اور رابطہ ہو نہ ہو، ہم سب کا بنیادی رشتہ ایک ہی گھرانے (یعنی بلاگستان) سے تعلق رکھنا ہے۔ :)

تمام بلاگران ایک دوسرے کی تحاریر کو پڑھنے کے علاوہ اِن پر خوب اظہارِخیالات کرتے ہیں اور اہم موضوعات کو زیرِبحث بھی لاتے ہیں۔ اِسی تسلسل میں ایک بات جو مُجھے ہمیشہ سے بُری لگتی رہی وہ ایک دوسرے کی تحاریر (بلاگی پوسٹوں) کے جواب میں لمبی چوڑی تحاریر لکھنا ہے اور اکثر یہ سلسلہ زیادہ طول اختیار کر جاتا ہے۔ بلاگران ایک دوسرے کی تحاریر کے جواب میں ایسی تحاریر لکھتے ہیں جو کسی تیسرے شخص کی سمجھ سے بالا تر ہوتی ہیں۔ پھپھے کٹنی، آنٹی اور بارہ سنگھا اِسی طرح کے سلسلوں کے مشہور کردار رہ چکے ہیں۔ جن پر بیشتر بلاگران نے بے شمار پوسٹیں لکھیں۔ اِسکے برعکس ایک ایسا سلسلہ جسے تمام بلاگران نہایت پسند کرتے ہیں اور بلاشبہ جسکی وجہ سے اِس گھرانے کے تمام افراد کا آپس میں رابطہ قائم رہا (جو کہ ایک خوش آئیند بات ہے) وہ چند خاص سوالات کے جوابات دے کر کسی دوسرے بلاگر کو ٹیگ کرنا ہے۔ ٹیگ زدہ بلاگر کو لازماً انہی سوالات کے جوابات دے کر کسی اور بلاگر کو ٹیگ کر کے اِس سلسلے کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن ایک بات جو مجھے اِن تمام تحریری سلسلوں میں مایوس کرتی ہے وہ یہ کہ کسی بھی نئے قاری کو ہماری ایسی تحاریر کی نہ تو سمجھ آتی ہے اور نہ ہی اُسکی اِن میں کوئی خاص دلچسپی ہوتی ہے۔ یوں پڑھنے والا اپنے دماغ میں انٹرنیٹ پر موجود اُردو تحاریر کا ایک منفی تاثر لے کر جاتا ہے اور دوبارہ کسی بھی اُردو بلاگ کو پڑھنے سے اجتناب برتتا ہے۔ لہٰذا میرے خیال سے ہر بلاگر کو کسی ایک بلاگر یا اُسکی کسی تحریر کے جواب میں لکھنے کی بجائے پوری دُنیا کو سامنے رکھتے ہوئے لکھنا چاہئیے۔ اگر کسی ایک بلاگر یا کسی بلاگر کی تحریر کے جواب میں لکھنا بھی ہو تو اِس انداز میں لکھا جائے کہ ہر قاری تحریر کو پڑھ کر نہ صرف بآسانی سمجھ سکے بلکہ تحریر سے پوری طرح لطف بھی اُٹھاسکے۔

بلاشبہ ایک بلاگرکیلئے تمام اُردو بلاگران کو مخاطب کرنے کا بہترین ذریعہ بلاگی پوسٹ (یعنی بلاگ پر تحریر) ہے لیکن جس نقطہ کی وضاحت میں کرنا چاہ رہا ہوں وہ یہ کہ بیشتر بلاگران کی ہر دوسری پوسٹ ہی کسی خاص بلاگر یا کسی بلاگ پوسٹ کے جواب میں ہوتی ہے۔ ہمیں ضرور ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا چاہئیے لیکن اِسکا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ہماری ہر تحریر ہی ایک دوسرے کیلئے ہو (چاہے اِسکی وجہ اپنے بلاگ کی تشہیر ہی کیوں نہ ہو) اور ہم اپنے لکھنے کا حقیقی مقصد کھو بیٹھیں۔

اِک انسان ہونے کے ناطے میری سوچ غلط یا مُجھے کوئی غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو آپ سے مثبت تبصروں کی اُمید رکھتا ہوں جو میری سوچ یا غلط فہمی کی تصیح کیلئے فائدہ مند ثابت ہوں گے وگرنہ میری تمام اُردو بلاگران سے گزارش ہے کہ ایسی پوسٹیں لکھنے میں کمی لائی جائے جن کا دائرہ کار فقط ایک بلاگر یا چند بلاگران تک محدود ہو۔ اِسکے برعکس ایسی تحاریر ذیادہ سے ذیادہ لکھنے کی کوشش کی جائے جو پوری قوم بلکہ پوری انسانیت کیلئے فائدہ مند ہوں۔

انسان بن جاؤ!


اِنسانوں کے اِس بازار میں، خالص اِنسان نہایت قلیل ہیں۔ مانتا ہوں یہ انسان نما ضرور مگر انسان نہیں درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔ یہ اُستاد، طالبِعلم، وکیل، ڈاکٹر، انجینئر، ملازمین، مزدور، مذہبی و سیاسی رہنما غرض تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والا ہر اِک فرد اصل میں بیوپاری ہے جس میں میں اور تم بھی شامل ہیں۔ ہاں۔۔۔ تم مانو یا نہ مانو۔۔۔ میں اور تُم بھی بزنس مین ہیں۔ ہماری زندگیوں کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے یہی وجہ ہے کہ میں جب سے انٹرنیٹ پر بلاگنگ کر رہا ہوں، بے شمار افراد نے مجھ سے ایک ہی سوال کیا کہ کیا اِس بلاگنگ سے کوئی آمدنی بھی ہوتی ہے؟ میرا جواب ہمیشہ نفی میں رہا۔ جس پر دوسرا سوال جو میرے منہ پر مارا جاتا وہ یہ کہ پھر آپ کیوں یہاں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں؟ آپکو اِس سے کیا ملتا ہے؟ ہاں۔۔۔ ہماری زندگیوں کا مقصد تو صرف پیسہ کمانا ہے۔ ہم کیا جانیں یہ دِلی سکون، دِلی خوشی، محبت، ہمدردی، جذبہ، ایمان اور شوق کیا ہوتا ہے۔

ایک بچے کی ہی مثال لے لیجئیے جو ابھی مکمل بولنے کے قابل بھی نہیں ہوپاتا لیکن اُسکے دِماغ میں یہ بات ٹھونس دی جاتی ہے کہ تم نے ڈاکٹر بننا ہے، یہی تمہارا مقصدِ حیات ہے، اِسی میں تمہاری فلاح ہے۔ تم نے پڑھائی اور محنت کی صورت میں خوب سرمایہ کاری کرنی ہے تبھی اچھے ڈاکٹر بنو گے۔ اور جتنا گُڑھ ڈالو اتنا میٹھا کے مصداق جتنی سرمایہ کاری کرو گے اُتنا ہی نفع۔۔۔ گویا بچے کو بچپن سے ہی بیوپار کے اُصول سکھا دئیے جاتے ہیں۔ یہی بچہ بڑا ہوکر ڈاکٹر بنتا ہے، اپنا ہسپتال نما کارخانہ بنا لیتا ہے۔ اب اِس کارخانہ میں صرف وہی علاج پائے گا جو فیس بھرے گا۔ ہاں۔۔۔ کوئی مرتا ہے تو مرے۔۔۔ علاج تبھی ہوگا جب معاوضہ ملے گا۔ یہی بچہ اگر اُستاد بن جاتا ہے تو سکول نما کارخانہ، جہاں کسی غریب کا بچہ قطعاً تعلیم نہیں پاسکتا۔۔۔ فیس بھرو فیس۔۔۔ یہی بچہ عالم ہے تو علم کا تاجر، قاضی ہے تو انصاف کا تاجر، حاکم ہے تو رعایا اور اُنکے کے حقوق کا تاجر، سپاہی ہے تو ریاست کے امن کا تاجر، فوجی افسر ہے تو سرحدوں کا تاجر اور تاجر بھی ایسا کہ جسکے بنیادی ہتھیار رشوت، سفارش، جھوٹ، فراڈ اور بددیانتی ہیں۔ تبھی میں کہہ رہا ہوں کہ ہم انسان نما ضرور مگر انسان نہیں، درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔

انسان تو وہ ہیں جنہیں انسانیت کے تقاضوں کی نہ صرف پہچان ہے بلکہ وہ باخوبی اِن تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں۔ انسان اتنا خود غرض، لالچی، بےغیرت اور بےحس نہیں ہوتا جتنے آج ہم ہوچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان مشرق سے لے کر مغرب تک ہر جانب ظلم کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ میرے کتنے ہی بےگناہ مسلمان بہن بھائی کفار کی قید میں اُنکے مظالم سہ رہے ہیں۔ اور قید بھی گوانتا ناموبے جیسی جہاں وہ وہ ظُلم ڈھائے جاتے ہیں کہ جسکا تصور ہی لرزا دینے کیلئے کافی ہے۔ ہاں وہ میری ہی قوم کے باشندے ہیں جنہیں برہنہ کر کے برف خانوں میں لٹا دیا جاتا ہے، کتوں کے سامنے پھینک دیا جاتا ہے، پانی کی بجائے خون اور نہ جانے کیا کچھ پلایا جاتا ہے، میری ماؤں اور بہنوں کی عزتیں سینکڑوں مرتبہ لوٹی جاتی ہیں، وہ روز روز کے مرنے سے تنگ آکر اِک ہی مرتبہ مرنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں شکوہ ہے ہم سے کہ اُنکے مسلمان بہن بھائی بےخبر سو رہے ہیں۔ مگر اُنہیں کیا بتلاؤں کہ ہم تو انسان ہی نہیں رہے۔ پھر ہمارے پاس اتنا وقت کہاں کہ کسی کیلئے سوچیں۔ وہ مسلمان جو اللہ کی مدد کی اُمید کا ہتھیار لے کر تمہاری مدد کیلئے اپنے گھروں کو چھوڑ ڈالتے ہیں، ہم تو اُنہیں دہشت گرد اور بیوقوف تصور کرتے ہیں کہ اُنہیں اِس سے کچھ حاصل نہیں۔ ہمارا مذہب، ہمارا ایمان، ہمارا خدا اور ہمارا سب کچھ تو صرف پیسہ ہے پیسہ۔۔۔ ہم تو راتوں کو سونے کی بجائے یہ سوچتے ہوئے گزار دیتے ہیں کہ کیسے اپنا محل بنا لیا جائے، کیسے لمبی گاڑی آجائے، کیسے بڑا عہدہ مل جائے، کیسے فرعون جیسی شان مل جائے، ہم تو زمین کے ایک ٹکڑے کی خاطر اپنی ماں کو گالیاں دے جاتے ہیں، باپ کو جیتا جی مار دیتے ہیں۔۔۔ ہاں۔۔۔ کیا کیا بتلاؤں تمہیں۔۔۔ کہنے کو تو بہت کچھ ہے۔۔۔ مگر تم صرف یہ مان لو کہ ہم انسان نما ضرور مگر انسان نہیں، درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔

آؤ ۔۔۔ چند لمحوں کیلئے ۔۔۔ ذرا دماغ پر زور دو ۔۔۔ اِس بازار کے شوروغل سے ذرا پرے ہٹ کے، اپنے دماغ سے اپنی کاروباری زندگی کے نفع و نقصان، لالچ و خود غرضی کے پردوں کو ہٹاؤ، ذرا ضمیر کی اَکھیوں کو کھولو اور سوچو کہ تم اِس دُنیا میں کیوں آئے؟ کیا تمہارے یہاں آنے کا کوئی مقصد تھا؟ کب تک رہنا ہے یہاں؟ آخر تمہاری اِس زندگی کا انجام کیا ہے؟ یہاں سے جاتے ہوئے ساتھ کیا لے کر جاؤ گے؟ کبھی سوچا کیا یہ تم نے؟ اگر نہیں سوچا تو بخدا آج سوچ لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ تمہاری زندگیوں کا وہ مقصد نہیں ہے جو تم بنا بیٹھے ہو۔ ابھی بھی وقت ہے۔ اِس بیوپار کو چھوڑو اور انسان بن جاؤ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ انسان بن جاؤ!

آزادی

’’چودہ اگست 1947 کو کیا ہوا؟‘‘
’’اِس دِن پاکستان آزاد ہوا تھا‘‘۔ 
 میرے اِس سوال کا  یقیناً یہی وہ جواب ہے جو آپ سب کے دماغوں میں ہوگا۔
’’لیکن پاکستان کے آزاد ہونے کا کیا مطلب؟‘‘
آپ حیران ہورہے ہوں گے کہ یہ آج بھیا کیسے سوالات کر رہا ہے۔
’’برصغیر کے مسلمانوں کو اِک علیحدہ سرزمین ملی جہاں وہ سر اُٹھا کر اِک آزاد زندگی گزار سکتے ہیں۔‘‘
مُجھے پورا یقین ہے کہ آپ کے پاس میرے دوسرے سوال کا جواب یہی ہوگا۔
’’تو کیا ہم آزاد زندگی گزار رہے ہیں؟؟؟‘‘
یہ وہ سوال ہے جسکا جواب میں صرف اور صرف آپ سے سُننا چاہتا ہوں۔۔۔
**************************************************
لقمان میرا  ایک پرانا دوست ہے۔ ہم جب بھی ملتیں ہیں تو پُرانی یادوں کو یاد کر کے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اک کثیر عرصہ بعد کل ہماری پھر ملاقات ہوئی، خوب باتیں ہوئیں۔ باتیں کرتے کرتے لقمان کہنے لگا کہ میں اُن لوگوں کے سخت خلاف تھا جو اپنے دیس اور اپنی سرزمین کے ساتھ بےوفائی کرتے ہوئے پاکستان سے باہر چلے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اب اِسکے خلاف نہیں ہو کیا؟ کہنے لگا کہ نہیں ۔۔۔ قطعاً نہیں۔۔۔ آجکل کے زمانے میں وہ لوگ واقعی عقلمند ہیں۔۔۔ اُسنے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرا خیال تھا جو بھی ہو پردیس تو پردیس ہوتا ہے، وہاں انسان آزادی سے نہیں جی سکتا، ہزاروں مسائل ہوتے ہیں پردیس میں۔ لیکن یہاں آزادی ہے، آپ کھُل کر جی سکتے ہیں۔۔۔۔۔ لقمان نے اِک لمبا سانس لیا اور کہنے لگا کہ  اب  سب اِسکے برعکس ہے۔ انسان پردیس میں جا کر جو زندگی گزارتا ہے وہ یہاں سے کوسوں بہتر ہے۔ میں لقمان کی بات سُن کر مُسکرا دیا۔ اُس نے میرے مُسکرانے کی وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کہ میرے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی ہے اور سو فیصد وہی رائے ہے جو تمہاری۔
**************************************************
میرے گزشتہ دفتر کا بینک اکاونٹ جس بینک کی شاخ میں تھا وہ شاخ راولپنڈی میں جبکہ دفتر اسلام آباد میں تھا لہٰذا دفتر کیلئے بینک سے کوئی بڑی رقم نکلوا کر دفتر لاتے ہوئے پورے سفر اِک عجیب سا خوف طاری رہتا اور یہ خوف اپنی انتہا کو پہنچ جاتا جب میرا گزر اسلام آباد پولیس کی ایک چیک پوسٹ سے ہوتا۔ کیا کوئی مُجھے بتا سکتا ہے کہ یہ کیسا خوف تھا؟ جب آپ کوئی غلط کام نہیں کر رہے تو یہ خوف کیسا؟ کیا یہ پولیس آپکی ہی محافظ نہیں؟

اگر آپ مذہبی شخصیت کےمالک ہیں تو بچ کر رہئیے گا۔ آپ ایک دہشتگرد ہیں۔ بھرے مجمع میں خصوصاً آپکی تلاشی لی جائے گی۔ بیشتر ادارے ایسے ہوگئے جہاں آپکو نماز تک پڑھنے کی آزادی نہیں ۔ یہی حال ہر ایسی عورت کے ساتھ ہے جو پردہ کرتی ہے۔ خصوصاً شرعی پردہ کرنے والی خواتین کو یہاں ہر موڑ پر نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اب تو پبلک پوائینٹس سے لے کر تعلیمی اداروں تک خواتین کے زبردستی نقاب اُتروائے جاتے ہیں۔ دِن بدن اِس دیس میں عورت کی عزت و تعظیم میں کمی آتی جا رہی ہے۔ 
  
آپ مُلک کے جس کونے میں بھی ہوں، آپکو  یا آپکے بچوں کو کوئی بھی بغیر کسی وجہ کے اُٹھا کر لے جا سکتا ہے، یاد رکھئیے! واپسی کے کوئی امکانات نہیں۔ اِن میں پولیس، فوج اور خفیہ ایجنسیاں سرعام ہیں۔ لہٰذا آپکو احتیاط کرنی ہے۔ گھر میں چھُپ کر رہئیے، صرف اپنے کام سے باہر نکلئیے۔   
  
اگر آپ کوئی عہدہ یا مقام چاہتے ہیں تو سفارش اور رشوت کا بندوبست کیجئیے ورنہ اونچے خیالات دماغ سے نکال لیجئیے اور کھپتے رہئیے۔
  
آپ غریب ہیں تو اِس آزاد سرزمین میں آپکی اچھوت سے بڑھ کر کوئی قدر نہیں۔
 
اگر آپ جائز طریقوں سے حلال کمانے کے خواہشمند ہیں اور حرام، جھوٹ، فراڈ، رشوت اور ہر غلط کام سے بچنا چاہتے ہیں تو۔۔۔۔جائیے ڈوب مرئیے۔ 
 
اِن تمام باتوں کے باوجود اگر آپ اِس سر زمین کی خاطر کُچھ کرنا چاہتے ہیں تو موسٹ ویلکم لیکن یہ مت بھولئے گا کہ آپکا انجام کچھ ڈاکٹر عبدلقدیر خان جیسا ہوگا۔۔
  
اوپر  ذکر کئے ہوئے تمام افراد اِس آزاد ریاست کے میرٹ پر پورا نہیں اُترتے لہٰذا آپ یہاں رہنے کے اہل نہیں۔
**************************************************
 اِس آزاد دیس کے آزاد باشندوں کویومِ آزادی  مبارک ہو

باباجی ۔۔۔ بقیہ حصہ

ہم تو سوچتے ہیں کہ باباجی کے کوئی درجن ایک شہزادے ہوتے تو سبھی کمپنی کے کسی نہ کسی عہدے پر براجمان ہوتے۔ جی ہاں۔۔۔۔ کمپنی کے اکاونٹس مینیجر اپنا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ اِک ماہ کی آخیر تاریخوں میں ہم نے حسبِ معمول کمپنی کے عملہ کی تنخواہوں کو مرتب کیا تو باباجی ہم سے مُخاطب ہوئے کہ کیا اس فہرست میں ہمارے چھوٹے شہزادے کا نام بھی ہے؟ نفی میں جواب دینا تو کُجا، ہم تو آنکھیں پھاڑے باباجی کی جانب تکنے لگے۔ جواب ملا کہ کیا آپکو نہیں معلوم ہمارا سترہ سالہ شہزادہ ہماری کمپنی کا نیا ڈرافٹس مین ہے۔ وہ اس ماہ ہماری کمپنی کے فلاں ڈیلر کے پاس بیٹھ کر اپنی خدمات سرانجام دیتا رہا ہے۔ لہٰذا اُسکی تنخواہ کا بھی شمار کیا جائے۔ تفتیش کرنے پر وہ ڈیلر بچے کا تایا نکلا۔ باباجی کے جانے کے بعد ہم نے چھوٹے شہزادے کا موبائل نمبر تلاش کیا اور کال ملائی، سلام دُعا کے بعد جناب سے پوچھا کہ حضرت دفتری اوقات میں کہاں غائب ہیں؟ آخر کو وہ کمپنی کے عملہ کا حصہ تھے اب، یہ پوچھنا ہمارا حق بنتا تھا۔ دوسری جانب سے جواب ایسی معصوم آواز میں موصول ہوا گویا نائیٹ پیکیچ کروا کر ہم کسی بچی سے گپیں مار رہے ہیں۔ ’’ جی۔۔۔ وہ۔۔۔۔ ابھی باجی کو یونیورسٹی سے لے کر آرہا ہوں۔ خیریت تو ہے نا؟ ‘‘ اب ہم کیا کہتے کہ بیٹا دفتر تشریف لائیے، یہ وقت باجیوں کو یونیورسٹی سے لانے کا نہیں بلکہ دفتر میں کام کرنے کا ہے۔ آخر کو آج جناب کی تنخواہ جو تیار ہورہی تھی۔
حساب کتاب کے مینیجر مزید فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم حسبِ معمول اپنی نشست پر براجمان تھے کہ باباجی کی جانب سے ہمارا بلاوا آیا۔ جناب کے پاس حاضری دی تو معلوم ہوا کہ جناب کسی ادارے کے ٹینڈر کیلئے دستاویزات تیار کر رہے ہیں اور ہمیں باباجی کا دستاویزات تیار کرنے کا یہ مرحلہ نہایت دلچسپ لگا۔ جناب نے انٹرنیٹ سے کُچھ متعلقہ مواد ڈانلوڈ کیا اور پھر نقل کرنے لگے، وہی اجزاء، وہی مواد اور وہی قیمتیں اب جناب کی کمپنی کے دستاویزات کا حصہ تھیں۔ ہمارے شیر انجینئیر نے دوبارہ جسارت کرتے ہوئے باباجی کی عقل میں پھونک مارنے کی کوشش کی کہ جناب جس منصوبے کے ٹینڈر کیلئے آپ یہ دستاویزات تیار فرما رہے ہیں، اُسکیلئے ہمیں کُچھ مختلف مواد کی ضرورت ہوگی اور جو قیمتیں آپ چھاپے جا رہے ہیں وہ آج سے کئیں سالوں قبل کی ہیں، اگر ایسا ہی ٹینڈر بھرا تو منصوبے پر کام کرنا دُشوار ہوجائے گا۔ یہ کہنا تھا کہ باباجی کی کہانیاں شروع۔۔۔۔۔ کہ ہم نے فلاں فلاں منصوبوں پر کام کیا۔۔۔۔۔ یہ ہمارا طریقہ ہے۔۔۔۔۔ آپ ان باتوں کو نہیں سمجھیں گے۔۔۔۔۔ خیر باباجی ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ جو حساب کتاب ہم نے کیا، اسکا کُل کیجئیے کہ کتنا بنتا ہے۔ ہم نے بتایا کہ جناب یہ تو اتنا بن رہا ہے۔ کہنے لگے کہ نہیں یہ کُچھ زیادہ ہوگیا آپ ایسا کیجئیے کہ جو رقم سب سے بڑی ہے وہ بتائیے۔ ہمارے بتانے پر کہنے لگے کہ اس میں سے اتنے لاکھ کم کر دیجئیے، ہم نے ایک مرتبہ بلے جیسی موٹی موٹی آنکھوں سے باباجی کی جانب دیکھا اور پھر اُس رقم کو کم کردیا۔ خیر کُل کرنے پر جناب کو رقم پھر کافی بڑی لگی اور یوں یہ کھیل بار بار دُہرایا گیا۔۔۔۔ کوئی مانے نہ مانے۔۔۔۔ ہم تو اس کھیل سے بہت لُطف اندوز ہوئے۔۔۔۔
خیر ان تمام باتوں کے باوجود تقدیر باباجی کو کرنل کی وساطت سے رزق مہیا کئیے جا رہی ہے اور باباجی آجکل ہواؤں میں اُڑے جارہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ آج نہیں تو کل باباجی جتنی اُونچائی سے زمین پر آگریں گے اُتنی ہی اُونچی ڈھزززززز ہو گی۔
خیر لیجئیے باباجی کا ایک کارنامہ مزید سُنتے جائیے۔۔۔ حسبِ معمول تمام عملہ دفتر میں بیٹھا مکھیاں مار رہا تھا وہ بھی اس ہوشیاری سے کہ دیکھنے والا سمجھنے لگے، ہو نہ ہو کشمیر تو اسی کمپنی نے فتح کرنا ہے۔ اچانک کُچھ خواتین زبردستی دفتر میں گھُسی آئیں۔ یہ خواتین دیکھنے سے کسی اچھے گھرانے سے تعلق رکھنے والی معلوم ہوتی تھیں مگر تھیں پیشہ ور بھکاری۔ وہ اکثر دفتر تشریف لاتیں اور پوچھنے پر بتاتی کہ ہمیں باباجی سے ملاقات کرنی ہے، عملہ کا ایک بندہ تو کہنے لگا کہ میں سمجھا یہ باباجی کی گھروالیاں ہیں لہٰذا کُچھ نہیں کہا۔ اتفاق سے وہ مانگنے والیاں جب بھی آتیں تو باباجی دفتر میں موجود نہ ہوتے لیکن آج بزرگوار بھی تشریف فرما تھے۔ مانگنے والیاں سیدھی باباجی کے پاس حاضر ہوئیں اور مالی امداد کی التجاء کرنے لگی۔ باباجی غُصے میں بولے کہ آخر چاہتی کیا ہو تم؟ اُن میں سے ایک بولی جناب ہماری مدد فرما دیجئیے۔ آہا۔۔ ہا۔۔ ہا۔۔۔ باباجی نے کیا پاکیزہ جواب دیا۔۔۔۔ کہنے لگے کہ جس مدد کی تم بات کرتی ہو وہ تو میں صرف اپنی بیوی کی کرتا ہوں۔۔۔۔ وہ دِن اور آج کا دِن، مانگنے والیاں مُڑ کر دوبارہ کبھی نہیں آئیں۔ شائید وہ باباجی سے ذیادہ عزت دار نکلیں۔ باباجی کی اس حاضر دماغی کو ہماری جانب سے دُر سلام۔
ہم اگر باباجی کے گُن گانے لگے تو کی بورڈ گھِس جائے گا، بجلی چلی جائے گی، لیپ ٹاپ کی چارجنگ مُک جائے گی لیکن ہمارے باباجی کی تعریف میں یہ قصیدے ختم ہونے کا نام نہیں لیں گے۔ خیر وہ دِن اور آج کا دن، ہم کسی بھی پاکستانی مصنوعات کو دیکھتے ہیں تو دماغ فوراً چھلانگیں مارنے لگتا ہے کہ ضرور اس مصنوعات کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی باباجی تشریف فرما ہوں گے۔

باباجی

بابا جی نے ساری زندگی نہایت تکالیف و مصائب کا سامنا کرتے ہوئے گزاری۔ لیکن اب تقدیر مہرباں ہوئی اور باباجی کو ایک ریٹائرڈ کرنل سے ملاقات کا اتفاق ہوا۔ کرنل بھی ایسا کہ جسکو دیکھ کر ہم ہمیشہ بدگمانی کا شکار ہوئے جاتے اور کرنل اور مُملکتِ زرداریوں کی فوج کے درمیان موازنہ کرنے لگتے۔ آخر اس نتیجے پر پہنچتے کہ ہمارے دیس کی فوج تو قطعاً ایسی مہذب ہو نہیں سکتی، یقیناً یہ کرنل بگڑا ہوا ہے جس میں انسانیت اور شرافت ابھی بھی کافی حد تک رچ بس رہی ہے۔ خیر۔۔۔ باباجی نے کرنل کے عُہدے، جیب اور اُسکے اس بگڑے پن ہمارا مطلب ہے کہ شرافت سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی۔ چند ملاقاتوں کے بعد باباجی نے کرنل کو اپنی ایک ٹھیکیدارانہ نوعیت کی کمپنی بنانے پر رضامند کر لیا۔ دونوں نے شراکت داری بھی ایسی کی، کہ جسکی سمجھ آج تک ہمارے اس ناقص دماغ میں نہیں آئی۔ آسان الفاظ میں بتائے دئیے دیتے ہیں کہ سرمایہ داری ساری کرنل کی اور منیجمنٹ باباجی کی۔
دراصل باباجی پیشے سے ایک ٹھیکیدار تھے لیکن اب کرنل سے ملاقات کے بعد اپنی ٹھیکیداری کو مُکمل بھُلا چُکے ہیں۔ کرنل نے دفتری اور قانونی کاغذوں میں اپنے آپکو مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم۔ڈی) کہلوانا شروع کردیا، یہ دیکھا دیکھی باباجی کو بھی شے چڑی اور اُس دن کے بعد باباجی بھی کپمنی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل کہلوانے لگے۔ ٹھیکیداری کے دور میں باباجی کی کُل تعلیم فقط ایک ڈپلومہ تھا لیکن ڈائریکٹر ٹیکنیکل بننے کے بعد دفتری کاغذوں میں باباجی کے نام کے ساتھ مکینیکل انجینئیر لکھا جانے لگا۔ ٹھیکیداری کے دوران باباجی نے مُختلف ٹھیکیداروں کے جو جو بڑے بڑے قصے سُنے اب وہ تمام باباجی کی شخصیت کے ساتھ منسلک ہونے لگے۔ جی ہاں! دفتری عملہ ہو یا کسی محکمہ میں کوئی میٹینگ، اب باباجی کی ہر بات کا آغاز اپنے تجربات سے ہی ہونے لگا اور تجربات کی فہرست بھی ایسی کہ جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لے۔ ہر ایسا منصوبہ جو انکے کسی جاننے والے یا کسی بڑے ٹھیکیدار نے مکمل کیا ہو اب وہ باباجی کا ہی کارنامہ کہلانے لگا۔
باباجی نے کُرسی پر تشریف رکھنے کے بعد ایک اچھے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے برابر کی کُرسی اپنے جانشین کیلئے مُختص فرما دی۔ جی ہاں اپنے شہزادہ کو اماں کی گود سے اُٹھوا کر دفتر میں بلوایا اور جناب کی کُرسی پر پراجیکٹ مینیجر کی تختی لگوا دی۔ ہم تو سوچتے ہیں کہ بچہ تو ہکا بکا رہ گیا ہوگا کہ ارے یہ ہمارے ساتھ ہوا کیا۔ ہم تو ابھی بھی جناب کو یاد کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا منہ میں چوسنی ڈالے پراجیکٹ مینیجر کمپنی کے تمام برتن توڑے جارہا ہے۔۔۔ ارے جی کمپنی کے برتن تو کمپنی کے معاملات ہی ہوتے ہیں نا۔۔۔ تو سمجھ ہی جائیے۔۔۔ خیر عملہ میں سے ہمارے اِک باہمت شیر نے پراجیکٹ مینیجر کی تعلیم پوچھنے کی جسارت کی تو معلوم ہوا کہ جناب ایک انجینئیر ہیں یہ علیحدہ بات ہے کہ بغل میں ڈگری نہیں۔۔۔ بقول جناب کے، یونیورسٹی کا (پی۔ای۔سی) پاکستان انجنئیرنگ کونسل سے کوئی لانجھا چل رہا ہے جسکی وجہ سے طلبہ کو ڈگری کے بغیر ہی فارغ کیا جا رہا ہے۔ ایسی بھی کوئی بات نہیں، ہمیں جناب کی زبان پر پورا بھروسہ ہے، کہہ رہے ہیں تو سچ ہی ہوگا۔ آخر ہوئے جو ایک مہذب پاکستانی، بھروسہ کر کے لِتّر کھانا ہماری ایک پُرانی عادت ہے۔  

(جلدی کا کام شیطان کا، لہٰذا انتظار فرمائیے۔ بقیہ حصہ جلد ہی شائع کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ )

ہمارا قصور

میں ٹیلیویژن آجکل بہت کم دیکھ پاتا ہوں۔ کوئی خاص خبر وغیرہ ہو تو انٹرنیٹ کی وساطت سے ہی تفصیلات جان لیا کرتا ہوں۔ آج بھی میں کسی کام سے گھر سے باہر گیا ہوا تھا، جوں ہی گھر میں داخل ہوا تو خبر ملی کہ اُسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے دوران ہلاک ہوگیا۔ اتنی بڑی خبر سُن کر میں نہ صرف ہکلا گیا بلکہ بہت سے سوالات بھی ذہن میں گردش کرنے لگے۔ ۔ ۔

اُسامہ بن لادن پاکستانی حدود میں ہلاک؟

امریکی فوج کا آپریشن؟

جس میں امریکی ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا؟

وہ بھی ایبٹ آباد جیسے علاقہ میں؟  

انہی سوالات کے حصولِ جوابات کیلئے میں نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا اور نیٹ گردی شروع کردی۔ مُختلف ویب سائیٹس پر تفصیلات پڑھنے کے بعد بھی میرے دماغ کی اُلجھنیں وہیں گردش کر رہی تھیں۔ بالآخر مُجھے احساس ہوا کہ یہ سب ڈرامہ ہے جس میں حقیقت کا کوئی پہلو نہیں۔ جہاں تک بات ہے اُسامہ بن لادن کی اُس فوٹو کی جو میڈیا بار بار دِکھا رہا ہے تو اُسکی حقیقت فقط یہ ہے:

آپ فوٹوشاپ کی مدد سے کسی بھی تصویر کو کوئی بھی رُخ دے سکتے ہیں۔ یوں تو کوئی بھی بچہ کل کو اوبامہ کی یہ تصویر بھی دُنیا کے سامنے لا کر کہہ سکتا ہے کہ میں نے باراک اوبامہ کو ہلاک کر دیا۔ تصویر ملاحضہ کیجئیے:
انٹرنیٹ پر یوں ہی مُختلف خبریں اور تفصیلات پڑھتے پڑھتے میں یاہو کی ویب سائٹ پر ایک متعلقہ خبر تک پہنچا، اُسکی تفصیلات پڑھیں اور پڑھنے کے بعد نیچے کئے گئے تبصرے پڑھنے لگا۔ چند تبصرے پڑھے تو مزید تبصرے پڑھنے پر بھی مجبور ہوگیا۔ ایک صفحے پر موجود تمام تبصرے پڑھنے کے بعد جب اگلے صفحے کو کھولاتو تبصروں کی تعداد میں سینکڑوں گناہ اضافہ ہوچُکا تھا۔ میں جوں جوں اگلا صفحہ کھولتا گیا، تبصرے سینکڑوں کی تعداد میں بڑھتے گئے۔ نہ جانے وہ کس رفتار سے بڑھ رہے تھے مگر میں فقط یہ جانتا ہوں کہ پوری دُنیا سے لوگوں کی اِک کثیر تعداد وہاں بیک وقت تبصرے کئے جارہی تھی۔ انٹرنیٹ پر اس تلاش کے دوران کسی خبر یا کسی تحریر نے میرا اتنا وقت نہیں لیا جتنا کہ ان تبصروں نے۔ کسی خبر یا تحریر کے پڑھنے سے میرا لہو گرمایا نہ ہی میرے جزبات میں کوئی اضافہ ہوا مگر یہ تبصرے پڑھ کر مُجھے اپنی ایک پوسٹ ’’ریمنڈ کی رہائی پر تاثرات‘‘ میں ایک دوست کا وہ جملہ یاد آگیا جو اُسنے فیس بُک پر ریمنڈ ڈیویس کی رہائی کے موقع پر کہا تھا:

Ashamed.... I don't want to be a Pakistani any more

مزید کُچھ کہنے سے قبل میں آپکے سامنے انہی تبصروں کی کُچھ تصاویر پیش کررہا ہوں ۔ ۔ ۔







جی ہاں پوری دُنیا خصوصاً امریکی عوام کا بچہ بچہ مُجھے گالیاں دے رہا ہے۔ کیونکہ پاکستان کو ملنے والی ہر گالی مُجھے مل رہی ہے، آپ کو مل رہی ہے اور اس دیس کے ہر اُس بچے کو مل رہی ہے جسکا آج دنیا میں روزِ اوّل ہے اور ہر اُس ضعیف العمر شخص کو مل رہی ہے جو آج اس دُنیائے فانی میں اپنی زندگی کے آفتاب کو غروب ہوتا ہوا دیکھ رہا ہے۔ میرے خیال سے مُجھے یہ بتانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں کہ ہمارا قصور کیا ہے۔ ۔ ۔

ریمنڈ کی رہائی پر تاثرات


ریمنڈ ڈیویس کی رہائی کے بعد فیس بُک پر چند دوستوں کے خیالات۔۔۔۔  










درندہ صفت

یحیٰ کا آپریشن الحمدللہ کامیابی سے ہوگیا ہے اور اب تو وہ گھر بھی آگیا لیکن تاحال بیڈ پر ہی ہے۔ پہلے اُسکی ٹانگ کے نیچے تین تکئیے رکھے جاتے تھے جبکہ اب ڈاکٹروں نے اُنہیں تین سے کم کر کے ایک کرنے کا کہا ہے۔ اِس سے آپ اُسکی موجودہ حالت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

خیر بڑھتا ہوں اُس بات کی جانب جس نے آج مجھے لکھنے پر مجبور کیا۔ دراصل آپریشن کے بعد یحیٰ کو جس وارڈ میں منتقل کیا گیا، وہیں کچھ فاصلے پر ایک اِکیس سالہ لڑکی اپنے بیڈ پر لیٹی تکلیف سے بلبلا رہی تھی۔ نوجوان لڑکی کی تکلیف ناقابلِ دید تھی اور اُسکی ماں آنسو بہاتے ہوئے اُسے بار بار دلاسا دے رہی تھی۔ باپ نہایت بے چینی کے عالم میں ڈاکٹروں کے پاس چکر لگارہا تھا۔ غرض مجھ جیسے نازک دِل انسان کیلئے یہ پورا منظر دیکھنا ہی نہایت اذیت کا سبب بنا۔
یہ نوجوان لڑکی ایک پرائیویٹ فرم میں ملازمت کرتی ہے۔ ایک دن دفتر جانے کیلئے بس سٹاپ پر کھڑی تھی کہ کچھ لفنگے ایک گاڑی میں آئے اور جاتے جاتے لڑکی کو ٹکر مار گئے۔ نجانے اُنہوں نے شرارت سے مارا یا ظالموں کو کوئی دُشمنی تھی یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن نوجوان لڑکی اور اُسکے والدین کی سینکڑوں بد دُعائیں ہمیشہ کیلئے ساتھ لیتے گئے جو شاید اُنہیں پوری زندگی چین سے نہ بیٹھنے دیں۔ مریضہ کے والدین کہتے ہیں کہ ہم بچی کو شہر کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹر سے ملے تو وہ کہنے لگا کہ یہ سرکاری ہسپتال ہے۔ یہاں علاج کروایا تو ایک لمبا عرصہ لگ جائے گا۔ چند پیسوں کی بچت کی خاطر آپ کہاں اتنا انتظار کرتے رہیں گے؟ لہٰزا بہتر یہی ہے کہ شام کو میرے پرائیویٹ ہسپتال آجائیے، وہاں جلد آپریشن ہو جائے گا۔ یہ کہہ کر ڈاکٹر نے اپنا ویزیٹینگ کارڈ ہمارے ہاتھ میں تھمایا اور باقی مریضوں کی جانب بڑھ گیا۔
والدین کا کہنا ہے کہ بچی کا رشتہ بھی طہ پایا ہوا ہے۔ ہمیں اس بات کا ڈر تھا کہ اگر کسی سرکاری ہسپتال سے علاج کروایا اور خداناخواستہ کچھ دیر ہوگئی تو کہیں لڑکے والے رشتہ ہی نہ توڑ دیں۔ بس یہی سوچ کر ہم ڈاکٹر کے پرائیویٹ ہسپتال پہنچ گئے۔ ڈاکٹر نے آپریشن کیلئے ایک بڑی رقم کا مطالبہ کیا جسکا بندوبست کرنا ہمارے لئے نہایت مشکل امر تھا۔ خیر جس طریقے سے ہم نے ڈاکٹر کی فیس ادا کی یہ ہم ہی جانتے ہیں یا پھر ہمارا رب۔ ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کے بعد بھی بچی کی تکلیف میں کوئی کمی نہ ہوئی۔ پہلے تو ہم سمجھے کہ شاید رفتہ رفتہ صحت بہتر ہو جائے گی لیکن تکلیف میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا گیا لہٰذا ہم بچی کو  شہر کے ایک اور بڑے ہسپتال لے گئے جہاں کچھ ابتدائی علاج کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچی کی ٹانگ میں نقلی راڈ ڈالا گیا ہے لہذا دوبارہ آپریشن کر کے اُسکو نکال کر نیا راڈ ڈالا جائے گا۔
والدین کیلئے ایک تو بچی کا غم، دوسرا بچی کے رشتے کی فکر کہ کہیں وہ یہ نہ کہیں کہ فقط پیسے کی بچت کی خاطر دیر کر رہے ہیں۔ بس یہی سوچ کر پیسے کی فکر کئے بِنا جتنا جلد ممکن ہوسکے علاج کروانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن ایک متوسط خاندان کیلئے اتنی بڑی رقوم کا بندوبست کرنا کتنا آسان ہے؟ یہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں۔

جب سے اس واقعہ کا علم ہوا، بار بار میرے ذہن میں وہ لمحات کسی ویڈیو کی طرح گردش کرنے لگ جاتے ہیں کہ لڑکی اپنے بیڈ پر لیٹی تکلیف سے بلبلا رہی ہے، ماں آنسو بہاتے ہوئے بچی کو تسلی دے رہی ہے اور باپ سخت پریشانی کے عالم میں ڈاکٹروں کے پیچھے بھاگ دوڑ رہا ہیں۔ پھر سوچتا ہوں اِس اسلامی جمہوریہ کے اِن درندہ صفت باشندوں کے بارے میں جو فقط اپنے پیٹ کے خداؤں کی بھوک کو مِٹانے کیلئے دوسروں کا گوشت بھی کھا جاتے ہیں اور اِنہیں خداؤں کی پیاس بُجھانے کیلئے ہر لمحہ دوسروں کا خون پینے کیلئے بھی تیار رہتے ہیں، پھر بھی نہایت پُر اُمید انداز میں اس مُلک پر چھائی گھٹا کے جلد ہی چھَٹ جانے کی پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔

یحیٰ

یحیٰ کے والد ائیر فورس سے ریٹائیرڈ ہیں اور محلے کی مین سٹریٹ میں دو دوکانوں کے مالک بھی ہیں۔ ماہانہ پینشن اور دوکانوں کا کرایہ ہی انکی کُل آمدنی ہے جسکی مدد سے وہ نہ صرف سفید پوشی سے زندگی بسر کر رہے ہیں بلکہ اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلوا کر اپنا فرض احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ پانچ وقت کے نمازی اور نہایت نیک انسان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یحیٰ بھی اِک خوش مزاج‘ نیک سیرت اور نہایت اچھے اخلاق کا نوجوان ہے۔
یحیٰ کے والدین اپنے بیٹے سے بے حد پیار کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے چھ بیٹیوں کے بعد اُنکو ایک بیٹے کی خوشی  سے نوازا۔ اُسکی حیثیت  اِن چھ بہنوں کے درمیان ایک چمکتے دمکتے چاند کی سی ہے۔ جسکی چاندنی اور ٹھنڈک میں وہ پورا گھرانہ ہنستا مسکراتا زندگی بسر کر رہا ہے۔ یحیٰ کے والدین کی پوری کوشش ہے کہ یحیٰ پڑھ لکھ کر کچھ بن جائے تاکہ وہ نہ صرف بڑھاپے میں اُنکے سہارے کا ذریعہ بن سکے بلکہ معاشرے میں اُنکو بھی عزت سے سر بلند کرنے کا موقع مل سکے۔ غرض یحیٰ کے والدین کی تمام تر اُمیدوں کا مرکز اور اُنکی خوشیوں کا باعث تنِ تنہا یحیٰ ہے۔
----------------------------------------
دفتر سے گھر لوٹا تو چھوٹے بھائی نے نہایت جلدی میں سلام کیا۔ ابھی میں سلام کا جواب بھی نہ دے پایا تھا کہ کہنے لگا: ’’بھائی آپکو علم ہوا؟ وِو۔۔ وو۔۔۔ وہ۔۔۔‘‘ بھائی کی اس حد تک ہچکچاہٹ اور گبراہٹ دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ ضرور کوئی نہایت اہم بات پیش آئی ہے۔ ابھی میں مزید کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ بول پڑا: ’’وہ یی۔۔۔یی۔۔ یحیٰ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔‘‘

یحیٰ موٹرسائیکل پر سوار یونیورسٹی جا رہا تھا کہ راستے میں اُسکا ایک پِک اَپ سے ایکسیڈینٹ ہوگیا۔ پِک اَپ کے ڈرائیور نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فوراً جائے وقوعہ سے غائب ہوگیا لیکن  اُسے کیا معلوم کہ وہ جاتے ہوئے نہ صرف ایک ہنستے مسکراتے گھرانے کی مسکراہٹوں اور خوشیوں کو لوٹ گیا بلکہ چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی، بوڑھے والدین کے تنِ تنہا سہارے، یحیٰ کو ایک ٹانگ سے محروم کر گیا۔۔۔۔
یحیٰ کے گھر عیادت کیلئے گیا تو اُسکے والد کے چہرے کو پہلی مرتبہ اتنا بُجھا ہوا پایا۔ انکل نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے معمولی علاج کے بعد یحیٰ کو گھر بھجوا دیا۔ بےحد اصرار پر بھی وہ یحیٰ کو ہسپتال میں ایڈمٹ نہیں کر رہے۔ پورا دن بچے کو تڑپتا چھوڑ کر ہسپتال میں بھاگتا دوڑتا رہا کہ شائید کوئی سُن لے لیکن اُن کے کان پر تو جوں تک نہیں رینگتی۔ اگر یحیٰ کا آپریشن وقت پر نہ ہوا تو۔۔۔۔ یہ کہہ کر انکل نے سر جھُکا لیا اور اپنے آنسو پونجھنے لگے۔ میں نے آج سے پہلے اُنکو اتنا مایوس اور اُداس کبھی نہیں دیکھا تھا۔ چند لمحوں کے بعد انکل نے سر اوپر اُٹھایا اور کہنے لگے: ’’اب سوچ رہا ہوں کہ کوئی سفارش ڈھونڈوں تاکہ وہ لوگ میرے بچے کو ایڈمٹ کر لیں۔ میری نہیں سنتے کسی بڑے آدمی کی تو سُن لیں گے نا۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا اور جھکے سر کے ساتھ زمین کو گھور گھور کر دیکھنے لگے۔

Powered by Blogger.
۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...