Showing posts with label بھیا. Show all posts
Showing posts with label بھیا. Show all posts

میں بھیا ہوں

جب سے اِس گلوبل ویلیج خصوصاً بلاگنگ کی دُنیا میں بنام ’’عادل بھیا‘‘ قدم رکھا، تب سے اِک سوال کا سامنا بکثرت کرتا چلا آرہا ہوں۔ یوں تو سوالات عموماً انسان کو پریشان کئے دیتے ہیں لیکن اِس سوال کو سُن کر میں ہر مرتبہ اِک انجانی سی خوشی محسوس کرتا ہوں اور ہو بھی کیوں نہ، جب سوال کرنے والے کا اندازِ سوال کچھ دِلچسپ ہو۔ جی ہاں! میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ آج تک یہ سوال کرنے والے ہر شخص کا اندازِ سوال دِلچسپ، اُسکی لبوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں شرارت کی تجلی ہوتی ہے۔
آپ یہ سوال جاننے کیلئے بیقرار ہورہے ہوں گے جبکہ بیشتر کو اندازہ ہوچکا ہوگا کہ میں کس سوال کی بات کررہا ہوں۔ تو سُنئیے! دراصل میرا پہلا ایمیل ایڈریس اور موجودہ بلاگ جو کہ دونوں بنام ’’عادل بھیا‘‘ ہیں کو دیکھ کر بیشتر قارئین بشمول دوست احباب اور چند عزیزواقارب یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے نام کے ساتھ ’’بھیا‘‘ منصوب کرنے کی کوئی خاص وجہ یا اِسکے پیچھے کوئی خاص پسِ منظر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشمار قارئین یہ جاننا چاہتے ہیں، بیشمار مُجھ سے یہ سوال کر چکے ہیں اور تاحال اِس طرز کے سوالات کا سامنا اکثر و بیشتر کرتا رہتا ہوں کہ اپنے نام کے ساتھ ’’بھیا‘‘ منصوب کرنے کی کیا وجہ ہے؟ کیا اِسکے پیچھے کوئی خاص پسِ منظر ہے؟ میں کیا سوچ کر ’’بھیا‘‘ کہلواتا ہوں اپنے آپکو؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
(اِس وغیرہ وغیرہ کو فضول مت سمجھئے گا کیونکہ اِس میں یاروں کی بہت سی دِلچسپ قیاس آرائیاں شامل ہیں۔)

خیر۔۔۔ سب کو بارہا یقین دِلانے کے باوجود کہ اِسکے پیچھے کوئی خاص وجہ نہیں ہے، سوچا کیوں نہ ایک تفصیلی تحریر ہی لکھ دی جائے (تاکہ سند رہے)۔ شائید اپنے نام کے ساتھ بھیا لگانے کی وجہ میرے ایک اُستادِ محترم ہیں۔ جی ہاں! درحقیقت چھٹی جماعت میں میرے ایک اُستاد تھے جنکے بقول تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور اِسکی عملی تعلیم ہم اُساتذہ نے ہی بچوں کو دینی ہے۔ لہٰذا اُنہوں نے تمام طلبہ کیلئے یہ قانون سختی سے نافذ کر رکھا تھا کہ سب ایک دوسرے کو اُنکے ناموں کے ساتھ بھائی اور بہن کہہ کر پکاریں گے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت مولا بخش کاروائی عمل میں لائی جاتی تھی۔ جسکا نتیجہ یہ تھا کہ دو طلبہ آپس میں جھگڑنے کے بعد اُستادِ محترم کو شکایت بھی کچھ اِس انداز سے لگایا کرتے تھے:
’’سر علی بھائی میری پنسل واپس نہیں کر رہے۔۔۔‘‘
’’ نہیں سر جنید بھائی مُجھے میری کتاب نہیں دے رہے۔۔۔‘‘
’’سرررر!! علی بھائی کہہ رہے ہیں کہ بچو تُو باہر نکل، میں تُجھے بتاتا ہوں
۔۔۔‘‘

اِس اسکول کو چھوڑے ہوئے اِک لمبہ عرصہ بھیت گیا لیکن سب کو بھائی بھائی کہنا مُجھے آج بھی بہت بھلا لگتا ہے۔ (یاد رہے یہ مسلمانوں کے بھائی چارے والا بھائی ہے نہ کہ لندن کے چارے والا!)۔ یہی وجہ ہے کہ اپنا پہلا ایمیل ایڈریس بناتے ہوئے میں نے اپنا یوزرنیم ’’عادل بھائی‘‘ رکھنے کی کوشش کی لیکن یہ نام پہلے استعمال ہوچکا تھا لہٰذا میں نے ایسے ہی مختلف یوزرنیمز رکھنے کی پے درپے کوشش کی لیکن ہر کے جواب میں یاہو ایک نئے نام کے ساتھ نئی کوشش کرنے کو کہتا۔ بالآخر میں نے بھائی کے آگے دو حروف ’’ya‘‘ لگا کر کوشش کی (جو کہ بھیا بنتا ہے) تو یاہو نے قبول کر لیا۔ وہ دِن اور آجکا دِن، انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر جگہ اِس نام کی بآسانی دستیابی کی بناء پر میں اپنے تمام اکاؤنٹس میں یوزرنیم ’’عادل بھیا‘‘ ہی استعمال کرنے لگا۔ اِسی تسلسل میں بلاگنگ کا آغاز کرتے ہوئے پہلا نام جو ذہن میں آیا وہ ’’عادل بھیا‘‘ ہی تھا لہٰذا اِسی نام سے ہی بلاگ بنایا اور آج آپکے سامنے۔۔۔ قصہ مختصر بس یہی وہ معمولی سا پسِ منظر ہے جسکی وجہ سے میں نے اپنے نام کے ساتھ بھیا منصوب کر رکھا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ صرف دوستوں بلکہ چند اُن رشتہ داروں نے بھی مُجھے بھیا کہنا شروع کر دیا ہے جو میرے بلاگ سے واقف ہیں۔ بات صرف یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب تو دفتر میں بھی رفتہ رفتہ ’’بھیا‘‘ کا ڈھنڈورا پیٹا جانے لگا ہے۔ غرض مُجھے خوشی ہمیشہ فقط اِس بات کی ہوتی ہے کہ قارئین بشمول دوست اور عزیزواقارب اِسکو کچھ دِلچسپ پیرائے میں لیتے ہیں۔ جسکی بناء پر اب کسی کے بھی منہ سے اپنے لئے بھیا سُن کر بہت اچھا لگتا ہے کیونکہ میں مکمل طور پر تسلیم کر چکا ہوں کہ ’’میں بھیا ہوں!‘‘

انسانی آئینہ کی تلاش

میں اِک کثیر عرصہ سے کسی ایسے انسانی آئینہ کی تلاش میں ہوں جس میں مُجھے اپنا عکس نظر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ جس انسان سے بھی ملتا ہوں، اُس میں اپنا آپ ڈھونڈنے لگتا ہوں۔ کچھ انسان جو دِل کو بھا جاتے ہیں، جن کی کچھ ادائیں دِل میں گھر کر لیتی ہیں، میں اپنی جان، مال اور وقت کی پروا کئے بناء اُنکے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہوں اور گر چند لمحوں کیلئے اُنکا ساتھ نصیب ہو جائے تو اُن میں اِک عادل تلاش کرنے لگتا ہوں۔ ہاں اُنکی چھوٹی چھوٹی عادات میرے مشاہدے سے گزرنے لگتی ہیں کہ شائید کوئی عادت مجھ سے مشابہ ہو۔ میں اِس سفر میں بہت سے افراد سے ملا جن میں بچوں سے لے کر جوان اور ضعیف العمر مردوخواتین شامل ہیں۔ کچھ لوگوں کے قریب ہوتے ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ مجھ میں اور اِن میں زمین آسمان کا فرق ہے لہٰذا میں واپسی کی راہیں ہموار کرنے لگتا ہوں جبکہ کچھ افراد سے مل کر اپنا آپ سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ میں اُنکی عادات کا مزید گہرائی میں مشاہدہ کرنے لگتا ہوں۔ ایسے میں کسی کی سوچ کا کچھ حصہ مُجھے اپنی سوچ سے اور کسی کی کوئی ایک یا زائد عادات مُجھے اپنی عادات سے ملتی جلتی دِکھائی دینے لگتی ہیں۔ خوشی تو تب ہوتی ہے جب ایک فرد کی بیشتر عادات اور سوچ، میری عادات اور سوچ سے مشابہ ہوں۔

افسوس اِس بات کا ہے کہ اِس سفر میں ہمیشہ ایک ہی نتیجہ نکلا کہ اِس دُنیا میں دو اِنسان قطعاً ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ ایسا کوئی نہ کوئی موڑ ضرور آتا ہے جہاں میں دائیں کو جانا چاہوں گا اور میرا ہمسفر بائیں کو۔ اِس نتیجہ سے مایوس ہو کر نجانے کتنی ہی مرتبہ یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ اب یہ سفر طے کرنا چھوڑ دوں۔ لیکن شائید کسی ایسے انسان کی یہ تلاش میری فطرت میں ہے۔ مُجھے یوں محسوس ہوتا ہے گویا جس اِنسان کی مُجھے تلاش ہے وہ مل جائے گا لیکن پھر یہ سوچ کر اپنے ہی لئے لبوں پر اِک مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ شائید یہ اپنی بیوقوفی پر اِک طنزیہ مسکراہٹ ہوتی ہے کہ اِس سفر میں جو نتیجہ ہمیشہ سے نکل رہا ہے میں ابھی بھی اسکی نفی کرتے ہوئے اُس سے مخالف نتیجہ کی اُمید رکھتا ہوں۔ اِس سفر کا ایک نقصان، میرا ہر دوسرے شخص سے بے پناہ مخلص ہو جانا ہے۔ اِس مخلصی میں میں نے ہمیشہ دوسروں کی ذات کو اپنی ذات پر ترجیح دی، اپنے قیمتی وقت میں سے دوسروں کیلئے وقت نکالا، ممکنہ حد تک اُنکے معاملات میں اُنکا ساتھ دیا، اُن کیلئے ہمیشہ مثبت سوچ رکھی۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ اِس سب کے باوجود اِسی مخلصی میں متعدد بار ڈسا جاچکا ہوں۔ لہٰذا یہ جاننے کے باوجود کہ ہر کسی کی فطرت، محسوسات (Feelings)، عادات، جذبات اور سوچ کا یہ مشاہدہ شائید میری فطرت بن گئی ہے یا نجانے عادت، اب اِک مرتبہ پھر میں نے اپنے اِس سفر کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے!!

مگر اِس سفر کی حسین یادوں کو میں کبھی بھُلا نہ پاؤں گا۔ مُجھے خوشی ہے کہ میں نے اِس عرصہ کے دوران بہت سے لوگوں کی فطرت کو پڑھنے کی کوشش کی۔ بیشتر اوقات اپنے آپکو دوسروں کی جگہ رکھ کر بھی سوچا جسکے نتیجے میں میں نے ہمیشہ بہت کچھ پایا اور سیکھا۔ میرے نزدیک میرے اِس سفر نے مُجھے نہ صرف بہت اطمینان اور سکون دِلایا بلکہ اِس دُنیا کی بہت سی پوشیدہ حقیقتوں اور اُصولوں سے بھی روشناس کروادیا۔ بلاشبہ یہ اِک حسین سفر تھا

بھیا کی شاعری

اِک زمانہ میں ماحول اور وقت نے ہمیں بھی شاعری کرنے پر مجبور کیا لہٰذا ہم قلم اور کاغذ ہاتھ میں تھامے بیٹھ گئے اور شام تک اپنے مقصد میں کُچھ حد تک کامیاب ہو ہی گئے۔ چند اشعار تو لکھ لئے مگر مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ ہمارے علاوہ یہ اشعار پورے گھرانے میں کسی کے بھی پلے نہ پڑے۔۔۔۔ گھرانے میں کیا، آج تک یہ اشعار جس کو بھی سُنائے، بیشتر کے سر کے اوپر سے ہی گزر گئے۔ اپنی کوشش کو جاری رکھتے ہوئے ہم نے چند اِک مرتبہ دوبارہ بھی قلم اُٹھایا اور ہر مرتبہ اپنی ڈائری میں لکھ کر ڈائری سنبھالے دیتے۔ بالآخر اُردو کے ایک پروفیسرکو ڈائری دِکھائی تو جناب نے ہماری آنکھیں کھولنے میں ہماری معاونت فرمائی کہ جو کُچھ ہم آج تک لکھتے رہے اگر اُنکو اشعار کہا بھی جائے تو معذور میرا مطلب ہے کہ بغیر ہاتھ اور  پاؤں کے اشعار کہا جائے گا۔ خیر وہ دِن اور آج کا دِن دوبارہ کبھی لکھنے کی زحمت ہی نہ کی۔ نہ ہی کبھی اپنے اِن شاہکاروں کا ذکر کسی سے کیا۔ آج کافی عرصے بعد ڈائری کھولی تو سوچا کیوں نہ چند اشعار کا تذکرہ اپنے بلاگ پر دوستوں اور قارئین سے کیا جائے۔ لہٰذا کُچھ اشعار پیشِ خدمت ہیں۔
فکر مت کیجئیے! ہم اشعار کے نیچے مُشکل الفاظ کے معانی بھی لکھے دئیے دیتے ہیں تاکہ آپ حضرات پڑھنے کے بعد بھیا کی (طنز پر مبنی) عزت افزائی نہ کردیں۔

نوٹ: یہ اشعار نما سطور بھیا نے فقط سولہ سے سترہ سال کی عمر میں لکھی تھیں۔ لہٰذا اگر پسند نہ آئیں  (جِس کے ننّاوے فیصد امکانات ہیں)یا اُردو ادب کی توہین محسوس ہو تو برائے مہربانی معاف فرمائیے گا۔

نہیں  ہیں  بھولتے   بسم اللہ   آلویز  ہم
کرتے  ہیں  جب کبھی  کُچھ   رائٹ  ہم

اُٹھایا  نہ  تھا  پہلے کبھی بھی   ہم  نے  قلم
یاس  نہ ہوئے تھے  عالمِ ناپائیدار  سے  ہم

چاروں جانب نظر آتے تھے جو  سروِچرواغاں
پھیلائے رکھتے تھے تابندگی زندگی میں جاوداں

یہ مصنوعی  تابندگی  سروچراغاں   کی نہ تھی
چراغ رہ گزر تھا ہوگیا نظرہوائے تندِجولاں

نہیں کرتے کوئی شکوہ  ان آندھیوں سے  ہم
جگا کر مُجھ کو انہوں نے بہت کیا ہے   احساں

ثابت  ہوتا  ہے  وہی  مارِآستین  جاوداں
کرتے  ہیں  جن سے  ہم   پیار  بے کراں

مسّیں بھیگنے سے قبل بچا لیا دُنیا کے فریب سے
یہ میرے رب کا ہے  مُچھ دِل گرفتہ پر  احساں

کہاں  گئی  وہ مہرو ولا بھری دُنیا  اے اللہ!
کہاں ہے پنہاں  خوشی بھرا فدینا  اے اللہ!

معانی:      
یاس                          :   نا اُمید
عالمِ ناپائیدار                 : فانی دُنیا
سروِچراغ                  : مصنوعی سرو کا درخت جِسکو مُختلف روشنیوں سے سجایا گیا ہو
تابندگی                      : چمک، روشنی (مراد رونق اور خوشیاں)
جاوداں                      : ہمیشہ      
چراغِ رہ گزر                 : ایسا چراغ جو ہلکی سی ہوا سے بُجھ جائے
ہوائے تندِ جولاں         : تیز ہوا (مراد زندگی کی تلخیاں ہیں)
آندھیوں                   : مراد زندگی کی تلخیاں
مارِ آستیں                    : وہ شخص جو دوست بن کر دُشمنی کرے
بے کراں                   : بے حد، بہت ذیادہ
مسّیں بھیگنا                 : داڑھی مونچھ نکلنا، جوان ہونا
دِل گرفتہ                    : شکستہ دِل، غمگین، اُداس
مہروولا بھری دُنیا          : محبت اور پیار سے بھری دُنیا
پنہاں                         : چھُپا ہوا، خفیہ
فدینا                         : خزانہ           
مزید پڑھا کر ہم اپنی مزید عزت افزائی نہیں کروانا چاہتے لہٰذا اِسی پر ڈکار مارئیے....

باباجی

بابا جی نے ساری زندگی نہایت تکالیف و مصائب کا سامنا کرتے ہوئے گزاری۔ لیکن اب تقدیر مہرباں ہوئی اور باباجی کو ایک ریٹائرڈ کرنل سے ملاقات کا اتفاق ہوا۔ کرنل بھی ایسا کہ جسکو دیکھ کر ہم ہمیشہ بدگمانی کا شکار ہوئے جاتے اور کرنل اور مُملکتِ زرداریوں کی فوج کے درمیان موازنہ کرنے لگتے۔ آخر اس نتیجے پر پہنچتے کہ ہمارے دیس کی فوج تو قطعاً ایسی مہذب ہو نہیں سکتی، یقیناً یہ کرنل بگڑا ہوا ہے جس میں انسانیت اور شرافت ابھی بھی کافی حد تک رچ بس رہی ہے۔ خیر۔۔۔ باباجی نے کرنل کے عُہدے، جیب اور اُسکے اس بگڑے پن ہمارا مطلب ہے کہ شرافت سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی۔ چند ملاقاتوں کے بعد باباجی نے کرنل کو اپنی ایک ٹھیکیدارانہ نوعیت کی کمپنی بنانے پر رضامند کر لیا۔ دونوں نے شراکت داری بھی ایسی کی، کہ جسکی سمجھ آج تک ہمارے اس ناقص دماغ میں نہیں آئی۔ آسان الفاظ میں بتائے دئیے دیتے ہیں کہ سرمایہ داری ساری کرنل کی اور منیجمنٹ باباجی کی۔
دراصل باباجی پیشے سے ایک ٹھیکیدار تھے لیکن اب کرنل سے ملاقات کے بعد اپنی ٹھیکیداری کو مُکمل بھُلا چُکے ہیں۔ کرنل نے دفتری اور قانونی کاغذوں میں اپنے آپکو مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم۔ڈی) کہلوانا شروع کردیا، یہ دیکھا دیکھی باباجی کو بھی شے چڑی اور اُس دن کے بعد باباجی بھی کپمنی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل کہلوانے لگے۔ ٹھیکیداری کے دور میں باباجی کی کُل تعلیم فقط ایک ڈپلومہ تھا لیکن ڈائریکٹر ٹیکنیکل بننے کے بعد دفتری کاغذوں میں باباجی کے نام کے ساتھ مکینیکل انجینئیر لکھا جانے لگا۔ ٹھیکیداری کے دوران باباجی نے مُختلف ٹھیکیداروں کے جو جو بڑے بڑے قصے سُنے اب وہ تمام باباجی کی شخصیت کے ساتھ منسلک ہونے لگے۔ جی ہاں! دفتری عملہ ہو یا کسی محکمہ میں کوئی میٹینگ، اب باباجی کی ہر بات کا آغاز اپنے تجربات سے ہی ہونے لگا اور تجربات کی فہرست بھی ایسی کہ جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لے۔ ہر ایسا منصوبہ جو انکے کسی جاننے والے یا کسی بڑے ٹھیکیدار نے مکمل کیا ہو اب وہ باباجی کا ہی کارنامہ کہلانے لگا۔
باباجی نے کُرسی پر تشریف رکھنے کے بعد ایک اچھے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے برابر کی کُرسی اپنے جانشین کیلئے مُختص فرما دی۔ جی ہاں اپنے شہزادہ کو اماں کی گود سے اُٹھوا کر دفتر میں بلوایا اور جناب کی کُرسی پر پراجیکٹ مینیجر کی تختی لگوا دی۔ ہم تو سوچتے ہیں کہ بچہ تو ہکا بکا رہ گیا ہوگا کہ ارے یہ ہمارے ساتھ ہوا کیا۔ ہم تو ابھی بھی جناب کو یاد کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا منہ میں چوسنی ڈالے پراجیکٹ مینیجر کمپنی کے تمام برتن توڑے جارہا ہے۔۔۔ ارے جی کمپنی کے برتن تو کمپنی کے معاملات ہی ہوتے ہیں نا۔۔۔ تو سمجھ ہی جائیے۔۔۔ خیر عملہ میں سے ہمارے اِک باہمت شیر نے پراجیکٹ مینیجر کی تعلیم پوچھنے کی جسارت کی تو معلوم ہوا کہ جناب ایک انجینئیر ہیں یہ علیحدہ بات ہے کہ بغل میں ڈگری نہیں۔۔۔ بقول جناب کے، یونیورسٹی کا (پی۔ای۔سی) پاکستان انجنئیرنگ کونسل سے کوئی لانجھا چل رہا ہے جسکی وجہ سے طلبہ کو ڈگری کے بغیر ہی فارغ کیا جا رہا ہے۔ ایسی بھی کوئی بات نہیں، ہمیں جناب کی زبان پر پورا بھروسہ ہے، کہہ رہے ہیں تو سچ ہی ہوگا۔ آخر ہوئے جو ایک مہذب پاکستانی، بھروسہ کر کے لِتّر کھانا ہماری ایک پُرانی عادت ہے۔  

(جلدی کا کام شیطان کا، لہٰذا انتظار فرمائیے۔ بقیہ حصہ جلد ہی شائع کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ )

دو قوتیں

میں پوسٹ آفس کی کھڑکی سے اندر ہاتھ کئے اس انتظار میں کھڑا تھا کہ کب پوسٹ ماسٹر اپنے کام سے فارغ ہوکر میرے ہاتھ سے یہ لفافہ لے گا۔  اچانک میرے کندھے کے اوپر سے اِک ہاتھ کھڑکی کی جانب بڑھا جس میں ایک سفید رنگ کا لفافہ تھا اور اِک آواز اُبھری ’’ایکس کیوز می ! یہ پیکٹ کب تک لاہور پہنچ جائے گا؟‘‘ آواز اس بات کا ثبوت دے رہی تھی کہ یہ ایک پڑھا لکھا اور کسی اچھے گھرانے سے تعلق رکھنے والا نوجوان ہے۔ میں اپنی جگہ سے ایک جانب کو تھوڑا سا سِرک کیا تاکہ نوجوان اپنی درکار معلومات پوسٹ ماسٹر سے بآسانی حاصل کر سکے۔ لیکن نوجوان نے دوبارہ کوئی سوال نہ کیا لہٰذا میں ایک مرتبہ پھر اپنی جگہ کو ہولیا اور ہاتھ کھڑکی سے اندر کرتے ہوئے لفافہ اندر بیٹھے شخص کے حوالے کردیا۔

میں پوسٹ آفس میں بیٹھے اُس شخص کے کام میں اس قدر مگن تھا کہ مجھے احساس ہی نہیں ہوا کہ میرے پیچھے کوئی کھڑا اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ کون ہے اور میرے پیچھے کب سے کھڑا ہے؟ مجھے اس بات کا قطعاً اندازہ نہیں تھا۔ اب میری نظریں پوسٹ آفس میں بیٹھے اُس شخص کے کام پر ٹِکی ہوئی تھیں مگر میرے ذہن میں نوجوان کی آواز گردش کر رہی تھی۔ اُسکی آواز مجھے جانی پہچانی لگی مگر وہ کون ہے؟ کیا میں پہلے کبھی اس نوجوان سے ملا؟ اگر ملا تو کب اور کہاں؟ انہیں سوالوں کے جواب کے حصول کیلئے میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھنا چاہا، ابھی میں اس نوجوان کی ایک جھلک ہی دیکھ پایا تھا کہ پوسٹ آفس میں بیٹھے شخص کی آواز گونجی: ’’سَر پینتالیس روپے!‘‘ میں نے فوراً کھڑکی کی جانب رُخ کرتے ہوئے جیب کو ٹٹولا اور پچاس روپے نکال کر کھڑکی سے اندر پکڑا دئیے۔ اتنی دیر میں نوجوان کی آواز اُبھری: ’’ہیلو! جی جی۔۔۔ بس میں دس منٹ تک آرہا ہوں۔ ۔ ۔ ٹھیک۔ ۔ ۔ ٹھیک ۔ ۔ ۔ اوکے۔ ۔ ۔ اللہ حافظ‘‘۔ یہ آواز سُننی تھی کہ اچانک مجھے یاد آیا کہ آج سے نو دس سال قبل، پُرانے محلے میں میرا ایک پڑوسی تھا۔ ہوبہو ایسی ہی آواز۔ ۔ ۔ نہایت اچھے اخلاق۔ ۔ ۔ خوبصورت اندازِ گفتگو۔ ۔ ۔
’’سَر یہ آپکے بقایا پانچ روپے اور یہ رسید! ‘‘ ایک مرتبہ پھر پوسٹ آفس میں بیٹھے شخص نے میرے خیالات کے تسلسل میں خلل پیدا کیا۔ میں نے پانچ روپے کا سِکہ اور رسید جیب میں ڈالی اور واپس کو مُڑا۔ نوجوان مُجھے جاتا دیکھ کر جلدی سے کھڑکی کی جانب بڑھا۔ کیونکہ اب نوجوان کے پیچھے دو اور حضرات کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ پوسٹ آفس سے چند قدم چل کر پارکنگ تک آتے ہوئے مُجھے اس بات کا یقین سا ہونے لگا کہ یہ وہی میرا پڑوسی تھا۔ میرے دماغ میں نو دس سال پُرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔ میں سوچنے لگا کہ میں نوجوان سے آخر کیوں نہ ملا؟ شائید میں اُسے سہی پہچان نہ سکا تھا یا شائید مُجھے جانے کی جلدی تھی۔ ۔ ۔ لیکن وہ خود بھی تو مُجھ سے مل سکتا تھا۔ ۔ ۔ شائید اُسنے مُجھے پہچانا نہ ہو۔ ۔ ۔ لیکن میں تو آگے تھا پیچھے کھڑے شخص کو دیکھ نہ سکا مگر وہ تو میرے پیچھے کھڑے تھا۔ ۔ ۔ مجھے بآسانی دیکھ سکتا تھا۔ ۔ ۔ میرے اور میرے دماغ کے ان سوالات و جوابات کا سلسلہ تب ٹوٹا جب دِل نے کہا کہ مُجھے واپس جا کر نوجوان سے ملنا چاہئیے۔ اتنے عرصے بعد مُلاقات کا موقع ملا ہے، مُجھے ضرور ملنا چاہئیے۔ ۔ ۔ لیکن پھر جواب ملا کہ نہیں ! اُس وقت نہیں ملے تو اب کِس منہ سے ملو گے؟ اُسکو کیا کہو گے کہ میں تب کیوں نہ ملا جب پوسٹ آفس کے باہر کھڑا تھا؟؟ 
میں اِک عجیب کیفیت میں مبتلا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ مُجھے اُس کیفیت کو کیا نام دینا چاہئیے؟ مُجھے ایسا محسوس ہورہا تھا گویا دوقوتیں مجھے دائیں بائیں سے اپنی اپنی جانب کو کھینچ رہی ہیں۔ وہ کونسی دو قوتیں تھی جن میں سے ایک مُجھے میرے پُرانے پڑوسی سے ملوانا چاہتی تھی اور دوجی، جو یہ مُلاقات نہیں چاہتی تھی؟؟ نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اپنی راہ اختیار کی۔ ۔ ۔ کیونکہ میں پہلے ہی دفتر سے بہت لیٹ ہوچکا تھا۔ لیکن اب بھی میں سوچ رہا ہوں کہ وہ کونسی دو قوتیں تھیں؟ اور مُجھے اُس کیفیت کو کیا نام دینا چاہئیے؟؟؟

تعارف

فارغ اوقات میں عموماً انسان کی آنکھوں اور ہاتھوں کا انجن سٹارٹ ہو جاتا ہے۔ آنکھیں 6x6 کا گئیر لگاتی ہیں تو دیواروں پر لٹکے مکڑی کے جالے نظر آنے لگتے ہیں۔ پنکھوں پر جمی گرد کالی گھٹا کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔ ہر طرف بکھرا گند آپکی توجہ مانگ رہا ہوتا ہے۔ مالک کو نوکر کی کام چوریاں دِکھائی دینے لگتی ہیں، نوکر کو مالک کی وہ عادات دِکھائی دینے لگتی ہیں جنکو مالک کی غیر موجودگی میں یاد کر کے نہایت لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ اسکے برعکس جب ہاتھ ایکشن میں آتے ہیں تو آنکھوں کی دکھائی ہوئی راہوں پر چلنے لگتے ہیں۔ یا پھر بلا وجہ اردگرد کی چیزوں کو ٹٹولنے لگتے ہیں۔۔۔

اُن دنوں میری کوئی خاص مصروفیات نہ تھیں۔ میں فارغ بیٹھا وقت کو دھکے دئیے گزار رہا تھا۔ اچانک میری نظر نے قریب ہی پڑے ایک چھوٹے سے ناول پر بریک لگائی۔ ہاتھوں نے فوراً حرکت کرتے ہوئے ناول کو گود میں اُٹھا لیا اور تو اور زبان بھی چُپ نہ بیٹھ سکی اور عنوان وغیرہ پڑھنے کے بعد پورا ناول پڑھنے لگی۔ وہ مُلک کے ایک نامور ناول نگار کا جاسوسی ناول تھا۔ چند صفحات پڑھنے کے بعد چھوڑنے کا جی ہی نہیں چاہا غرٖض جب تک میں نے وہ ناول پورا نہیں پڑھ لیا نہیں اُٹھا۔ مجھے وہ ناول نہایت پسند آیا یہی وجہ ہے کہ میں اُسکے بعد اُن ناول نگار کے لکھے ہوئے تمام جاسوسی ناولوں کر پڑھنے لگا۔ ناولوں کے علاوہ بھی اُنکی لکھی ہوئی بے شمار کُتب اور تحاریر کا مطالعہ کیا۔ جہاں اُنکے بارے میں کچھ نظر آتا، فوراً پڑھنے لگ جاتا۔ مختلف رسالوں وغیرہ میں بھی اُنکا تعارف پڑھنے کو ملا۔ ایمیل ایڈریس تو کہیں سے ملا نہیں لہٰزا خط لکھ کر ہی ’’نصف ملاقات‘‘ کر ڈالی۔ کچھ ہی دن بعد اُنکے جوابی خط نے میری حوصلہ افزائی کر دی جسکے بعد میں نے ایک اور خط لکھ ڈالا جس میں اپنے مکمل پتہ کے ساتھ میں نے اپنا موبائل نمبر بھی ارسال کردیا۔ کچھ دن بعد میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب ناول نگار نے مجھے کال کر کے میرے خط پر پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اور میرے خط کا جواب دیا۔
انکی بے شمار تحاریر پڑھنے کے بعد میں انکے بارے میں بہت کچھ جان چکا تھا اور مزید جاننے کیلئے سرچ بھی کی لیکن کوئی خاص معلومات نہ مل سکیں۔ لہٰزا میں نے یہ ٹھان لی کہ اب میں ان مصنف اور انکی زندگی کے بارے میں بذاتِ خود ضرور کچھ لکھوں گا۔ لیکن اسکے لئے مجھے چند مزید معلومات کو اکٹھا کرنا ہوگا۔

میری اس تحریر لکھنے کا مقصد یہ بات واضح کرنا تھی کہ کسی بھی لکھاری کا تعارف اُسکی تحاریر ہوتی ہیں۔ اُس کی زیادہ سے زیادہ تحاریر پڑھ کر اُسکے بارے میں بہت کچھ جانا سکتا ہے مثلاً اُسکے عقائد، نظریات، جزبات، سوچ، روزانہ کے معمولات، وغیرہ وغیرہ۔ غرض ایک شخص، ایک لکھاری کی تحاریر پڑھ کر اُسکے بارے میں وہ سب کچھ جان سکتا ہے جو اُس کیلئے کسی دوست کے بارے میں جاننا ضروری ہوتا ہے۔  بلکل اسی طرح آپکو میرے بلاگ کا ہر صفحہ میری سوچ، عقائد، نظریات، جزبات، محسوسات اور معمولات کی عکاسی کرتا دکھائی دے گا، قصہ مختصر، اس بلاگ کا ہر ہر صفحہ میرا تعارف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(آجکے بعد تعارف کے صفحے پر اس تحریر کو میرے تعارف کے طور پر شائع کیا جائے گا)

سیدھی راہ

آج میں آپکے سامنے ایک ایسا مسئلہ بیان کرنے جا رہا ہوں جو شائید  آپ سب کیلئے کوئی بڑی بات نہ ہو لیکن میرے لئے یہ اِک بڑا مسئلہ ہے۔ اِس مسئلے کا  سامنا مجھے ہر آئے دن کرنا پڑتا ہے۔ دراصل  بات کچھ یوں ہے کہ ابھی حال ہی میں مجھے ایک سُنت عمل کا علم ہوا  ہے جس سے شائید آپ میں سے بھی  کچھ حضرات واقف نہ ہوں اور وہ سُنت یہ ہے کہ اگر آپ کسی سواری پر سوار ہیں تو  راہ کی بائیں جانب کو اختیار کریں اور اگر پیدل ہیں تو ہمیشہ راہ کی دائیں جانب چلیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہمارے اِس مُلک کے ٹریفک کا قانون بھی اِسی سُنت کے مطابق ہے۔  یعنی اگر آپ سواری پر سوار ہیں تو بائیں جانب وگرنہ دائیں جانب چلیں۔ چونکہ ہماری ٹریفک پولیس اِس سنت کے پہلے حصے پر تو زبردستی عمل کرواتی ہے لیکن دوسرے حصے کا کبھی ذکر نہیں کیا گیا اِس لئے  عوام  یہی سمجھتی ہے کہ پیدل چلتے ہوئے بھی راہ کی بائیں جانب کو ہی اختیار کرنا چاہئیے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہرائیں ہوں یا بازار یا کوئی گلی محلہ ‘ پیدل چلنے والے ہمیشہ راستے کہ بائیں جانب ہی چلتے  نظر آتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق دائیں جانب چلنے کا ثمر یہ ہے کہ آپ سامنے سے آتی ہوئی گاڑی کو بآسانی دیکھ سکتے ہیں اور ایسے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچ سکتے ہیں۔
آپ سب سوچ رہے ہوں گے کہ اِس پوری بات میں مسئلہ کیا تھا؟ دراصل یہی تو مسئلہ ہے کہ اگر کسی بازار وغیرہ میں چلتے ہوئے اِس سُنت پر عمل کیا جائے تو ہر ہر قدم پر آپکو ایک ایک دھکے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کہیں کسی کا کندھا آپکے کندھے سے ٹکرا رہا ہے تو کہیں کسی کا پاؤں آپکے پاؤں پر آرہا ہے۔ اور اگر مخالف شخص سخت طبیعت کا ثابت ہوا تو شائید آپکو کچھ کھَری کھَری سنا بھی جائے  اور ایسے میں ہو سکتا ہے کہ آپکو اَن پڑھ, جاہل اور  بیوقوف  جیسے چند القابات سے بھی نواز دیا جائے۔ اگر تو آپ بول پڑے کہ بھیا میں تو سہی جانب کو چل رہا ہوں۔۔۔ غلط تو آپ ہیں تو پھر اپنی خیر منائیے۔۔۔ آپکے مخالف کو چونکہ اِس بات پر پورا یقین ہے کہ بائیں طرف کو ہی چلنا دُرست ہے لہذا اُسکے بگڑ جانے کے امکانات زیادہ ہیں اور مُمکن ہے کہ وہ چلانا بھی شروع کر دے ۔ ایسے میں اگر دو چار بندے اور بھی جمع ہو گئے تو قصوروار آپکو ہی ٹھہرائیں گے۔۔۔ روڈ ہو یا بازار‘ کوئی مُحلہ ہو یا کوئی گلی۔۔۔  دائیں جانب چلتے ہوئے ہمیشہ ہی  اِس مسئلےکا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔
ہمارے اِس اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کوئی بھی شعبہ ہو‘ اگر آپ سیدھے ہاتھ پر چلنے کی کوشش کریں گے تو لاکھ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کہیں کوئی سامنے سے آکر آپکو ٹکرتا ہے تو کہیں کوئی دائیں بائیں سے۔ سرکاری شعبہ ہو یا غیرسرکرکاری , آپکو کسی صورت بھی سیدھے ہاتھ نہیں چلنے دیا جائے گا اور اگر آپ پھر بھی اپنی راہ کے اِس تعین پر بضِد ہیں تو آپکو اُن تمام نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جو قانوناً  اور شریعۃً اُلٹے ہاتھ پر چلنے والے کا مقدر ہونے چاہئیے تھے۔ غرض اِس پورے ماحول میں جہاں سب اُلٹے ہاتھ کو ہی چلتے ہیں, اب سیدھے ہاتھ پر چلنا نہایت معیوب سمجھا جاتا ہے اور اگر کوئی چلنا بھی چاہے تو  بالآخر  شکست اُسکا مقدر ہے۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی اِس مُلک میں رہتے ہوئے, کسی بھی شعبے میں سیدھے ہاتھ کو چلے اور اُسکو کِسی رکاوٹ کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔ اور وہ اپنی ترقی کی منازل بآسانی طے کرتا رہے؟؟؟ اگر یہ ممکن نہیں تو میں اور آپ اِسکو ممکن  بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ ہم دنیا کے جس جس شعبے میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں, ہمیشہ سیدھی راہ ہی چلیں گے۔ اور اگر ایسا ممکن نہیں تو کم از کم سیدھے ہاتھ چلنے والوں کا ساتھ دیں گے اور اُنکے لئے کوئی رُکاوٹ کھڑی نہیں ہونے دینگے۔۔۔

کچھ یادیں




ہمارے سکول کے قریب ہی مجاہدہ اکیڈمی کے نام سے ایک اکیڈمی تھی جہاں خواتین کو مختلف کورسِس کروائے جاتے تھے۔ اس اکیڈمی میں بیشتر تعداد بی۔ایڈ کرنے والی بچیوں۔۔۔ اوہ۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ خواتین کی ہوتی تھی۔ کچھ یاد ہو نہ ہو یہ اچھی طرح یاد ہے کہ بی۔ایڈ کی یہ طلبات ہر سال ہمارے سکول تشریف لاتیں اور یہاں انکو کسی کلاس کا ایک پیریڈ لینا ہوتا تھا۔ کچھ تھانیدار نما حضرات‘ بغلوں میں فائیلیں دُبائے کلاس میں تشریف لاتے اور سب سے پیچھے, جہاں نالائقوں کے ٹولوں کی محفل جما کرتی تھی آ کر بیٹھ جاتے۔ کچھ دیر ان بچیوں کو۔۔۔ سوری۔۔۔ ان طلبات کو گُھور گُھور کر دیکھتے رہتے (اس تکنے کے عمل کی تفصیل بتانے سے میں قاصر ہوں)۔ پھر اپنی فائلوں میں کچھ لکھنے لگتے گویا کوئی جج کسی وکیل کے دلائل سُن کر اپنے سامنے موجود فائل پر کچھ لکھ رہا ہو۔۔۔ خیر پھر ایک دوسرے کے کانوں میں کھُسر پھُسر کرنے لگتے اور آخر کار جس خاموشی سے آئے تھے اُسی خاموشی سے چلے جاتے۔۔۔ پوری کلاس سے ایک ٹھنڈی آہ بھرنے کی آواز اُبھرتی جس میں سب سے زیادہ اونچی آواز انہی ملزموں کی ہوتی تھی جنکا مقدمہ پیش کیا جارہا ہوتا تھا۔ ویسے کیا مزے کی بات ہے کہ ملزم بھی خود اور اپنی وکالت بھی خود ہی۔۔۔
اوہ۔۔۔ یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ یہ وہ سکول ہے جہاں سے ہم نے میٹرک میں پاس ہونے کا عظیم کارنامہ مَر مَر کر اور سِسکتے سِسکتے سرانجام دیا تھا۔
ایک دن ہم حساب کا بورنگ پیریڈ لے رہے تھے۔۔۔ نہیں۔۔۔ بلکہ اُستادِ محترم زبردستی دے رہے تھے۔ کہ اتنے میں ایک کلرک جماعت میں داخل ہوا‘ اُستاد جی کے قریب آکر کچھ کہا اور چلا گیا۔ سَر نے ڈائیز پر کھُلی کتاب کو بند کر دیا۔۔۔ جو ہم سب کے دِلوں کیلئے باعث مُسرت اور باعثِ سکون تھا۔ پھر سَر مُسکراتے ہوئے‘ کچھ شرمیلے سے انداز میں بولے کہ لو بھئی مجاہدین آرہے ہیں۔ ہم حیران ہوئے کہ مجاہدین کون؟ تو جنابِ والا نے بتایا کہ ارے بھئی۔۔۔ مجاہدہ اکیڈمی کی پیداوار مجاہدین ہی کہلائے گی نا۔۔۔ اُستاد محترم کی اِس بات سے پوری کلاس قہقہوں سے گونج اُٹھی۔۔۔ دراصل زیادہ خوشی سَر کے کلاس سے جانے کی تھی۔ پوری کلاس میں ہُو۔۔۔ ہا۔۔۔ ہُو۔۔۔ ہا۔۔۔ کی آوازیں گونجنے لگی۔ ہماری تو گویا عید ہو جاتی تھی اِن مجاہدین کے آنے پر۔۔۔ اصل خوشی تو پڑھائی سے چھٹکارے کی ہوتی تھی۔
کچھ ہی دیر میں ایک باجی کلاس میں تشریف لے آئیں۔۔۔ ہماری تو خوشی کی انتہا نہ تھی۔۔۔ خوب نعرے لگا کر مجاہدہ باجی کو خوش آمدید کہا۔ آغاز میں تو میڈم صاحبہ نے بہت رُعب جھاڑنے کی کوشش کی گویا یوں معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے مشورہ دیا ہو کہ کلاس کو جاتے ہی کنٹرول کرلینا ورنہ بعد میں قابو نہیں آئے گی۔ لیکن ہم بھلا اُنکو استادی کیسے کرنے دے سکتے تھے۔۔۔ آخرکار کافی دیر کی تگ و دو کے بعد باجی جی ہمیں خاموش کروانے میں کامیاب ہوہی گئیں۔۔۔ اتنے میں کلاس کے باہر سے ایک اور ماڈل نما مجاہدہ کا گزر ہوا۔۔۔ ماڈل نما اِسلئے کیونکہ وہ طالبہ کم اور ماڈل زیادہ دِکھائی دیتی تھیں۔ اُنکو دیکھتے ہی ہماری کلاس میں موجود باجی نے آواز کس دی۔۔۔ سلمااااء!!!! سلماء جی بھی فوراً اندر آگئیں۔۔۔ دونوں باجیاں ایک دوسرے کی جانب بڑھیں اور  اپنے روائیتی انداز میں ایک دوسرے سے اپنے منہ بچاتے ہوئے اُوومچہ اُوومچہ کرتے ہوئے پیار کرنے لگی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا گویا ہم نے پچپن کی بِچھڑی دو بہنوں کو آپس میں ملوا دیا ہو۔ ایسے موقع پر جیسی خوشی ملوانے والے کو ہوتی ہے ویسی ہی ہمیں بھی ہو رہی تھی۔ آخرکار یہ منظر دیکھتے ہوئے ہم بھی دو لڑکے اپنی نشستوں سے اُٹھے اور ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور زوردار پچک پچک کر کے ایک دوسرے کو پیار دئیے لیکن اس دوران ہم دونوں کے منہ کے درمیان کوئی پورے ایک ڈیڑھ فُٹ کا فاصلہ تھا۔ یہ دیکھنا تھا کہ باجیاں بھی خوب کھِلکھِلا کر ہنس پڑیں اور پوری کلاس قہقہوں سے گونج اُٹھی۔۔۔ ہمیں تو ایسا محسوس ہوا گویا آج ہمیں پرائیڈ آف دی پَرفارمنس کا ایوارڈ مل گیا ہو۔ خیر ہم دونوں ہاتھ بلکہ دونوں بازو ہوا میں لہرا لہرا کر دوستوں کی داد کا شکریہ ادا کرنے لگے۔

بڑے میاں




بڑے میاں سے جب بھی مخاطب ہو تو جواباً ہمیشہ اِک نئی فلاسفی سُننے کو ملتی ہے۔ ہے تو یہ اکیسویں صدی مگر جنابِ والا کسی پُرانے زمانے کی مخلوق معلوم ہوتے ہیں۔ کوئی ایک بات ہو تو بتاؤں نا اِنکی تو ہر ہر ادا ہی نرالی ہے۔ میں تو آج تک اِن حضرت کی فطرت کو  سمجھ ہی نہ پایا۔ دراصل اناپرستی اور خودداری جیسے خطرناک امراض میں مبتلا ہیں یہ۔ میں تو کہتا ہوں کہ اللہ ہر کسی کی ان امراض کے جراثیموں سے حفاظت فرمائے۔ جسکو اِن بیماریوں کا وائرس لگ جائے۔۔۔ اوئے ہوئے ہوئے۔۔۔ پھر تو سمجھو کہ پوری زندگی گئی اُس شخص کی۔۔۔ بھوکا مرتا ہے ایسا شخص۔۔۔ کیا فائدہ ہے ایسی زندگی کا؟ ہاں البتہ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جنکو اِن امراض نے جوانی میں ہی آلپٹا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے اپنی گزری ہوئی زندگی سے سبق سیکھ لیا اور پھر ’’راہِ راست‘‘ پر آگئے۔ مگر اِک ہمارے بھائی صاحب ہیں۔۔۔ یوں معلوم ہوتا ہے گویا اِنکے دماغ پر دیمک نے حملہ کیا ہو اور ماسوا بھوسے کے اب انکے دماغ میں کچھ نہیں۔ ارے اب بچے تو یہ رہے نہیں‘ بڑے ہوگئے ہیں۔۔۔ بہت سی ذمہ داریاں ہیں اب اِنکے سر پر اور کوئی ذریعہءِمعاش بھی تو اختیار کرنا ہے۔۔۔ ابھی پچھلے دنوں کی ہی بات ہے کہ والدین نے بڑے ترلے کر کے ایک سفارش کا بندوبست کیا۔ آجکل کے دور میں ایسے گھر بیٹھے کوئی نوکری تھوڑی ہی ملتی ہے؟ کچھ تو ہاتھ پاؤں مارنے پڑتے ہیں نا۔ مگر بڑے میاں کو تو شفارش منظور ہی نہیں۔۔۔ کہتے ہیں کہ ناجائز ہے۔۔۔  ارے پگلے کو کوئی تو سمجھائے کہ یہ کتابی باتیں کتابوں میں ہی بھلی لگتی ہیں۔ سفارش عام آدمی تھوڑی ہی کروا سکتا ہے؟ اور پھر یہ کونسی سفارش ہے؟ یہ تو گزارش ہوتی ہے جو ہم کسی سے کرتے ہیں اور وہ آگے کسی اور سے کرتا ہے۔۔۔ اِنکو تو فخر محسوس کرنا چاہیئے کہ کوئی اِنکے لئے گزارش کر رہا ہے۔ اِس سے اِنکی عزت میں اضافہ ہی تو ہوگا کونسا کوئی نقصان ہے؟ یہ کتابوں میں لکھنے والے‘ بڑے بڑے صحافی‘ عالم‘ پروفیسرز‘ یہ سب آج جن اونچے اونچے عہدوں پر فائز ہیں سفارش کی ہی بدولت تو ہیں ورنہ یہاں کون کسی کو گھاس ڈالتا ہے؟ خیر۔۔۔ ہم نے بھی بھائی صاحب کی ایک نہ سُنی؟ اور وہی کیا جو اِنکے حق میں بہتر تھا یعنی گزارش کروا ڈالی۔۔۔ اب اِنکو ملک کے ایک اچھے سرکاری ادارے سے ٹیسٹ کیلئے کال آگئی۔ بھائی نے مقررہ دِن جا کر ٹیسٹ دے دیا۔ جناب کو پکی اُمید تھی کہ میرا ٹیسٹ سب سے منفرد ہوگا اور وہ مجھے ضرور سلیکٹ کریں گے۔ آخر بھائی کس کے ہیں؟ ہوا بھی یوں ہی کہ ٹیسٹ دینے کے صرف دو دن بعد ہی بھائی کو کال آگئی کہ جناب ہم آپکی ٹیسٹ میں کارگردگی سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ آپ برائے مہربانی کل تشریف لے آئیے۔ ہمارے باس آپسے ملاقات کرنا چاہتا ہیں۔

اگلے دِن بڑے میاں منہ لٹکائے واپس تشریف لے آئے۔ تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ ادارے کے اِک معمولی افسر کو اپنے کام کیلئے کوئی کلرک درکار تھا۔ مگر جناب کے بھی کیا کہنے۔۔۔ کہتے ہیں کہ اتنا پڑھ لکھ کر ہم نے کلرک ہی بننا ہے کیا؟ لہٰذا وہاں انکار کر آئے کہ ہمیں یہ نوکری منظور نہیں۔۔۔ ارے اتنے اچھے ادارے میں روز روز نوکریاں کہاں ملتی ہیں؟ اپنا نہیں تو والدین کا ہی کچھ خیال کر لیتے۔ اتنی تو ایک مزدور کی ماہانہ آمدنی نہیں ہوتی جتنے بھیا کے تعلیمی اخراجات۔۔۔ اتنے اچھے اور عمدہ تعلیمی اداروں میں پڑھوایا مگر بڑے میاں کو تو کسی بات کا احساس ہی نہیں۔ کلرک تھے تو کیا؟ ہمیں تو پیسے سے غرض ہے خواہ جہاں سے بھی آئے۔۔۔ سرکار کی نوکری تھی اور پھر پکی بھی۔۔۔ پورے خاندان میں ناک کٹوا کر رکھ دی۔ سب کیا کہیں گے کہ اتنے اونچے اونچے تعلیمی اداروں سے پڑھ کر اب ملک کے اتنے نامور ادارے میں اتنی ’’عمدہ‘‘ نوکری ٹھکرا دی۔۔۔  اب پرائیویٹ کی در بدر ٹھوکریں کھائیں گے نا تو سب سمجھ آجائے گی؟ پرائیویٹ اداروں میں تو جھوٹ, فراڈ, رشوت اور مالک کی چپڑوسی چلتی ہے بس اور ہمارے بڑے میاں تو اِن تمام خوبیوں سے پاک ہیں۔۔۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آتی۔۔۔ اب آپ ہی بتائیے کہ کیا بنے گا بڑے میاں کا؟؟؟

Powered by Blogger.
۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...