Showing posts with label التجاء. Show all posts
Showing posts with label التجاء. Show all posts

بلاگی دوستوں کے نام

بلاگستان نے میرا ہمیشہ سے لکھنے کا شوق پورا کیا اور مُجھے اپنے اظہارِ خیالات کی کھلی آزادی دیتے ہوئے اِنہیں دُنیا کے سامنے لانے کو موقع دیا۔ بیشتر اُردو بلاگران جس لگن اور جذبے سے انٹرنیٹ کی دُنیا میں اُردو کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں وہ بلاشبہ قابل تحسین ہے۔ ایک خوش آئیند بات جو مجھے بہت پسند ہے وہ یہ کہ بلاگران ایک دوسرے سے کسی نہ کسی صورت میں رابطے میں ہیں۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس اور آن لائن چیٹنگ وغیرہ کے علاوہ، اب بیشتر بلاگران کے آپس میں براہِ راست روابط بھی ہیں اور مزے کی بات کہ یہ روابط دھیرے دھیرے دوستیوں کی اشکال اختیار کرنے لگے ہیں۔ مُلک بلکہ دُنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے اُردو بلاگران اب آپس میں بہترین دوست بنتے جارہے ہیں۔ کوئی اور رابطہ ہو نہ ہو، ہم سب کا بنیادی رشتہ ایک ہی گھرانے (یعنی بلاگستان) سے تعلق رکھنا ہے۔ :)

تمام بلاگران ایک دوسرے کی تحاریر کو پڑھنے کے علاوہ اِن پر خوب اظہارِخیالات کرتے ہیں اور اہم موضوعات کو زیرِبحث بھی لاتے ہیں۔ اِسی تسلسل میں ایک بات جو مُجھے ہمیشہ سے بُری لگتی رہی وہ ایک دوسرے کی تحاریر (بلاگی پوسٹوں) کے جواب میں لمبی چوڑی تحاریر لکھنا ہے اور اکثر یہ سلسلہ زیادہ طول اختیار کر جاتا ہے۔ بلاگران ایک دوسرے کی تحاریر کے جواب میں ایسی تحاریر لکھتے ہیں جو کسی تیسرے شخص کی سمجھ سے بالا تر ہوتی ہیں۔ پھپھے کٹنی، آنٹی اور بارہ سنگھا اِسی طرح کے سلسلوں کے مشہور کردار رہ چکے ہیں۔ جن پر بیشتر بلاگران نے بے شمار پوسٹیں لکھیں۔ اِسکے برعکس ایک ایسا سلسلہ جسے تمام بلاگران نہایت پسند کرتے ہیں اور بلاشبہ جسکی وجہ سے اِس گھرانے کے تمام افراد کا آپس میں رابطہ قائم رہا (جو کہ ایک خوش آئیند بات ہے) وہ چند خاص سوالات کے جوابات دے کر کسی دوسرے بلاگر کو ٹیگ کرنا ہے۔ ٹیگ زدہ بلاگر کو لازماً انہی سوالات کے جوابات دے کر کسی اور بلاگر کو ٹیگ کر کے اِس سلسلے کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن ایک بات جو مجھے اِن تمام تحریری سلسلوں میں مایوس کرتی ہے وہ یہ کہ کسی بھی نئے قاری کو ہماری ایسی تحاریر کی نہ تو سمجھ آتی ہے اور نہ ہی اُسکی اِن میں کوئی خاص دلچسپی ہوتی ہے۔ یوں پڑھنے والا اپنے دماغ میں انٹرنیٹ پر موجود اُردو تحاریر کا ایک منفی تاثر لے کر جاتا ہے اور دوبارہ کسی بھی اُردو بلاگ کو پڑھنے سے اجتناب برتتا ہے۔ لہٰذا میرے خیال سے ہر بلاگر کو کسی ایک بلاگر یا اُسکی کسی تحریر کے جواب میں لکھنے کی بجائے پوری دُنیا کو سامنے رکھتے ہوئے لکھنا چاہئیے۔ اگر کسی ایک بلاگر یا کسی بلاگر کی تحریر کے جواب میں لکھنا بھی ہو تو اِس انداز میں لکھا جائے کہ ہر قاری تحریر کو پڑھ کر نہ صرف بآسانی سمجھ سکے بلکہ تحریر سے پوری طرح لطف بھی اُٹھاسکے۔

بلاشبہ ایک بلاگرکیلئے تمام اُردو بلاگران کو مخاطب کرنے کا بہترین ذریعہ بلاگی پوسٹ (یعنی بلاگ پر تحریر) ہے لیکن جس نقطہ کی وضاحت میں کرنا چاہ رہا ہوں وہ یہ کہ بیشتر بلاگران کی ہر دوسری پوسٹ ہی کسی خاص بلاگر یا کسی بلاگ پوسٹ کے جواب میں ہوتی ہے۔ ہمیں ضرور ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا چاہئیے لیکن اِسکا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ہماری ہر تحریر ہی ایک دوسرے کیلئے ہو (چاہے اِسکی وجہ اپنے بلاگ کی تشہیر ہی کیوں نہ ہو) اور ہم اپنے لکھنے کا حقیقی مقصد کھو بیٹھیں۔

اِک انسان ہونے کے ناطے میری سوچ غلط یا مُجھے کوئی غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو آپ سے مثبت تبصروں کی اُمید رکھتا ہوں جو میری سوچ یا غلط فہمی کی تصیح کیلئے فائدہ مند ثابت ہوں گے وگرنہ میری تمام اُردو بلاگران سے گزارش ہے کہ ایسی پوسٹیں لکھنے میں کمی لائی جائے جن کا دائرہ کار فقط ایک بلاگر یا چند بلاگران تک محدود ہو۔ اِسکے برعکس ایسی تحاریر ذیادہ سے ذیادہ لکھنے کی کوشش کی جائے جو پوری قوم بلکہ پوری انسانیت کیلئے فائدہ مند ہوں۔

نوجوانوں کیلئے

’’بیٹا آپ۔۔۔۔ کیسے ہو؟ ‘‘ اُنہوں نے گیٹ کھولا اور مُجھے دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’جی۔۔۔۔ الحمدُللہ۔۔۔آنٹی۔۔۔ میں جُنید سے ملنے آیا تھا؟‘‘
’’بیٹا، وہ تو جم گیا ہوا ہے بس آتا ہی ہوگا۔ آپ باہر کیوں کھڑے ہو، آؤ اندر۔۔۔۔ بیٹھو۔‘‘
میں نے اپنا عُذر بیان کرتے ہوئے اجازت طلب کی لیکن جُنید کی والدہ کے بے حد اسرار کے سامنے مُجھے ہار ماننا پڑی۔
جگری یاری کے باعث ہمارا اکثر ایک دوسرے کے گھر آنا جانا رہتا ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کی والدہ مُجھ اور میرے خاندان سے بخوبی شناسا ہیں۔ حال احوال پوچھنے کے بعد کہنے لگی: ’’بیٹا اچھا ہوا آپ آگئے۔۔۔ میں کچھ دِنوں سے جُنید کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔‘‘
’’کیوں آنٹی خیریت؟ کیا ہوا جُنید کو؟‘‘

’’بیٹا۔۔۔ جُنید دِن بدن بدلتا جا رہا ہے۔ ہم سب اُسکے رویے میں نمایاں تبدیلی محسوس کر رہے ہیں۔۔۔ وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ نماز نہ روزہ، پوری پوری رات اپنے کمپیوٹر کے ساتھ چمٹا رہتا ہے، باقی ہر جانب سے اُسنے توجہ ہٹا لی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود ہمارے درمیان فاصلے بہت بڑھ چُکے ہیں۔ بیٹا تم ہی اُسے سمجھاؤ میں بہت پریشان ہوں۔‘‘ اُن کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات تو یہ تھی کہ آنٹی جُنید سے ڈرنے لگی ہیں اور مُجھ سے نہایت پریشانی کے عالم میں کہنے لگی:’’ بیٹا۔۔۔۔ اُسے مت بتانا کہ میں نے آپ سے اُسکے متعلق کوئی بات کی۔ آپ نہیں جانتے کہ اِس بات کا علم جنید کو ہوا تو اُسکا ردِعمل کیا ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر آنٹی اپنے آنچل سے آنکھوں کو ملتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دفتر میں معمول کے مطابق ہلچل تھی۔ رسیپشن پر بیٹھی لڑکی کان سے رسیور لگائے محوِ گفتگو، عملہ کے نوجوانوں کی حسبِ معمول بھاگ دوڑ، فوٹو سٹیٹ مشین آپریٹر فوٹو کاپیاں کرنے میں مصروف، خاکروب پوچا لگانے میں مگن۔۔۔۔
خاتون سہمے سہمے انداز میں دفتر کی اِس ہلچل کو دیکھ رہی تھی۔ یوں تو خواتین کی آمدورفت وہاں رہا ہی کرتی تھی لیکن اسکے تیز تیز اُٹھتے قدموں، ماتھے پر تیوری، سہمی ہوئی شکل اور چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نے مُجھے خاتون پر توجہ مرکوز رکھنے پر مجبور کردیا۔ وہ شرافت کی چادر میں لپٹی، اِک گھریلو خاتون معلوم ہورہی تھی۔ شائید اُسکو کسی کی تلاش تھی یا کسی خاص مدد کی ضرورت۔۔۔۔
کافی کا کپ میرے ہاتھ میں تھا۔ میں نے ایک چُسکی لی، کپ کو میز پر رکھا اور اُٹھ کر محترمہ کے پاس چلا آیا۔ سلام کے بعد مخاطب ہوا: ’’جی فرمائیے میڈم!‘‘ اور سوالیہ نظروں سے محترمہ کی جانب دیکھنے لگا۔
’’ یہ۔۔۔۔۔ انٹرنیٹ کنکشن آپ ہی دیتے ہیں؟‘‘ خاتون نے نہایت مؤدبانہ انداز میں پوچھا۔
میں بات کر رہا ہوں سن 1999 کی اور یہ اِسلام آباد کی پی ٹی سی ایل کے بعد سب سے بڑی انٹرنیٹ سروسز پرووائیڈنگ کمپنی تھی۔ میرا خیال تھا کہ خاتون انٹرنیٹ کنیکشن لینا چاہتی ہیں۔ رسیپشن یا متعلقہ شخص کے پاس بھیجنے کی بجائے، میں نے خود ہی انکو کنکشن دِلوانے کا سوچا لہٰذا محترمہ کو اپنے ساتھ اندرونی دفتر میں لے آیا جہاں میرے علاوہ کمپنی کے چار مزید افراد کی بھی نشستیں تھیں ۔ میں نے خاتون کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تاکہ بآسانی بات ہو سکے۔ محترمہ بیٹھتے ہی کہنے لگی: ’’میرے بیٹے کا نام احمر اقبال ہے۔ اُسنے آپسے کنکشن لیا ہے اور ہر ماہ یہاں ہی بل جمع کروانے آتا ہے۔ وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے جِس سے مُجھے بے حد اُمیدیں ہیں لیکن اِس انٹرنیٹ کی وجہ سے پوری پوری رات جاگنا اُسکا معمول بن چکا ہے۔ کل رات میں اُسکے کمرے میں داخل ہوئی تو میری نظر اُسکے کمپیوٹر پر پڑ گئی۔‘‘ یہ کہہ کر محترمہ کے آنسو یوں چھلکنے لگے جیسے وہ اپنے آنسوؤں کو بہت دیر سے روکے ہوئے تھیں۔ میں قریب ہی بیٹھے کمپنی کے سیلز مینیجر کی جانب حیران کُن نظروں سے دیکھنے لگا، میرے دیکھتے ہی اُنہوں نے نظریں جھکا لیں. اب میری زبان بھی مکمل طور پر ساکت ہوچکی تھی۔
’’اُسکی کمپیوٹر پر مشغولیات کو دیکھ کر میں دھنگ رہ گئی۔ میری تربیت اتنی تو بُری نہیں تھی۔‘‘ خاتون نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں اپنے بیٹے کا نیٹ بند کروانے آئی ہوں۔ آپ پلیز ابھی ہی اُسکا انٹرنیٹ کنکشن بند کر دیں۔ جتنا جلد ہو سکے میرے بیٹے کی جان اِس خباثت سے چھُڑا دیجئیے۔۔۔۔ ‘‘ اِس مرتبہ محترمہ آنسو بہانے کے برعکس ہمارے سامنے ہاتھ بھی جوڑنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسی سینکڑوں مائیں اپنے جگر گوشوں کیلئے بے چین اور فکرمند ہیں۔ میں نے بے شمار ایسے نوجوانوں کو دیکھا جنکی رات طلوعِ آفتاب کے بعد اور صبح سہ پہر دو یا تین بجے ہوتی ہے۔ اور تو اور فیس بُک اور چیٹنگ جیسی خباثت کی زد میں پوری پوری رات جاگنا لڑکوں کے ساتھ ساتھ اب نوجوان لڑکیوں کا بھی معمول بن چکا ہے۔ اُمتِ مسلمہ کی بیٹیاں جنکی پاک دامنی، شرافت، عزت اور حیا دُنیا کے سامنے ہمیشہ سے مثال رہی ہے، اب وہی محرموں سے چیٹنگ اور لغویات میں پوری پوری رات صرف کر دینے میں کوئی ممانعت نہیں سمجھتیں۔ پڑھائی یا کسی ضروری کام کے باعث راتوں کو جاگ کر محنت کرنے میں کوئی مماثلت نہیں لیکن اِسکو معمول بناتے ہوئے فحاش مشغولیات کو اپنانا نہ صرف قُدرت کے قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے بلکہ اپنی زندگی کی بربادی کے ساتھ ساتھ والدین کے راحت کی بھی بربادی ہے۔ نوجوانوں سے گزارش ہے کہ خُدارا اپنا نہیں تو اپنے والدین کا ہی خیال کیجئیے۔ میں نہیں چاہتا آپکی ماؤں کو جُنید یا احمر کی ماؤں کی طرح آپکی وجہ سے آنسو بہانے پڑیں یا کسی کے سامنے ہاتھ جوڑنے پڑیں۔

پرسیپشن (Perception)

عالیہ دِن دیہاڑے گھر سے لاپتہ ہوگئی۔۔۔ دِن بھر کی کوششوں، انتظار اور دُعاؤں کے بعد بھی نہیں ملی تو اماں زلیخا کہتی سُنائی دیتی ہیں: ’’عالیہ کی ماں نے اُسکا رشتہ طے کر دیا تھا جبکہ عالیہ کا ایک لڑکے سے کوئی چکر وکر چل رہا تھا، میں تو کہتی ہوں وہ اُسی بدمعاش کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔‘‘

 سیٹھ عنایت اللہ اپنی اہلیہ سے کہتے ہیں: ’’ یہ ضرور اغواہ برائے تائیوان ہے۔ تم دیکھ لینا جلد ہی کوئی فون کر کے تائیوان مانگے گا‘‘

عالیہ کی ایک سہیلی کا کہنا ہے: ’’ مُجھے یقین ہے کہ عالیہ کو اُس بلے لفنگے نے اغواہ کروایا ہے‘‘

بشیر کا کہنا تھا: ’’ عالیہ کا خاندان اِس شہر میں نیا ہے، یقیناً عالیہ کہیں راستہ کھو گئی ہوگی۔ انشاءاللہ مل جائے گی‘‘

ہمدانی صاحب کہتے ہیں: ’’مُجھے خدشہ ہے کہ کسی نے اغواہ کر کے قتل نہ کر دیا ہو‘‘
-----------------------------------------

آئیے اب آپکو بتاؤں کے اماں زلیخا، سیٹھ عنایت اللہ، عالیہ کی سہیلی، بشیر اور ہمدانی صاحب نے ایسا کیوں سوچا!!

دراصل اماں زلیخا عالیہ کو روزانہ شام دفتر سے واپسی پر ایک لڑکے کی گاڑی میں آتا ہوتا دیکھتی تھیں۔ لہٰذا اماں کو یقین تھا کہ ہو نہ ہو بات یہی ہے۔
سیٹھ عنایت اللہ کا بیٹا بھی چند سال قبل اغواہ ہوا تھا اور اغواہ کاروں نے دوسرے دِن فون کر کے تائیوان مانگا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سیٹھ صاحب کو یقین تھا کہ یہ ضرور اغواہ برائے تائیوان کی وارداد ہے۔
عالیہ اور اُسکی سہیلی روزانہ یونیورسٹی اکٹھی جایا کرتی تھیں، ایک دِن راستے میں بلے لفنگے نے عالیہ کو چھیڑا جس پر عالیہ نے اُس کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ عالیہ کی سہیلی کو اِسی وجہ سے پختہ یقین تھا کہ یہ بلے لفنگے نے ہی بدلہ لیا ہے۔
بشیر جب اِس شہر میں نیا آیا تھا تب اُسکی چھوٹی بہن ایک روز راستہ بھول گئی تھی۔ موبائل کی چارجنگ نہ ہونے کی وجہ سے بشیر کی بہن کسی سے رابطہ نہ کر پائی اور کسی نے اُسکی غلط رہنمائی کر دی جس سے وہ مزید گھر سے دور ہوگئی۔ یوں بشیر کی بہن کو گھر پہنچتے ہوئے نہایت دیر ہوگئی۔ لہٰذا وہ پراُمید تھا کہ انشاءاللہ عالیہ بھی جلد گھر پہنچ جائے گی۔
ہمدانی صاحب کے خالہ زاد بھائی کی کسی کے ساتھ دُشمنی تھی اور دُشمنوں نے اُسکے بیٹے کو اغواہ کر کے قتل کر کے نعش ایک نالے میں پھینک دی۔ یوں اُنہوں نے اپنا انتقام لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمدانی صاحب کا خیال تھا کہ عالیہ کے والد کے کاروباری دُشمنوں نے اُنکی بیٹی کو اغواہ کر کے قتل کرکے ضرور اپنا کوئی بدلہ لیا ہوگا۔

دراصل اماں زلیخا، سیٹھ عنایت اللہ، عالیہ کی سہیلی، بشیر اور ہمدانی صاحب نے اپنے گردونواح کے حالات کے مطابق وہی کچھ سوچا جو اُنکی زندگیوں میں ہورہا ہے یا ہوا جبکہ کسی نے بھی عالیہ، اُسکی زندگی، اُسکے کے گھر، اور حالات کے مطابق سوچنے کی بالکل کوشش نہ کی۔ مختلف افراد نے یہ جو مختلف اندازے لگائے اِنکو انگریزی میں ’’پرسیپشن (Perception)‘‘ کہا جاتا ہے۔

اِن پرسیپشنز (Perceptions) کی وجہ سے بہت سی غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جو ہماری زندگیوں اور مختلف رشتوں میں بیشتر تلخیوں، ناچاقوں اور دوریوں کا سبب بنتی ہیں۔ ہر فرد دوسرے شخص کیلئے اپنی سوچ اور اپنے گردونواح کے ماحول کے مطابق سوچتا ہے۔ وہ یہ کبھی سوچنے کی کوشش نہیں کرتا کہ دوسرا شخص کِس چوراہے پر کھڑا ہے، وہ جو بات یا فعل کر رہا ہے، کس نظریہ کے پیشِ نظر کر رہا ہے، اُسکی سوچ اور نظریات کیا ہیں، وہ کس ماحول میں رہ رہا ہے، وہ کیا چاہتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہم اِس انداز سے سوچنے لگیں تو شائید بہت سی تلخیاں، ناچاقیاں اور دوریاں ختم ہو جائیں۔ یاد رکھئیے آپکی ایک غلط فہمی اور ایک غلط سوچ کسی دوسرے کی زندگی برباد بھی کر سکتی ہے۔ 

آپکو دعوتِ فکر دیتا ہوں کہ آپ سے جو رشتے دور ہیں یا جن رشتوں میں ناچاقیاں ہیں، سوچئیے کہاں کوئی غلط فہمی ہے اور کہاں آپنے کسے دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ آئیے۔ ۔ ۔ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے روٹھے رشتوں اور پیاروں کی جانب پیار، محبت، اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیے۔ بھیا کی نیک تمنّائیں آپ سب کے ساتھ ہیں۔

انسان بن جاؤ!


اِنسانوں کے اِس بازار میں، خالص اِنسان نہایت قلیل ہیں۔ مانتا ہوں یہ انسان نما ضرور مگر انسان نہیں درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔ یہ اُستاد، طالبِعلم، وکیل، ڈاکٹر، انجینئر، ملازمین، مزدور، مذہبی و سیاسی رہنما غرض تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والا ہر اِک فرد اصل میں بیوپاری ہے جس میں میں اور تم بھی شامل ہیں۔ ہاں۔۔۔ تم مانو یا نہ مانو۔۔۔ میں اور تُم بھی بزنس مین ہیں۔ ہماری زندگیوں کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے یہی وجہ ہے کہ میں جب سے انٹرنیٹ پر بلاگنگ کر رہا ہوں، بے شمار افراد نے مجھ سے ایک ہی سوال کیا کہ کیا اِس بلاگنگ سے کوئی آمدنی بھی ہوتی ہے؟ میرا جواب ہمیشہ نفی میں رہا۔ جس پر دوسرا سوال جو میرے منہ پر مارا جاتا وہ یہ کہ پھر آپ کیوں یہاں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں؟ آپکو اِس سے کیا ملتا ہے؟ ہاں۔۔۔ ہماری زندگیوں کا مقصد تو صرف پیسہ کمانا ہے۔ ہم کیا جانیں یہ دِلی سکون، دِلی خوشی، محبت، ہمدردی، جذبہ، ایمان اور شوق کیا ہوتا ہے۔

ایک بچے کی ہی مثال لے لیجئیے جو ابھی مکمل بولنے کے قابل بھی نہیں ہوپاتا لیکن اُسکے دِماغ میں یہ بات ٹھونس دی جاتی ہے کہ تم نے ڈاکٹر بننا ہے، یہی تمہارا مقصدِ حیات ہے، اِسی میں تمہاری فلاح ہے۔ تم نے پڑھائی اور محنت کی صورت میں خوب سرمایہ کاری کرنی ہے تبھی اچھے ڈاکٹر بنو گے۔ اور جتنا گُڑھ ڈالو اتنا میٹھا کے مصداق جتنی سرمایہ کاری کرو گے اُتنا ہی نفع۔۔۔ گویا بچے کو بچپن سے ہی بیوپار کے اُصول سکھا دئیے جاتے ہیں۔ یہی بچہ بڑا ہوکر ڈاکٹر بنتا ہے، اپنا ہسپتال نما کارخانہ بنا لیتا ہے۔ اب اِس کارخانہ میں صرف وہی علاج پائے گا جو فیس بھرے گا۔ ہاں۔۔۔ کوئی مرتا ہے تو مرے۔۔۔ علاج تبھی ہوگا جب معاوضہ ملے گا۔ یہی بچہ اگر اُستاد بن جاتا ہے تو سکول نما کارخانہ، جہاں کسی غریب کا بچہ قطعاً تعلیم نہیں پاسکتا۔۔۔ فیس بھرو فیس۔۔۔ یہی بچہ عالم ہے تو علم کا تاجر، قاضی ہے تو انصاف کا تاجر، حاکم ہے تو رعایا اور اُنکے کے حقوق کا تاجر، سپاہی ہے تو ریاست کے امن کا تاجر، فوجی افسر ہے تو سرحدوں کا تاجر اور تاجر بھی ایسا کہ جسکے بنیادی ہتھیار رشوت، سفارش، جھوٹ، فراڈ اور بددیانتی ہیں۔ تبھی میں کہہ رہا ہوں کہ ہم انسان نما ضرور مگر انسان نہیں، درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔

انسان تو وہ ہیں جنہیں انسانیت کے تقاضوں کی نہ صرف پہچان ہے بلکہ وہ باخوبی اِن تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں۔ انسان اتنا خود غرض، لالچی، بےغیرت اور بےحس نہیں ہوتا جتنے آج ہم ہوچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان مشرق سے لے کر مغرب تک ہر جانب ظلم کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ میرے کتنے ہی بےگناہ مسلمان بہن بھائی کفار کی قید میں اُنکے مظالم سہ رہے ہیں۔ اور قید بھی گوانتا ناموبے جیسی جہاں وہ وہ ظُلم ڈھائے جاتے ہیں کہ جسکا تصور ہی لرزا دینے کیلئے کافی ہے۔ ہاں وہ میری ہی قوم کے باشندے ہیں جنہیں برہنہ کر کے برف خانوں میں لٹا دیا جاتا ہے، کتوں کے سامنے پھینک دیا جاتا ہے، پانی کی بجائے خون اور نہ جانے کیا کچھ پلایا جاتا ہے، میری ماؤں اور بہنوں کی عزتیں سینکڑوں مرتبہ لوٹی جاتی ہیں، وہ روز روز کے مرنے سے تنگ آکر اِک ہی مرتبہ مرنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں شکوہ ہے ہم سے کہ اُنکے مسلمان بہن بھائی بےخبر سو رہے ہیں۔ مگر اُنہیں کیا بتلاؤں کہ ہم تو انسان ہی نہیں رہے۔ پھر ہمارے پاس اتنا وقت کہاں کہ کسی کیلئے سوچیں۔ وہ مسلمان جو اللہ کی مدد کی اُمید کا ہتھیار لے کر تمہاری مدد کیلئے اپنے گھروں کو چھوڑ ڈالتے ہیں، ہم تو اُنہیں دہشت گرد اور بیوقوف تصور کرتے ہیں کہ اُنہیں اِس سے کچھ حاصل نہیں۔ ہمارا مذہب، ہمارا ایمان، ہمارا خدا اور ہمارا سب کچھ تو صرف پیسہ ہے پیسہ۔۔۔ ہم تو راتوں کو سونے کی بجائے یہ سوچتے ہوئے گزار دیتے ہیں کہ کیسے اپنا محل بنا لیا جائے، کیسے لمبی گاڑی آجائے، کیسے بڑا عہدہ مل جائے، کیسے فرعون جیسی شان مل جائے، ہم تو زمین کے ایک ٹکڑے کی خاطر اپنی ماں کو گالیاں دے جاتے ہیں، باپ کو جیتا جی مار دیتے ہیں۔۔۔ ہاں۔۔۔ کیا کیا بتلاؤں تمہیں۔۔۔ کہنے کو تو بہت کچھ ہے۔۔۔ مگر تم صرف یہ مان لو کہ ہم انسان نما ضرور مگر انسان نہیں، درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔

آؤ ۔۔۔ چند لمحوں کیلئے ۔۔۔ ذرا دماغ پر زور دو ۔۔۔ اِس بازار کے شوروغل سے ذرا پرے ہٹ کے، اپنے دماغ سے اپنی کاروباری زندگی کے نفع و نقصان، لالچ و خود غرضی کے پردوں کو ہٹاؤ، ذرا ضمیر کی اَکھیوں کو کھولو اور سوچو کہ تم اِس دُنیا میں کیوں آئے؟ کیا تمہارے یہاں آنے کا کوئی مقصد تھا؟ کب تک رہنا ہے یہاں؟ آخر تمہاری اِس زندگی کا انجام کیا ہے؟ یہاں سے جاتے ہوئے ساتھ کیا لے کر جاؤ گے؟ کبھی سوچا کیا یہ تم نے؟ اگر نہیں سوچا تو بخدا آج سوچ لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ تمہاری زندگیوں کا وہ مقصد نہیں ہے جو تم بنا بیٹھے ہو۔ ابھی بھی وقت ہے۔ اِس بیوپار کو چھوڑو اور انسان بن جاؤ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ انسان بن جاؤ!

سیدھی راہ

آج میں آپکے سامنے ایک ایسا مسئلہ بیان کرنے جا رہا ہوں جو شائید  آپ سب کیلئے کوئی بڑی بات نہ ہو لیکن میرے لئے یہ اِک بڑا مسئلہ ہے۔ اِس مسئلے کا  سامنا مجھے ہر آئے دن کرنا پڑتا ہے۔ دراصل  بات کچھ یوں ہے کہ ابھی حال ہی میں مجھے ایک سُنت عمل کا علم ہوا  ہے جس سے شائید آپ میں سے بھی  کچھ حضرات واقف نہ ہوں اور وہ سُنت یہ ہے کہ اگر آپ کسی سواری پر سوار ہیں تو  راہ کی بائیں جانب کو اختیار کریں اور اگر پیدل ہیں تو ہمیشہ راہ کی دائیں جانب چلیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہمارے اِس مُلک کے ٹریفک کا قانون بھی اِسی سُنت کے مطابق ہے۔  یعنی اگر آپ سواری پر سوار ہیں تو بائیں جانب وگرنہ دائیں جانب چلیں۔ چونکہ ہماری ٹریفک پولیس اِس سنت کے پہلے حصے پر تو زبردستی عمل کرواتی ہے لیکن دوسرے حصے کا کبھی ذکر نہیں کیا گیا اِس لئے  عوام  یہی سمجھتی ہے کہ پیدل چلتے ہوئے بھی راہ کی بائیں جانب کو ہی اختیار کرنا چاہئیے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہرائیں ہوں یا بازار یا کوئی گلی محلہ ‘ پیدل چلنے والے ہمیشہ راستے کہ بائیں جانب ہی چلتے  نظر آتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق دائیں جانب چلنے کا ثمر یہ ہے کہ آپ سامنے سے آتی ہوئی گاڑی کو بآسانی دیکھ سکتے ہیں اور ایسے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچ سکتے ہیں۔
آپ سب سوچ رہے ہوں گے کہ اِس پوری بات میں مسئلہ کیا تھا؟ دراصل یہی تو مسئلہ ہے کہ اگر کسی بازار وغیرہ میں چلتے ہوئے اِس سُنت پر عمل کیا جائے تو ہر ہر قدم پر آپکو ایک ایک دھکے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کہیں کسی کا کندھا آپکے کندھے سے ٹکرا رہا ہے تو کہیں کسی کا پاؤں آپکے پاؤں پر آرہا ہے۔ اور اگر مخالف شخص سخت طبیعت کا ثابت ہوا تو شائید آپکو کچھ کھَری کھَری سنا بھی جائے  اور ایسے میں ہو سکتا ہے کہ آپکو اَن پڑھ, جاہل اور  بیوقوف  جیسے چند القابات سے بھی نواز دیا جائے۔ اگر تو آپ بول پڑے کہ بھیا میں تو سہی جانب کو چل رہا ہوں۔۔۔ غلط تو آپ ہیں تو پھر اپنی خیر منائیے۔۔۔ آپکے مخالف کو چونکہ اِس بات پر پورا یقین ہے کہ بائیں طرف کو ہی چلنا دُرست ہے لہذا اُسکے بگڑ جانے کے امکانات زیادہ ہیں اور مُمکن ہے کہ وہ چلانا بھی شروع کر دے ۔ ایسے میں اگر دو چار بندے اور بھی جمع ہو گئے تو قصوروار آپکو ہی ٹھہرائیں گے۔۔۔ روڈ ہو یا بازار‘ کوئی مُحلہ ہو یا کوئی گلی۔۔۔  دائیں جانب چلتے ہوئے ہمیشہ ہی  اِس مسئلےکا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔
ہمارے اِس اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کوئی بھی شعبہ ہو‘ اگر آپ سیدھے ہاتھ پر چلنے کی کوشش کریں گے تو لاکھ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کہیں کوئی سامنے سے آکر آپکو ٹکرتا ہے تو کہیں کوئی دائیں بائیں سے۔ سرکاری شعبہ ہو یا غیرسرکرکاری , آپکو کسی صورت بھی سیدھے ہاتھ نہیں چلنے دیا جائے گا اور اگر آپ پھر بھی اپنی راہ کے اِس تعین پر بضِد ہیں تو آپکو اُن تمام نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جو قانوناً  اور شریعۃً اُلٹے ہاتھ پر چلنے والے کا مقدر ہونے چاہئیے تھے۔ غرض اِس پورے ماحول میں جہاں سب اُلٹے ہاتھ کو ہی چلتے ہیں, اب سیدھے ہاتھ پر چلنا نہایت معیوب سمجھا جاتا ہے اور اگر کوئی چلنا بھی چاہے تو  بالآخر  شکست اُسکا مقدر ہے۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی اِس مُلک میں رہتے ہوئے, کسی بھی شعبے میں سیدھے ہاتھ کو چلے اور اُسکو کِسی رکاوٹ کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔ اور وہ اپنی ترقی کی منازل بآسانی طے کرتا رہے؟؟؟ اگر یہ ممکن نہیں تو میں اور آپ اِسکو ممکن  بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ ہم دنیا کے جس جس شعبے میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں, ہمیشہ سیدھی راہ ہی چلیں گے۔ اور اگر ایسا ممکن نہیں تو کم از کم سیدھے ہاتھ چلنے والوں کا ساتھ دیں گے اور اُنکے لئے کوئی رُکاوٹ کھڑی نہیں ہونے دینگے۔۔۔

خُدارا اِس بات کو سمجھئیے

جب پہلی پوسٹ پبلش کی تو بہت سے خواتین و حضرات نے عورتوں کے نماز پڑھنے کے طریقے کو بھی پبلش کرنے کی گزارش کی۔ اِس میں کوئی شک نہیں کی مرد حضرات تو مساجد میں نماز پڑھ لیتے ہیں اور جسکی نماز درست نہیں ہوتی وہ بہت جلد اِس ماحول میں جا کر سیکھ لیتا ہے۔ مگر سارا مسئلہ تو میری ماؤں بہنوں کا ہے کہ وہ ایسی مجالِس میں نہیں جاسکتی جہاں اسلام کی تعلیم دی جائے اور نہ ہی آجکل کے مردوں کو یہ شوق رہا ہے کہ اُنکے گھر کی مستورات اسلام کو سیکھیں۔ اگر اِس اُمت کی صرف مستورات دین پر عمل کرنے لگیں تو یہ پوری اُمت بآسانی راہِ راست پر آسکتی ہے کیونکہ ایک مرد کیلئے پورے گھرانے کو سُدھارنا اتنا آسان نہیں جتنا کہ ایک عورت کیلئے۔ میری تمام بھائیوں سے گزارش ہے کہخود بھی دین کو سیکھنے کی جستجو پیدا کریں اور اپنے گھر کی مستورات کو بھی سکھائیں۔ اکثر محلوں میں یا کچھ مدارس میں عورتوں کو باقاعدہ اسلام کی تعلیمات دی جاتی ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ایسی جگہوں کو تالاش کر کے اپنے گھر کی عورتوں کو بھی دین سیکھنے بھیجیں۔ کل کو ہمیں بھی ﷲ کے سامنے اپنی ماںبہین‘ بیوی اور بیٹی کے بارے میں جواب دہ ہونا ہے۔ اِسکے علاوہ میری مستورات سے بھی گزارش ہے کہ برائے مہربانی اپنے اوپر رہم کرتے ہوئے خود بھی اپنے اندر دین سیکھنے کی جستجو پیدا کریں۔ آج مسلمانوں کے زوال کی وجہ اِنکی دین سے دوری ہے۔ جب تک مسلمان دینِ اسلام پر عمل پیرا رہے تو اﷲ انکو کامیابیوں سے نوازتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر پچاس فیصد اُمت صرف نماز پر آجائے تو مسلمانوں کا زوال رُک جائے گا اور جب پچاس سے ایک فیصد بھی اضافہ ہوگا تو مسلمانوں کے عروج کی ابتدا ہوگی۔
عورتوں کے نماز کے طریقے کو پبلش کرنے میں سارا مسئلہ عورت کے چہرے کا دِکھانا تھا۔ میں نہ تو کوئی عالم ہوں نہ مفتی کہ خود سے ارکانِ اسلام پر بحض کروں۔ لہٰذا میں کچھ ایسے لنکس کی تلاش میں تھا کہ جس میں  عورت کی صورت نہ دکھائی گئی ہو۔ یہ وہ لِنک ہے جہاں سے آپ عورت کے نماز پڑھنے کا طریقہ ڈاؤن لوڈ کر سکتےہیں:
عورت کی نماز کی تصاویر دیکھنے کیلئے یہ لِنک وزٹ کریں:
بہتر تو یہ ہے کہ آپ انٹرنیٹ پر اسلام سیکھنے کی زیادہ جستجو مت کریں بلکہ عملی طور پر کوشش کریں اور علماءِاکرام سے رابطہ رکھیں کیونکہ اِس میں زیادہ نفع ہے۔ کوئی شخص بیمار ہو تو فوراً ڈاکٹرز کے پاس لے جایا جاتا ہے۔۔۔ گھر بنوانا ہو تو ٹھیکیدار یا مزدور سے رابطہ کیا جاتا ہے۔۔۔ گاڑی خراب ہونے کی صورت میں ورکشاپ کے چکر لگائے جاتے ہیں۔۔۔ تعلیم حاصل کرنے کیلئے سکولوں کا رُخ کیا جاتا ہے۔۔۔ غرض زندگی کے ہر شعبے میں اُسکے ماہرین سے روابط اختیارکئے جاتے ہیں مگر افسوس سد افسوس کہ اسلام کے معاملات میں کبھی کوئی علماء سے رابطہ نہیں کرتا۔ اور تو اور خود ہی اپنے آپکو اسلام کا ماہر سمجھ کر فیصلے کرنے لگ جاتا ہے۔ اگر اتنا علم اور عقل ہے ہمارے پاس تو ہم ڈاکٹر کے پاس کیوں جاتے ہیں؟ خود علاج کیوں نہیں کر لیتے؟؟؟ گھر بنوانا ہے تو خود بنائیں۔۔۔ گاڑی خراب ہو گئی ہے تو خود کیوں نہیں ٹھیک کر لیتے؟؟؟ ارے ہم نے تو صرف اتنا فیصلہ کرنا ہے کہ کونسا ڈاکٹر اچھا ہے اور کونسا نہیں؟ یہ کہنا کوئی عقلمندی کی بات نہیں کہ اب تو کوئی اچھا ڈاکٹر ہی نہیں رہا۔ اب میں اپنا علاج خود کروں گا۔ نہیں بلکہ اچھے اور بُرے لوگ تو ہر جگہ موجود ہیں چاہے وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں۔ ہمارا کام صرف اِن میں فرق کرنا ہے۔ خُدارا اِس بات کو سمجھئیے!!!
Powered by Blogger.
۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...