Showing posts with label بُری عادت. Show all posts
Showing posts with label بُری عادت. Show all posts

بدلتے مزاج

’’تم بدل گئے ہو۔۔۔‘‘
’’آپ بہت تبدیل ہوگئے ہیں۔۔۔۔‘‘
’’تم پہلے جیسی نہیں رہی۔۔۔۔۔‘‘
اِس مختصر سی زندگی میں یہ وہ جملے ہیں جو آپ نے عموماً سُنے یا کہے ہوں گے۔ دراصل انسان اور زندگی کی مثال صحرا کے ریت کے ذروں اور آندھیوں کی مانند ہے۔ زندگی نام ہی اِن آندھیوں کا ہے جو اپنے ساتھ ریت کے ذرات کو اُڑائے پھرتی ہیں۔ گویا زندگی جب اپنے تیور بدلتی ہے تو انسان کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ انسان کتنا ہی ہنس مُکھ کیوں نہ ہو، زندگی کے یہ طوفاں اُسکو سنجیدہ مزاج بنا دیتے ہیں، انسان کتنا ہی دولتمند کیوں نہ ہو، یہ طوفاں اُس سے پلک جھپکنے میں سب کچھ چھین لیتے ہیں، اِک راہگیر کو شہنشاہ اور شہنشاہ کو راہگیر بنانا اِن طوفانوں کیلئے قطعاً دُشوار نہیں، خوشیوں کو غموں اور غموں کو خوشیوں میں بدلنا، یہ سب اِن طوفانوں کا معمول ہے۔ لہٰذا میرے خیال میں اگر اِک انسان خوش مزاج ہے تو اِس میں اُسکا ذاتی کوئی کمال نہیں۔ اِسکے برعکس وہ جو تنہائی پسند اور سنجیدہ مزاج ہے، اِس میں بھی اُسکا ذاتی کوئی قصور نہیں، یہ سب زندگی کے طوفانوں کا کمال ہے جنہوں نے اِس انسان کو بدل کر رکھ دیا۔
دوسرے پیرائے میں دیکھا جائے تو درحقیقت اِن طوفانوں کے پیچھے قدرت کا ہاتھ ہے جو بذریعہ زندگی کے طوروخم، اِنسان کی شخصیت کو بدل ڈالتی ہے۔ قصۂ مختصر، تمہید سے مقصود، جب انسان کی شخصیت اور اُسکے مزاج کی تخلیق یا بدلنے کی بنیادی وجہ زندگی کے طوروخم اور حالات ہیں تو ہمیشہ انسان کو ہی اُسکے مزاج پر کیوں کوسہ جاتا ہے؟ مانتا ہوں قدرت کی رضا کے مطابق انسان کے بس میں بھی مزاج کی بہتری کی سعی کرنا ہے لیکن پھر بھی عموماً زندگی کے مسلسل طوفاں اِنسان کی مثبت کوششوں کو بھی ہوا کر دیتے ہیں۔ وہ چاہے کتنا ہی معاشرے میں گھُل مل کر جینا چاہے، دوست یاروں کے شوروغل میں اپنے قہقہوں کو بلند کرنا چاہے، حالات اُسکو تنہائی پسند بنا ہی دیتے ہیں اور اپنے مزاج میں مزاح پیدا کرنے کی وہ کتنی ہی جستجو کیوں نہ کرے، یہ طوفاں پلک جھپکنے میں اُسکو سنجیدگی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اِس تمام کے برعکس وہ انسان جسکو تنہائی، سنجیدگی اور خاموشی سے نفرت ہو اور جس کا ہر پل مزاح، شرارتوں اور یاروں میں گزرے، اِس میں بھی اُسکا نہیں بلکہ حالات کا کمال ہے جنہوں نے اُسکی خوشیوں اور شریر مزاجی کو قائم رکھا ہوا ہے۔
---------------------------------------------------------
آپ میرے مؤقف سے کس حد تک اتفاق کرتے ہیں اور اگر نہیں تو کیوں؟ اِن خیالات کا اظہار تبصرے کے صورت میں کیجئیے۔

بھیا کی تہہِ دِل سے دُعا ہے کہ اللہ تبارک وتعٰلی مُجھ سمیت آپ سب کی زندگیوں کی ایسے طوفانوں سے حفاظت فرمائے رکھے جو اپنے ہمراہ آپکی خوشیوں، راحت، رشتوں اور رشتوں کے پیار کو بھی اُڑا لے جائیں۔ اِسکے برعکس میری تمام چنچل، شریر اور خوش مزاج افراد سے گزارش ہے کہ اپنی خوشگوار زندگی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے ایسے افراد پر تنقید سے پرہیز کیجئیے جو زندگی کے طوفانوں کے پے در پے وار سے نڈھال، ہمت کھو بیٹھے ہیں، جو مایوسی کی فضا میں اِک خاموش زندگی بسر کرتے ہوئے مُسکراتے تو ہیں لیکن اِنکی ہر مُسکراہٹ اور قہقہے کے پیچھے بھی اِک درد چھُپا ہوا ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ایسے افراد کیلئے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکال کر اِن سے پیار و محبت کے بول بولئیے، اِنکے غموں کو سُنئیے اور اپنی خوشیوں کو اِن سے بانٹنے کی سعی کیجئیے۔ ہوسکتا ہے آپکا یہ عمل آپکی خوشیوں، راحت اور کامیابیوں میں اضافے کا باعث بنے۔

انسانی آئینہ کی تلاش

میں اِک کثیر عرصہ سے کسی ایسے انسانی آئینہ کی تلاش میں ہوں جس میں مُجھے اپنا عکس نظر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ جس انسان سے بھی ملتا ہوں، اُس میں اپنا آپ ڈھونڈنے لگتا ہوں۔ کچھ انسان جو دِل کو بھا جاتے ہیں، جن کی کچھ ادائیں دِل میں گھر کر لیتی ہیں، میں اپنی جان، مال اور وقت کی پروا کئے بناء اُنکے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہوں اور گر چند لمحوں کیلئے اُنکا ساتھ نصیب ہو جائے تو اُن میں اِک عادل تلاش کرنے لگتا ہوں۔ ہاں اُنکی چھوٹی چھوٹی عادات میرے مشاہدے سے گزرنے لگتی ہیں کہ شائید کوئی عادت مجھ سے مشابہ ہو۔ میں اِس سفر میں بہت سے افراد سے ملا جن میں بچوں سے لے کر جوان اور ضعیف العمر مردوخواتین شامل ہیں۔ کچھ لوگوں کے قریب ہوتے ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ مجھ میں اور اِن میں زمین آسمان کا فرق ہے لہٰذا میں واپسی کی راہیں ہموار کرنے لگتا ہوں جبکہ کچھ افراد سے مل کر اپنا آپ سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ میں اُنکی عادات کا مزید گہرائی میں مشاہدہ کرنے لگتا ہوں۔ ایسے میں کسی کی سوچ کا کچھ حصہ مُجھے اپنی سوچ سے اور کسی کی کوئی ایک یا زائد عادات مُجھے اپنی عادات سے ملتی جلتی دِکھائی دینے لگتی ہیں۔ خوشی تو تب ہوتی ہے جب ایک فرد کی بیشتر عادات اور سوچ، میری عادات اور سوچ سے مشابہ ہوں۔

افسوس اِس بات کا ہے کہ اِس سفر میں ہمیشہ ایک ہی نتیجہ نکلا کہ اِس دُنیا میں دو اِنسان قطعاً ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ ایسا کوئی نہ کوئی موڑ ضرور آتا ہے جہاں میں دائیں کو جانا چاہوں گا اور میرا ہمسفر بائیں کو۔ اِس نتیجہ سے مایوس ہو کر نجانے کتنی ہی مرتبہ یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ اب یہ سفر طے کرنا چھوڑ دوں۔ لیکن شائید کسی ایسے انسان کی یہ تلاش میری فطرت میں ہے۔ مُجھے یوں محسوس ہوتا ہے گویا جس اِنسان کی مُجھے تلاش ہے وہ مل جائے گا لیکن پھر یہ سوچ کر اپنے ہی لئے لبوں پر اِک مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ شائید یہ اپنی بیوقوفی پر اِک طنزیہ مسکراہٹ ہوتی ہے کہ اِس سفر میں جو نتیجہ ہمیشہ سے نکل رہا ہے میں ابھی بھی اسکی نفی کرتے ہوئے اُس سے مخالف نتیجہ کی اُمید رکھتا ہوں۔ اِس سفر کا ایک نقصان، میرا ہر دوسرے شخص سے بے پناہ مخلص ہو جانا ہے۔ اِس مخلصی میں میں نے ہمیشہ دوسروں کی ذات کو اپنی ذات پر ترجیح دی، اپنے قیمتی وقت میں سے دوسروں کیلئے وقت نکالا، ممکنہ حد تک اُنکے معاملات میں اُنکا ساتھ دیا، اُن کیلئے ہمیشہ مثبت سوچ رکھی۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ اِس سب کے باوجود اِسی مخلصی میں متعدد بار ڈسا جاچکا ہوں۔ لہٰذا یہ جاننے کے باوجود کہ ہر کسی کی فطرت، محسوسات (Feelings)، عادات، جذبات اور سوچ کا یہ مشاہدہ شائید میری فطرت بن گئی ہے یا نجانے عادت، اب اِک مرتبہ پھر میں نے اپنے اِس سفر کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے!!

مگر اِس سفر کی حسین یادوں کو میں کبھی بھُلا نہ پاؤں گا۔ مُجھے خوشی ہے کہ میں نے اِس عرصہ کے دوران بہت سے لوگوں کی فطرت کو پڑھنے کی کوشش کی۔ بیشتر اوقات اپنے آپکو دوسروں کی جگہ رکھ کر بھی سوچا جسکے نتیجے میں میں نے ہمیشہ بہت کچھ پایا اور سیکھا۔ میرے نزدیک میرے اِس سفر نے مُجھے نہ صرف بہت اطمینان اور سکون دِلایا بلکہ اِس دُنیا کی بہت سی پوشیدہ حقیقتوں اور اُصولوں سے بھی روشناس کروادیا۔ بلاشبہ یہ اِک حسین سفر تھا

نوجوانوں کیلئے

’’بیٹا آپ۔۔۔۔ کیسے ہو؟ ‘‘ اُنہوں نے گیٹ کھولا اور مُجھے دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’جی۔۔۔۔ الحمدُللہ۔۔۔آنٹی۔۔۔ میں جُنید سے ملنے آیا تھا؟‘‘
’’بیٹا، وہ تو جم گیا ہوا ہے بس آتا ہی ہوگا۔ آپ باہر کیوں کھڑے ہو، آؤ اندر۔۔۔۔ بیٹھو۔‘‘
میں نے اپنا عُذر بیان کرتے ہوئے اجازت طلب کی لیکن جُنید کی والدہ کے بے حد اسرار کے سامنے مُجھے ہار ماننا پڑی۔
جگری یاری کے باعث ہمارا اکثر ایک دوسرے کے گھر آنا جانا رہتا ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کی والدہ مُجھ اور میرے خاندان سے بخوبی شناسا ہیں۔ حال احوال پوچھنے کے بعد کہنے لگی: ’’بیٹا اچھا ہوا آپ آگئے۔۔۔ میں کچھ دِنوں سے جُنید کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔‘‘
’’کیوں آنٹی خیریت؟ کیا ہوا جُنید کو؟‘‘

’’بیٹا۔۔۔ جُنید دِن بدن بدلتا جا رہا ہے۔ ہم سب اُسکے رویے میں نمایاں تبدیلی محسوس کر رہے ہیں۔۔۔ وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ نماز نہ روزہ، پوری پوری رات اپنے کمپیوٹر کے ساتھ چمٹا رہتا ہے، باقی ہر جانب سے اُسنے توجہ ہٹا لی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود ہمارے درمیان فاصلے بہت بڑھ چُکے ہیں۔ بیٹا تم ہی اُسے سمجھاؤ میں بہت پریشان ہوں۔‘‘ اُن کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات تو یہ تھی کہ آنٹی جُنید سے ڈرنے لگی ہیں اور مُجھ سے نہایت پریشانی کے عالم میں کہنے لگی:’’ بیٹا۔۔۔۔ اُسے مت بتانا کہ میں نے آپ سے اُسکے متعلق کوئی بات کی۔ آپ نہیں جانتے کہ اِس بات کا علم جنید کو ہوا تو اُسکا ردِعمل کیا ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر آنٹی اپنے آنچل سے آنکھوں کو ملتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دفتر میں معمول کے مطابق ہلچل تھی۔ رسیپشن پر بیٹھی لڑکی کان سے رسیور لگائے محوِ گفتگو، عملہ کے نوجوانوں کی حسبِ معمول بھاگ دوڑ، فوٹو سٹیٹ مشین آپریٹر فوٹو کاپیاں کرنے میں مصروف، خاکروب پوچا لگانے میں مگن۔۔۔۔
خاتون سہمے سہمے انداز میں دفتر کی اِس ہلچل کو دیکھ رہی تھی۔ یوں تو خواتین کی آمدورفت وہاں رہا ہی کرتی تھی لیکن اسکے تیز تیز اُٹھتے قدموں، ماتھے پر تیوری، سہمی ہوئی شکل اور چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نے مُجھے خاتون پر توجہ مرکوز رکھنے پر مجبور کردیا۔ وہ شرافت کی چادر میں لپٹی، اِک گھریلو خاتون معلوم ہورہی تھی۔ شائید اُسکو کسی کی تلاش تھی یا کسی خاص مدد کی ضرورت۔۔۔۔
کافی کا کپ میرے ہاتھ میں تھا۔ میں نے ایک چُسکی لی، کپ کو میز پر رکھا اور اُٹھ کر محترمہ کے پاس چلا آیا۔ سلام کے بعد مخاطب ہوا: ’’جی فرمائیے میڈم!‘‘ اور سوالیہ نظروں سے محترمہ کی جانب دیکھنے لگا۔
’’ یہ۔۔۔۔۔ انٹرنیٹ کنکشن آپ ہی دیتے ہیں؟‘‘ خاتون نے نہایت مؤدبانہ انداز میں پوچھا۔
میں بات کر رہا ہوں سن 1999 کی اور یہ اِسلام آباد کی پی ٹی سی ایل کے بعد سب سے بڑی انٹرنیٹ سروسز پرووائیڈنگ کمپنی تھی۔ میرا خیال تھا کہ خاتون انٹرنیٹ کنیکشن لینا چاہتی ہیں۔ رسیپشن یا متعلقہ شخص کے پاس بھیجنے کی بجائے، میں نے خود ہی انکو کنکشن دِلوانے کا سوچا لہٰذا محترمہ کو اپنے ساتھ اندرونی دفتر میں لے آیا جہاں میرے علاوہ کمپنی کے چار مزید افراد کی بھی نشستیں تھیں ۔ میں نے خاتون کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تاکہ بآسانی بات ہو سکے۔ محترمہ بیٹھتے ہی کہنے لگی: ’’میرے بیٹے کا نام احمر اقبال ہے۔ اُسنے آپسے کنکشن لیا ہے اور ہر ماہ یہاں ہی بل جمع کروانے آتا ہے۔ وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے جِس سے مُجھے بے حد اُمیدیں ہیں لیکن اِس انٹرنیٹ کی وجہ سے پوری پوری رات جاگنا اُسکا معمول بن چکا ہے۔ کل رات میں اُسکے کمرے میں داخل ہوئی تو میری نظر اُسکے کمپیوٹر پر پڑ گئی۔‘‘ یہ کہہ کر محترمہ کے آنسو یوں چھلکنے لگے جیسے وہ اپنے آنسوؤں کو بہت دیر سے روکے ہوئے تھیں۔ میں قریب ہی بیٹھے کمپنی کے سیلز مینیجر کی جانب حیران کُن نظروں سے دیکھنے لگا، میرے دیکھتے ہی اُنہوں نے نظریں جھکا لیں. اب میری زبان بھی مکمل طور پر ساکت ہوچکی تھی۔
’’اُسکی کمپیوٹر پر مشغولیات کو دیکھ کر میں دھنگ رہ گئی۔ میری تربیت اتنی تو بُری نہیں تھی۔‘‘ خاتون نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں اپنے بیٹے کا نیٹ بند کروانے آئی ہوں۔ آپ پلیز ابھی ہی اُسکا انٹرنیٹ کنکشن بند کر دیں۔ جتنا جلد ہو سکے میرے بیٹے کی جان اِس خباثت سے چھُڑا دیجئیے۔۔۔۔ ‘‘ اِس مرتبہ محترمہ آنسو بہانے کے برعکس ہمارے سامنے ہاتھ بھی جوڑنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسی سینکڑوں مائیں اپنے جگر گوشوں کیلئے بے چین اور فکرمند ہیں۔ میں نے بے شمار ایسے نوجوانوں کو دیکھا جنکی رات طلوعِ آفتاب کے بعد اور صبح سہ پہر دو یا تین بجے ہوتی ہے۔ اور تو اور فیس بُک اور چیٹنگ جیسی خباثت کی زد میں پوری پوری رات جاگنا لڑکوں کے ساتھ ساتھ اب نوجوان لڑکیوں کا بھی معمول بن چکا ہے۔ اُمتِ مسلمہ کی بیٹیاں جنکی پاک دامنی، شرافت، عزت اور حیا دُنیا کے سامنے ہمیشہ سے مثال رہی ہے، اب وہی محرموں سے چیٹنگ اور لغویات میں پوری پوری رات صرف کر دینے میں کوئی ممانعت نہیں سمجھتیں۔ پڑھائی یا کسی ضروری کام کے باعث راتوں کو جاگ کر محنت کرنے میں کوئی مماثلت نہیں لیکن اِسکو معمول بناتے ہوئے فحاش مشغولیات کو اپنانا نہ صرف قُدرت کے قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے بلکہ اپنی زندگی کی بربادی کے ساتھ ساتھ والدین کے راحت کی بھی بربادی ہے۔ نوجوانوں سے گزارش ہے کہ خُدارا اپنا نہیں تو اپنے والدین کا ہی خیال کیجئیے۔ میں نہیں چاہتا آپکی ماؤں کو جُنید یا احمر کی ماؤں کی طرح آپکی وجہ سے آنسو بہانے پڑیں یا کسی کے سامنے ہاتھ جوڑنے پڑیں۔

انسان بن جاؤ!


اِنسانوں کے اِس بازار میں، خالص اِنسان نہایت قلیل ہیں۔ مانتا ہوں یہ انسان نما ضرور مگر انسان نہیں درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔ یہ اُستاد، طالبِعلم، وکیل، ڈاکٹر، انجینئر، ملازمین، مزدور، مذہبی و سیاسی رہنما غرض تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والا ہر اِک فرد اصل میں بیوپاری ہے جس میں میں اور تم بھی شامل ہیں۔ ہاں۔۔۔ تم مانو یا نہ مانو۔۔۔ میں اور تُم بھی بزنس مین ہیں۔ ہماری زندگیوں کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے یہی وجہ ہے کہ میں جب سے انٹرنیٹ پر بلاگنگ کر رہا ہوں، بے شمار افراد نے مجھ سے ایک ہی سوال کیا کہ کیا اِس بلاگنگ سے کوئی آمدنی بھی ہوتی ہے؟ میرا جواب ہمیشہ نفی میں رہا۔ جس پر دوسرا سوال جو میرے منہ پر مارا جاتا وہ یہ کہ پھر آپ کیوں یہاں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں؟ آپکو اِس سے کیا ملتا ہے؟ ہاں۔۔۔ ہماری زندگیوں کا مقصد تو صرف پیسہ کمانا ہے۔ ہم کیا جانیں یہ دِلی سکون، دِلی خوشی، محبت، ہمدردی، جذبہ، ایمان اور شوق کیا ہوتا ہے۔

ایک بچے کی ہی مثال لے لیجئیے جو ابھی مکمل بولنے کے قابل بھی نہیں ہوپاتا لیکن اُسکے دِماغ میں یہ بات ٹھونس دی جاتی ہے کہ تم نے ڈاکٹر بننا ہے، یہی تمہارا مقصدِ حیات ہے، اِسی میں تمہاری فلاح ہے۔ تم نے پڑھائی اور محنت کی صورت میں خوب سرمایہ کاری کرنی ہے تبھی اچھے ڈاکٹر بنو گے۔ اور جتنا گُڑھ ڈالو اتنا میٹھا کے مصداق جتنی سرمایہ کاری کرو گے اُتنا ہی نفع۔۔۔ گویا بچے کو بچپن سے ہی بیوپار کے اُصول سکھا دئیے جاتے ہیں۔ یہی بچہ بڑا ہوکر ڈاکٹر بنتا ہے، اپنا ہسپتال نما کارخانہ بنا لیتا ہے۔ اب اِس کارخانہ میں صرف وہی علاج پائے گا جو فیس بھرے گا۔ ہاں۔۔۔ کوئی مرتا ہے تو مرے۔۔۔ علاج تبھی ہوگا جب معاوضہ ملے گا۔ یہی بچہ اگر اُستاد بن جاتا ہے تو سکول نما کارخانہ، جہاں کسی غریب کا بچہ قطعاً تعلیم نہیں پاسکتا۔۔۔ فیس بھرو فیس۔۔۔ یہی بچہ عالم ہے تو علم کا تاجر، قاضی ہے تو انصاف کا تاجر، حاکم ہے تو رعایا اور اُنکے کے حقوق کا تاجر، سپاہی ہے تو ریاست کے امن کا تاجر، فوجی افسر ہے تو سرحدوں کا تاجر اور تاجر بھی ایسا کہ جسکے بنیادی ہتھیار رشوت، سفارش، جھوٹ، فراڈ اور بددیانتی ہیں۔ تبھی میں کہہ رہا ہوں کہ ہم انسان نما ضرور مگر انسان نہیں، درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔

انسان تو وہ ہیں جنہیں انسانیت کے تقاضوں کی نہ صرف پہچان ہے بلکہ وہ باخوبی اِن تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں۔ انسان اتنا خود غرض، لالچی، بےغیرت اور بےحس نہیں ہوتا جتنے آج ہم ہوچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان مشرق سے لے کر مغرب تک ہر جانب ظلم کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ میرے کتنے ہی بےگناہ مسلمان بہن بھائی کفار کی قید میں اُنکے مظالم سہ رہے ہیں۔ اور قید بھی گوانتا ناموبے جیسی جہاں وہ وہ ظُلم ڈھائے جاتے ہیں کہ جسکا تصور ہی لرزا دینے کیلئے کافی ہے۔ ہاں وہ میری ہی قوم کے باشندے ہیں جنہیں برہنہ کر کے برف خانوں میں لٹا دیا جاتا ہے، کتوں کے سامنے پھینک دیا جاتا ہے، پانی کی بجائے خون اور نہ جانے کیا کچھ پلایا جاتا ہے، میری ماؤں اور بہنوں کی عزتیں سینکڑوں مرتبہ لوٹی جاتی ہیں، وہ روز روز کے مرنے سے تنگ آکر اِک ہی مرتبہ مرنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں شکوہ ہے ہم سے کہ اُنکے مسلمان بہن بھائی بےخبر سو رہے ہیں۔ مگر اُنہیں کیا بتلاؤں کہ ہم تو انسان ہی نہیں رہے۔ پھر ہمارے پاس اتنا وقت کہاں کہ کسی کیلئے سوچیں۔ وہ مسلمان جو اللہ کی مدد کی اُمید کا ہتھیار لے کر تمہاری مدد کیلئے اپنے گھروں کو چھوڑ ڈالتے ہیں، ہم تو اُنہیں دہشت گرد اور بیوقوف تصور کرتے ہیں کہ اُنہیں اِس سے کچھ حاصل نہیں۔ ہمارا مذہب، ہمارا ایمان، ہمارا خدا اور ہمارا سب کچھ تو صرف پیسہ ہے پیسہ۔۔۔ ہم تو راتوں کو سونے کی بجائے یہ سوچتے ہوئے گزار دیتے ہیں کہ کیسے اپنا محل بنا لیا جائے، کیسے لمبی گاڑی آجائے، کیسے بڑا عہدہ مل جائے، کیسے فرعون جیسی شان مل جائے، ہم تو زمین کے ایک ٹکڑے کی خاطر اپنی ماں کو گالیاں دے جاتے ہیں، باپ کو جیتا جی مار دیتے ہیں۔۔۔ ہاں۔۔۔ کیا کیا بتلاؤں تمہیں۔۔۔ کہنے کو تو بہت کچھ ہے۔۔۔ مگر تم صرف یہ مان لو کہ ہم انسان نما ضرور مگر انسان نہیں، درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔

آؤ ۔۔۔ چند لمحوں کیلئے ۔۔۔ ذرا دماغ پر زور دو ۔۔۔ اِس بازار کے شوروغل سے ذرا پرے ہٹ کے، اپنے دماغ سے اپنی کاروباری زندگی کے نفع و نقصان، لالچ و خود غرضی کے پردوں کو ہٹاؤ، ذرا ضمیر کی اَکھیوں کو کھولو اور سوچو کہ تم اِس دُنیا میں کیوں آئے؟ کیا تمہارے یہاں آنے کا کوئی مقصد تھا؟ کب تک رہنا ہے یہاں؟ آخر تمہاری اِس زندگی کا انجام کیا ہے؟ یہاں سے جاتے ہوئے ساتھ کیا لے کر جاؤ گے؟ کبھی سوچا کیا یہ تم نے؟ اگر نہیں سوچا تو بخدا آج سوچ لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ تمہاری زندگیوں کا وہ مقصد نہیں ہے جو تم بنا بیٹھے ہو۔ ابھی بھی وقت ہے۔ اِس بیوپار کو چھوڑو اور انسان بن جاؤ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ انسان بن جاؤ!

باباجی ۔۔۔ بقیہ حصہ

ہم تو سوچتے ہیں کہ باباجی کے کوئی درجن ایک شہزادے ہوتے تو سبھی کمپنی کے کسی نہ کسی عہدے پر براجمان ہوتے۔ جی ہاں۔۔۔۔ کمپنی کے اکاونٹس مینیجر اپنا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ اِک ماہ کی آخیر تاریخوں میں ہم نے حسبِ معمول کمپنی کے عملہ کی تنخواہوں کو مرتب کیا تو باباجی ہم سے مُخاطب ہوئے کہ کیا اس فہرست میں ہمارے چھوٹے شہزادے کا نام بھی ہے؟ نفی میں جواب دینا تو کُجا، ہم تو آنکھیں پھاڑے باباجی کی جانب تکنے لگے۔ جواب ملا کہ کیا آپکو نہیں معلوم ہمارا سترہ سالہ شہزادہ ہماری کمپنی کا نیا ڈرافٹس مین ہے۔ وہ اس ماہ ہماری کمپنی کے فلاں ڈیلر کے پاس بیٹھ کر اپنی خدمات سرانجام دیتا رہا ہے۔ لہٰذا اُسکی تنخواہ کا بھی شمار کیا جائے۔ تفتیش کرنے پر وہ ڈیلر بچے کا تایا نکلا۔ باباجی کے جانے کے بعد ہم نے چھوٹے شہزادے کا موبائل نمبر تلاش کیا اور کال ملائی، سلام دُعا کے بعد جناب سے پوچھا کہ حضرت دفتری اوقات میں کہاں غائب ہیں؟ آخر کو وہ کمپنی کے عملہ کا حصہ تھے اب، یہ پوچھنا ہمارا حق بنتا تھا۔ دوسری جانب سے جواب ایسی معصوم آواز میں موصول ہوا گویا نائیٹ پیکیچ کروا کر ہم کسی بچی سے گپیں مار رہے ہیں۔ ’’ جی۔۔۔ وہ۔۔۔۔ ابھی باجی کو یونیورسٹی سے لے کر آرہا ہوں۔ خیریت تو ہے نا؟ ‘‘ اب ہم کیا کہتے کہ بیٹا دفتر تشریف لائیے، یہ وقت باجیوں کو یونیورسٹی سے لانے کا نہیں بلکہ دفتر میں کام کرنے کا ہے۔ آخر کو آج جناب کی تنخواہ جو تیار ہورہی تھی۔
حساب کتاب کے مینیجر مزید فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم حسبِ معمول اپنی نشست پر براجمان تھے کہ باباجی کی جانب سے ہمارا بلاوا آیا۔ جناب کے پاس حاضری دی تو معلوم ہوا کہ جناب کسی ادارے کے ٹینڈر کیلئے دستاویزات تیار کر رہے ہیں اور ہمیں باباجی کا دستاویزات تیار کرنے کا یہ مرحلہ نہایت دلچسپ لگا۔ جناب نے انٹرنیٹ سے کُچھ متعلقہ مواد ڈانلوڈ کیا اور پھر نقل کرنے لگے، وہی اجزاء، وہی مواد اور وہی قیمتیں اب جناب کی کمپنی کے دستاویزات کا حصہ تھیں۔ ہمارے شیر انجینئیر نے دوبارہ جسارت کرتے ہوئے باباجی کی عقل میں پھونک مارنے کی کوشش کی کہ جناب جس منصوبے کے ٹینڈر کیلئے آپ یہ دستاویزات تیار فرما رہے ہیں، اُسکیلئے ہمیں کُچھ مختلف مواد کی ضرورت ہوگی اور جو قیمتیں آپ چھاپے جا رہے ہیں وہ آج سے کئیں سالوں قبل کی ہیں، اگر ایسا ہی ٹینڈر بھرا تو منصوبے پر کام کرنا دُشوار ہوجائے گا۔ یہ کہنا تھا کہ باباجی کی کہانیاں شروع۔۔۔۔۔ کہ ہم نے فلاں فلاں منصوبوں پر کام کیا۔۔۔۔۔ یہ ہمارا طریقہ ہے۔۔۔۔۔ آپ ان باتوں کو نہیں سمجھیں گے۔۔۔۔۔ خیر باباجی ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ جو حساب کتاب ہم نے کیا، اسکا کُل کیجئیے کہ کتنا بنتا ہے۔ ہم نے بتایا کہ جناب یہ تو اتنا بن رہا ہے۔ کہنے لگے کہ نہیں یہ کُچھ زیادہ ہوگیا آپ ایسا کیجئیے کہ جو رقم سب سے بڑی ہے وہ بتائیے۔ ہمارے بتانے پر کہنے لگے کہ اس میں سے اتنے لاکھ کم کر دیجئیے، ہم نے ایک مرتبہ بلے جیسی موٹی موٹی آنکھوں سے باباجی کی جانب دیکھا اور پھر اُس رقم کو کم کردیا۔ خیر کُل کرنے پر جناب کو رقم پھر کافی بڑی لگی اور یوں یہ کھیل بار بار دُہرایا گیا۔۔۔۔ کوئی مانے نہ مانے۔۔۔۔ ہم تو اس کھیل سے بہت لُطف اندوز ہوئے۔۔۔۔
خیر ان تمام باتوں کے باوجود تقدیر باباجی کو کرنل کی وساطت سے رزق مہیا کئیے جا رہی ہے اور باباجی آجکل ہواؤں میں اُڑے جارہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ آج نہیں تو کل باباجی جتنی اُونچائی سے زمین پر آگریں گے اُتنی ہی اُونچی ڈھزززززز ہو گی۔
خیر لیجئیے باباجی کا ایک کارنامہ مزید سُنتے جائیے۔۔۔ حسبِ معمول تمام عملہ دفتر میں بیٹھا مکھیاں مار رہا تھا وہ بھی اس ہوشیاری سے کہ دیکھنے والا سمجھنے لگے، ہو نہ ہو کشمیر تو اسی کمپنی نے فتح کرنا ہے۔ اچانک کُچھ خواتین زبردستی دفتر میں گھُسی آئیں۔ یہ خواتین دیکھنے سے کسی اچھے گھرانے سے تعلق رکھنے والی معلوم ہوتی تھیں مگر تھیں پیشہ ور بھکاری۔ وہ اکثر دفتر تشریف لاتیں اور پوچھنے پر بتاتی کہ ہمیں باباجی سے ملاقات کرنی ہے، عملہ کا ایک بندہ تو کہنے لگا کہ میں سمجھا یہ باباجی کی گھروالیاں ہیں لہٰذا کُچھ نہیں کہا۔ اتفاق سے وہ مانگنے والیاں جب بھی آتیں تو باباجی دفتر میں موجود نہ ہوتے لیکن آج بزرگوار بھی تشریف فرما تھے۔ مانگنے والیاں سیدھی باباجی کے پاس حاضر ہوئیں اور مالی امداد کی التجاء کرنے لگی۔ باباجی غُصے میں بولے کہ آخر چاہتی کیا ہو تم؟ اُن میں سے ایک بولی جناب ہماری مدد فرما دیجئیے۔ آہا۔۔ ہا۔۔ ہا۔۔۔ باباجی نے کیا پاکیزہ جواب دیا۔۔۔۔ کہنے لگے کہ جس مدد کی تم بات کرتی ہو وہ تو میں صرف اپنی بیوی کی کرتا ہوں۔۔۔۔ وہ دِن اور آج کا دِن، مانگنے والیاں مُڑ کر دوبارہ کبھی نہیں آئیں۔ شائید وہ باباجی سے ذیادہ عزت دار نکلیں۔ باباجی کی اس حاضر دماغی کو ہماری جانب سے دُر سلام۔
ہم اگر باباجی کے گُن گانے لگے تو کی بورڈ گھِس جائے گا، بجلی چلی جائے گی، لیپ ٹاپ کی چارجنگ مُک جائے گی لیکن ہمارے باباجی کی تعریف میں یہ قصیدے ختم ہونے کا نام نہیں لیں گے۔ خیر وہ دِن اور آج کا دن، ہم کسی بھی پاکستانی مصنوعات کو دیکھتے ہیں تو دماغ فوراً چھلانگیں مارنے لگتا ہے کہ ضرور اس مصنوعات کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی باباجی تشریف فرما ہوں گے۔

باباجی

بابا جی نے ساری زندگی نہایت تکالیف و مصائب کا سامنا کرتے ہوئے گزاری۔ لیکن اب تقدیر مہرباں ہوئی اور باباجی کو ایک ریٹائرڈ کرنل سے ملاقات کا اتفاق ہوا۔ کرنل بھی ایسا کہ جسکو دیکھ کر ہم ہمیشہ بدگمانی کا شکار ہوئے جاتے اور کرنل اور مُملکتِ زرداریوں کی فوج کے درمیان موازنہ کرنے لگتے۔ آخر اس نتیجے پر پہنچتے کہ ہمارے دیس کی فوج تو قطعاً ایسی مہذب ہو نہیں سکتی، یقیناً یہ کرنل بگڑا ہوا ہے جس میں انسانیت اور شرافت ابھی بھی کافی حد تک رچ بس رہی ہے۔ خیر۔۔۔ باباجی نے کرنل کے عُہدے، جیب اور اُسکے اس بگڑے پن ہمارا مطلب ہے کہ شرافت سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی۔ چند ملاقاتوں کے بعد باباجی نے کرنل کو اپنی ایک ٹھیکیدارانہ نوعیت کی کمپنی بنانے پر رضامند کر لیا۔ دونوں نے شراکت داری بھی ایسی کی، کہ جسکی سمجھ آج تک ہمارے اس ناقص دماغ میں نہیں آئی۔ آسان الفاظ میں بتائے دئیے دیتے ہیں کہ سرمایہ داری ساری کرنل کی اور منیجمنٹ باباجی کی۔
دراصل باباجی پیشے سے ایک ٹھیکیدار تھے لیکن اب کرنل سے ملاقات کے بعد اپنی ٹھیکیداری کو مُکمل بھُلا چُکے ہیں۔ کرنل نے دفتری اور قانونی کاغذوں میں اپنے آپکو مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم۔ڈی) کہلوانا شروع کردیا، یہ دیکھا دیکھی باباجی کو بھی شے چڑی اور اُس دن کے بعد باباجی بھی کپمنی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل کہلوانے لگے۔ ٹھیکیداری کے دور میں باباجی کی کُل تعلیم فقط ایک ڈپلومہ تھا لیکن ڈائریکٹر ٹیکنیکل بننے کے بعد دفتری کاغذوں میں باباجی کے نام کے ساتھ مکینیکل انجینئیر لکھا جانے لگا۔ ٹھیکیداری کے دوران باباجی نے مُختلف ٹھیکیداروں کے جو جو بڑے بڑے قصے سُنے اب وہ تمام باباجی کی شخصیت کے ساتھ منسلک ہونے لگے۔ جی ہاں! دفتری عملہ ہو یا کسی محکمہ میں کوئی میٹینگ، اب باباجی کی ہر بات کا آغاز اپنے تجربات سے ہی ہونے لگا اور تجربات کی فہرست بھی ایسی کہ جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لے۔ ہر ایسا منصوبہ جو انکے کسی جاننے والے یا کسی بڑے ٹھیکیدار نے مکمل کیا ہو اب وہ باباجی کا ہی کارنامہ کہلانے لگا۔
باباجی نے کُرسی پر تشریف رکھنے کے بعد ایک اچھے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے برابر کی کُرسی اپنے جانشین کیلئے مُختص فرما دی۔ جی ہاں اپنے شہزادہ کو اماں کی گود سے اُٹھوا کر دفتر میں بلوایا اور جناب کی کُرسی پر پراجیکٹ مینیجر کی تختی لگوا دی۔ ہم تو سوچتے ہیں کہ بچہ تو ہکا بکا رہ گیا ہوگا کہ ارے یہ ہمارے ساتھ ہوا کیا۔ ہم تو ابھی بھی جناب کو یاد کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا منہ میں چوسنی ڈالے پراجیکٹ مینیجر کمپنی کے تمام برتن توڑے جارہا ہے۔۔۔ ارے جی کمپنی کے برتن تو کمپنی کے معاملات ہی ہوتے ہیں نا۔۔۔ تو سمجھ ہی جائیے۔۔۔ خیر عملہ میں سے ہمارے اِک باہمت شیر نے پراجیکٹ مینیجر کی تعلیم پوچھنے کی جسارت کی تو معلوم ہوا کہ جناب ایک انجینئیر ہیں یہ علیحدہ بات ہے کہ بغل میں ڈگری نہیں۔۔۔ بقول جناب کے، یونیورسٹی کا (پی۔ای۔سی) پاکستان انجنئیرنگ کونسل سے کوئی لانجھا چل رہا ہے جسکی وجہ سے طلبہ کو ڈگری کے بغیر ہی فارغ کیا جا رہا ہے۔ ایسی بھی کوئی بات نہیں، ہمیں جناب کی زبان پر پورا بھروسہ ہے، کہہ رہے ہیں تو سچ ہی ہوگا۔ آخر ہوئے جو ایک مہذب پاکستانی، بھروسہ کر کے لِتّر کھانا ہماری ایک پُرانی عادت ہے۔  

(جلدی کا کام شیطان کا، لہٰذا انتظار فرمائیے۔ بقیہ حصہ جلد ہی شائع کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ )

یادداشت کھو گئی


’’اللہ نے دس سال بعد مجھے بیٹے کی نعمت سے نوازا۔ اپنے لعل کی بہترین تربیت کروں گی بلکہ میں تو کہتی ہوں اللہ نے اسے ہمارے بڑھاپے کا سہارا بنا کر بھیجا  ہے۔‘‘
’’بیگم میں تو اپنی تمام تر کمائی اپنے بیٹے کی پڑھائی پر صرف کروں گا۔ اسے بہترین تعلیم دلواؤں گا تاکہ پڑھ لکھ کر اسکا  مستقبل روشن ہوجائے۔"
’’اور پھر ہم اپنے چاند سے بیٹے کیلئے کسی اچھے گھرانے کی پڑھی لکھی اور خوبصورت سی لڑکی تلاش کریں گے۔‘‘
بیٹے کی پیدائیش  پر ہی اُسکے مستقبل کے بارے میں لمبے لمبے خواب دیکھے جانے لگتے ہیں اور لمحہ بھر میں بات شادی تک آن پہنچتی ہے۔ لیکن یہ بات صرف بیٹوں تک ہی محدود نہیں۔۔۔
دوسری جانب اللہ ایک گھرانے کو پہلی بیٹی کی صورت میں اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ والدین  نہ صرف نہایت پُر مسرت دِکھائی دیتے ہیں بلکہ روزِ اوّل سے ہی  اپنی بیٹی کے مستقبل کے بارے میں فکر مند بھی ہونے لگتے ہیں۔ وہی خواب۔۔۔ اچھی تربیت۔۔۔ اچھی تعلیم۔۔۔ بہت سی خوشیاں۔۔۔ اور بالآخر ان خواہشات کی قطار کا اختتام شادی کے موضوع پر ہوتا ہے۔  
لڑکا بہترین ذریعۂ معاش حاصل کرچکتا ہے اور لڑکی بھی اپنی پڑھائی سے فارغ ہونے کو ہوتی ہے کہ والدین میں اولاد کے رشتوں کی فکر  زور اختیار کر لیتی ہے۔ اُنہیں اُٹھتے بیٹھتے،چلتے  پھرتے غرض لمحہ بہ لمحہ صرف اور صرف اپنی اولاد کے رشتوں کی فکر لاحق رہنے لگتی ہے۔ بلاشبہ رشتے تو آسمانوں پر ہی بنتے ہیں لیکن آسمانوں پر بنے ان رشتوں کو ملنے میں عموماً کافی وقت لگ جاتا ہے۔ لہٰذا کچھ عرصہ مناسب رشتہ نہ ملنے پر والدین راتوں کو جاگ جاگ کر اپنی اولاد کے رشتے کیلئے دُعائیں مانگنے لگتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیٹی کا معاملہ تو ہوتا ہی حساس ہے لیکن لڑکے کے والدین بھی کم پریشان نہیں ہوتے ۔ کہیں والدین  خاندان سے باہر رشتہ نہیں کرنا چاہتے تو کہیں خاندان میں  موجود تمام رشتوں کو ٹھُکر ا دیا جاتا ہے اور ایسی صورتِ حال میں تمام رشتہ دار تاک لگائے بیٹھ جاتے ہیں کہ جناب اپنے لئے کیسی بہُو کا انتخاب کرتے ہیں؟ یوں والدین کی فکر میں مزید اضافہ ہوا جاتا ہے۔ خیر بات بیٹی کے رشتے کی  ہو یا بیٹے کے، دونوں صورتوں میں والدین فکر مند رہتے ہیں، لمبی لمبی تسبیحات، دُعاؤں اور وظائف کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور تو اور خانہ کعبہ کے سامنے بھی سجدہ ریز ہوکر جہاں بہت سی دُعائیں کی جاتی ہیں وہیں اولاد کے رشتے کیلئے  بھی خصوصی دُعائیں مانگی جاتی ہیں۔غرٖض دن رات اللہ سے رابطہ استوار رہتا ہے۔
خیر اللہ اللہ کر کے رشتہ طے پاتا ہے۔۔۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے مواقع والدین کی راحت و فرحت کا باعث بنتے ہیں۔  لہٰذا نہ صرف والدین بلکہ دوسرے عزیز و اقارب بھی اس خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور یہ خوشی کی چوٹ اس حد تک گہری لگتی ہے  کہ انسان اپنی یادداشت ہی کھو بیٹھتا ہے۔ وہ راتوں کا جاگ  جاگ کر نوافل پڑھنا، لمبی لمبی تسبیحات اور وظائف کا اہتمام کرنا حتٰی کہ حرم پاک میں بھی سجدہ ریز ہو کر جو دُعائیں کیں، آج وہ سب بھول گئیں۔۔۔ وہ ضعیف العمر عورت جسکی ٹانگیں قبر میں ہیں آج اُسکی بھی جوانی اُبھر آئی۔۔۔ جس کے ہاتھ میں  ہمیشہ تسبیح رہتی تھی آج یہی عورت اپنے سر کے آنچل کو بھی بھُلا بیٹھی۔ خاندان کے وہ بزرگ جنکی صبح و شام اللہ اللہ کرتے ٖصرف ہوتی تھی، آج وہ بھی اپنی عمر، اپنے وہ سجدے، سب بھُلا بیٹھے۔۔۔ اپنے ہی گھرانے کی بیٹیاں، جنکو اپنی عزت سمجھا کرتے تھے، آج اُنکو سرِعام ناچتا دیکھ کر خوش ہوا جاتا ہے۔ چلو ہمارا کوئی دین مذہب نہیں، ہمیں آخرت کی فکر نہیں لیکن کیا شریف اور معزز خاندانوں کی عزتیں یوں ہی سرِعام ناچا کرتی ہیں؟ کیا یہی عزت ہے ان معزز گھرانوں کی؟
ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمیں اللہ دیکھ رہا ہے، وہ ہماری ان تمام نافرمانیوں سے ہر ہر لمحہ باخبر ہے،  ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارا ایک ایک عمل ہماری جنت بنا رہا ہے یا پھر جہنم۔۔۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے نبی نے اپنی اور اپنی بیٹیوں کی شادیاں کیسے کیں ۔۔ یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ اس دُنیا میں رہتے ہوئے ، ایک مسلمان ہونے کی حیشیت سے میں اپنی من چاہی کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتا، میرے لئے کچھ اُصول اور حدود متعین فرما دی گئی ہیں جنکی پاسداری کرنا ہی میرے حق میں بہتر ہے۔ ابھی بھی وقت ہے میں اپنے ضمیر کے دروازے پر دستک دے سکتا ہوں اور اپنی اس بھولی ہوئی یادداشت کو واپس لا سکتا ہوں ورنہ ذلت و خواری کی ایک لامحدود زندگی میرا انتظار کر رہی ہے جہاں ماسوا پچھتاوے کے کچھ کام نہیں آئے گا۔

سیدھی راہ

آج میں آپکے سامنے ایک ایسا مسئلہ بیان کرنے جا رہا ہوں جو شائید  آپ سب کیلئے کوئی بڑی بات نہ ہو لیکن میرے لئے یہ اِک بڑا مسئلہ ہے۔ اِس مسئلے کا  سامنا مجھے ہر آئے دن کرنا پڑتا ہے۔ دراصل  بات کچھ یوں ہے کہ ابھی حال ہی میں مجھے ایک سُنت عمل کا علم ہوا  ہے جس سے شائید آپ میں سے بھی  کچھ حضرات واقف نہ ہوں اور وہ سُنت یہ ہے کہ اگر آپ کسی سواری پر سوار ہیں تو  راہ کی بائیں جانب کو اختیار کریں اور اگر پیدل ہیں تو ہمیشہ راہ کی دائیں جانب چلیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہمارے اِس مُلک کے ٹریفک کا قانون بھی اِسی سُنت کے مطابق ہے۔  یعنی اگر آپ سواری پر سوار ہیں تو بائیں جانب وگرنہ دائیں جانب چلیں۔ چونکہ ہماری ٹریفک پولیس اِس سنت کے پہلے حصے پر تو زبردستی عمل کرواتی ہے لیکن دوسرے حصے کا کبھی ذکر نہیں کیا گیا اِس لئے  عوام  یہی سمجھتی ہے کہ پیدل چلتے ہوئے بھی راہ کی بائیں جانب کو ہی اختیار کرنا چاہئیے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہرائیں ہوں یا بازار یا کوئی گلی محلہ ‘ پیدل چلنے والے ہمیشہ راستے کہ بائیں جانب ہی چلتے  نظر آتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق دائیں جانب چلنے کا ثمر یہ ہے کہ آپ سامنے سے آتی ہوئی گاڑی کو بآسانی دیکھ سکتے ہیں اور ایسے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچ سکتے ہیں۔
آپ سب سوچ رہے ہوں گے کہ اِس پوری بات میں مسئلہ کیا تھا؟ دراصل یہی تو مسئلہ ہے کہ اگر کسی بازار وغیرہ میں چلتے ہوئے اِس سُنت پر عمل کیا جائے تو ہر ہر قدم پر آپکو ایک ایک دھکے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کہیں کسی کا کندھا آپکے کندھے سے ٹکرا رہا ہے تو کہیں کسی کا پاؤں آپکے پاؤں پر آرہا ہے۔ اور اگر مخالف شخص سخت طبیعت کا ثابت ہوا تو شائید آپکو کچھ کھَری کھَری سنا بھی جائے  اور ایسے میں ہو سکتا ہے کہ آپکو اَن پڑھ, جاہل اور  بیوقوف  جیسے چند القابات سے بھی نواز دیا جائے۔ اگر تو آپ بول پڑے کہ بھیا میں تو سہی جانب کو چل رہا ہوں۔۔۔ غلط تو آپ ہیں تو پھر اپنی خیر منائیے۔۔۔ آپکے مخالف کو چونکہ اِس بات پر پورا یقین ہے کہ بائیں طرف کو ہی چلنا دُرست ہے لہذا اُسکے بگڑ جانے کے امکانات زیادہ ہیں اور مُمکن ہے کہ وہ چلانا بھی شروع کر دے ۔ ایسے میں اگر دو چار بندے اور بھی جمع ہو گئے تو قصوروار آپکو ہی ٹھہرائیں گے۔۔۔ روڈ ہو یا بازار‘ کوئی مُحلہ ہو یا کوئی گلی۔۔۔  دائیں جانب چلتے ہوئے ہمیشہ ہی  اِس مسئلےکا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔
ہمارے اِس اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کوئی بھی شعبہ ہو‘ اگر آپ سیدھے ہاتھ پر چلنے کی کوشش کریں گے تو لاکھ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کہیں کوئی سامنے سے آکر آپکو ٹکرتا ہے تو کہیں کوئی دائیں بائیں سے۔ سرکاری شعبہ ہو یا غیرسرکرکاری , آپکو کسی صورت بھی سیدھے ہاتھ نہیں چلنے دیا جائے گا اور اگر آپ پھر بھی اپنی راہ کے اِس تعین پر بضِد ہیں تو آپکو اُن تمام نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جو قانوناً  اور شریعۃً اُلٹے ہاتھ پر چلنے والے کا مقدر ہونے چاہئیے تھے۔ غرض اِس پورے ماحول میں جہاں سب اُلٹے ہاتھ کو ہی چلتے ہیں, اب سیدھے ہاتھ پر چلنا نہایت معیوب سمجھا جاتا ہے اور اگر کوئی چلنا بھی چاہے تو  بالآخر  شکست اُسکا مقدر ہے۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی اِس مُلک میں رہتے ہوئے, کسی بھی شعبے میں سیدھے ہاتھ کو چلے اور اُسکو کِسی رکاوٹ کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔ اور وہ اپنی ترقی کی منازل بآسانی طے کرتا رہے؟؟؟ اگر یہ ممکن نہیں تو میں اور آپ اِسکو ممکن  بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ ہم دنیا کے جس جس شعبے میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں, ہمیشہ سیدھی راہ ہی چلیں گے۔ اور اگر ایسا ممکن نہیں تو کم از کم سیدھے ہاتھ چلنے والوں کا ساتھ دیں گے اور اُنکے لئے کوئی رُکاوٹ کھڑی نہیں ہونے دینگے۔۔۔

Powered by Blogger.
۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...