Showing posts with label عورت. Show all posts
Showing posts with label عورت. Show all posts

نوجوانوں کیلئے

’’بیٹا آپ۔۔۔۔ کیسے ہو؟ ‘‘ اُنہوں نے گیٹ کھولا اور مُجھے دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’جی۔۔۔۔ الحمدُللہ۔۔۔آنٹی۔۔۔ میں جُنید سے ملنے آیا تھا؟‘‘
’’بیٹا، وہ تو جم گیا ہوا ہے بس آتا ہی ہوگا۔ آپ باہر کیوں کھڑے ہو، آؤ اندر۔۔۔۔ بیٹھو۔‘‘
میں نے اپنا عُذر بیان کرتے ہوئے اجازت طلب کی لیکن جُنید کی والدہ کے بے حد اسرار کے سامنے مُجھے ہار ماننا پڑی۔
جگری یاری کے باعث ہمارا اکثر ایک دوسرے کے گھر آنا جانا رہتا ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کی والدہ مُجھ اور میرے خاندان سے بخوبی شناسا ہیں۔ حال احوال پوچھنے کے بعد کہنے لگی: ’’بیٹا اچھا ہوا آپ آگئے۔۔۔ میں کچھ دِنوں سے جُنید کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔‘‘
’’کیوں آنٹی خیریت؟ کیا ہوا جُنید کو؟‘‘

’’بیٹا۔۔۔ جُنید دِن بدن بدلتا جا رہا ہے۔ ہم سب اُسکے رویے میں نمایاں تبدیلی محسوس کر رہے ہیں۔۔۔ وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ نماز نہ روزہ، پوری پوری رات اپنے کمپیوٹر کے ساتھ چمٹا رہتا ہے، باقی ہر جانب سے اُسنے توجہ ہٹا لی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود ہمارے درمیان فاصلے بہت بڑھ چُکے ہیں۔ بیٹا تم ہی اُسے سمجھاؤ میں بہت پریشان ہوں۔‘‘ اُن کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات تو یہ تھی کہ آنٹی جُنید سے ڈرنے لگی ہیں اور مُجھ سے نہایت پریشانی کے عالم میں کہنے لگی:’’ بیٹا۔۔۔۔ اُسے مت بتانا کہ میں نے آپ سے اُسکے متعلق کوئی بات کی۔ آپ نہیں جانتے کہ اِس بات کا علم جنید کو ہوا تو اُسکا ردِعمل کیا ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر آنٹی اپنے آنچل سے آنکھوں کو ملتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دفتر میں معمول کے مطابق ہلچل تھی۔ رسیپشن پر بیٹھی لڑکی کان سے رسیور لگائے محوِ گفتگو، عملہ کے نوجوانوں کی حسبِ معمول بھاگ دوڑ، فوٹو سٹیٹ مشین آپریٹر فوٹو کاپیاں کرنے میں مصروف، خاکروب پوچا لگانے میں مگن۔۔۔۔
خاتون سہمے سہمے انداز میں دفتر کی اِس ہلچل کو دیکھ رہی تھی۔ یوں تو خواتین کی آمدورفت وہاں رہا ہی کرتی تھی لیکن اسکے تیز تیز اُٹھتے قدموں، ماتھے پر تیوری، سہمی ہوئی شکل اور چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نے مُجھے خاتون پر توجہ مرکوز رکھنے پر مجبور کردیا۔ وہ شرافت کی چادر میں لپٹی، اِک گھریلو خاتون معلوم ہورہی تھی۔ شائید اُسکو کسی کی تلاش تھی یا کسی خاص مدد کی ضرورت۔۔۔۔
کافی کا کپ میرے ہاتھ میں تھا۔ میں نے ایک چُسکی لی، کپ کو میز پر رکھا اور اُٹھ کر محترمہ کے پاس چلا آیا۔ سلام کے بعد مخاطب ہوا: ’’جی فرمائیے میڈم!‘‘ اور سوالیہ نظروں سے محترمہ کی جانب دیکھنے لگا۔
’’ یہ۔۔۔۔۔ انٹرنیٹ کنکشن آپ ہی دیتے ہیں؟‘‘ خاتون نے نہایت مؤدبانہ انداز میں پوچھا۔
میں بات کر رہا ہوں سن 1999 کی اور یہ اِسلام آباد کی پی ٹی سی ایل کے بعد سب سے بڑی انٹرنیٹ سروسز پرووائیڈنگ کمپنی تھی۔ میرا خیال تھا کہ خاتون انٹرنیٹ کنیکشن لینا چاہتی ہیں۔ رسیپشن یا متعلقہ شخص کے پاس بھیجنے کی بجائے، میں نے خود ہی انکو کنکشن دِلوانے کا سوچا لہٰذا محترمہ کو اپنے ساتھ اندرونی دفتر میں لے آیا جہاں میرے علاوہ کمپنی کے چار مزید افراد کی بھی نشستیں تھیں ۔ میں نے خاتون کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تاکہ بآسانی بات ہو سکے۔ محترمہ بیٹھتے ہی کہنے لگی: ’’میرے بیٹے کا نام احمر اقبال ہے۔ اُسنے آپسے کنکشن لیا ہے اور ہر ماہ یہاں ہی بل جمع کروانے آتا ہے۔ وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے جِس سے مُجھے بے حد اُمیدیں ہیں لیکن اِس انٹرنیٹ کی وجہ سے پوری پوری رات جاگنا اُسکا معمول بن چکا ہے۔ کل رات میں اُسکے کمرے میں داخل ہوئی تو میری نظر اُسکے کمپیوٹر پر پڑ گئی۔‘‘ یہ کہہ کر محترمہ کے آنسو یوں چھلکنے لگے جیسے وہ اپنے آنسوؤں کو بہت دیر سے روکے ہوئے تھیں۔ میں قریب ہی بیٹھے کمپنی کے سیلز مینیجر کی جانب حیران کُن نظروں سے دیکھنے لگا، میرے دیکھتے ہی اُنہوں نے نظریں جھکا لیں. اب میری زبان بھی مکمل طور پر ساکت ہوچکی تھی۔
’’اُسکی کمپیوٹر پر مشغولیات کو دیکھ کر میں دھنگ رہ گئی۔ میری تربیت اتنی تو بُری نہیں تھی۔‘‘ خاتون نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں اپنے بیٹے کا نیٹ بند کروانے آئی ہوں۔ آپ پلیز ابھی ہی اُسکا انٹرنیٹ کنکشن بند کر دیں۔ جتنا جلد ہو سکے میرے بیٹے کی جان اِس خباثت سے چھُڑا دیجئیے۔۔۔۔ ‘‘ اِس مرتبہ محترمہ آنسو بہانے کے برعکس ہمارے سامنے ہاتھ بھی جوڑنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسی سینکڑوں مائیں اپنے جگر گوشوں کیلئے بے چین اور فکرمند ہیں۔ میں نے بے شمار ایسے نوجوانوں کو دیکھا جنکی رات طلوعِ آفتاب کے بعد اور صبح سہ پہر دو یا تین بجے ہوتی ہے۔ اور تو اور فیس بُک اور چیٹنگ جیسی خباثت کی زد میں پوری پوری رات جاگنا لڑکوں کے ساتھ ساتھ اب نوجوان لڑکیوں کا بھی معمول بن چکا ہے۔ اُمتِ مسلمہ کی بیٹیاں جنکی پاک دامنی، شرافت، عزت اور حیا دُنیا کے سامنے ہمیشہ سے مثال رہی ہے، اب وہی محرموں سے چیٹنگ اور لغویات میں پوری پوری رات صرف کر دینے میں کوئی ممانعت نہیں سمجھتیں۔ پڑھائی یا کسی ضروری کام کے باعث راتوں کو جاگ کر محنت کرنے میں کوئی مماثلت نہیں لیکن اِسکو معمول بناتے ہوئے فحاش مشغولیات کو اپنانا نہ صرف قُدرت کے قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے بلکہ اپنی زندگی کی بربادی کے ساتھ ساتھ والدین کے راحت کی بھی بربادی ہے۔ نوجوانوں سے گزارش ہے کہ خُدارا اپنا نہیں تو اپنے والدین کا ہی خیال کیجئیے۔ میں نہیں چاہتا آپکی ماؤں کو جُنید یا احمر کی ماؤں کی طرح آپکی وجہ سے آنسو بہانے پڑیں یا کسی کے سامنے ہاتھ جوڑنے پڑیں۔

درندہ صفت

یحیٰ کا آپریشن الحمدللہ کامیابی سے ہوگیا ہے اور اب تو وہ گھر بھی آگیا لیکن تاحال بیڈ پر ہی ہے۔ پہلے اُسکی ٹانگ کے نیچے تین تکئیے رکھے جاتے تھے جبکہ اب ڈاکٹروں نے اُنہیں تین سے کم کر کے ایک کرنے کا کہا ہے۔ اِس سے آپ اُسکی موجودہ حالت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

خیر بڑھتا ہوں اُس بات کی جانب جس نے آج مجھے لکھنے پر مجبور کیا۔ دراصل آپریشن کے بعد یحیٰ کو جس وارڈ میں منتقل کیا گیا، وہیں کچھ فاصلے پر ایک اِکیس سالہ لڑکی اپنے بیڈ پر لیٹی تکلیف سے بلبلا رہی تھی۔ نوجوان لڑکی کی تکلیف ناقابلِ دید تھی اور اُسکی ماں آنسو بہاتے ہوئے اُسے بار بار دلاسا دے رہی تھی۔ باپ نہایت بے چینی کے عالم میں ڈاکٹروں کے پاس چکر لگارہا تھا۔ غرض مجھ جیسے نازک دِل انسان کیلئے یہ پورا منظر دیکھنا ہی نہایت اذیت کا سبب بنا۔
یہ نوجوان لڑکی ایک پرائیویٹ فرم میں ملازمت کرتی ہے۔ ایک دن دفتر جانے کیلئے بس سٹاپ پر کھڑی تھی کہ کچھ لفنگے ایک گاڑی میں آئے اور جاتے جاتے لڑکی کو ٹکر مار گئے۔ نجانے اُنہوں نے شرارت سے مارا یا ظالموں کو کوئی دُشمنی تھی یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن نوجوان لڑکی اور اُسکے والدین کی سینکڑوں بد دُعائیں ہمیشہ کیلئے ساتھ لیتے گئے جو شاید اُنہیں پوری زندگی چین سے نہ بیٹھنے دیں۔ مریضہ کے والدین کہتے ہیں کہ ہم بچی کو شہر کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹر سے ملے تو وہ کہنے لگا کہ یہ سرکاری ہسپتال ہے۔ یہاں علاج کروایا تو ایک لمبا عرصہ لگ جائے گا۔ چند پیسوں کی بچت کی خاطر آپ کہاں اتنا انتظار کرتے رہیں گے؟ لہٰزا بہتر یہی ہے کہ شام کو میرے پرائیویٹ ہسپتال آجائیے، وہاں جلد آپریشن ہو جائے گا۔ یہ کہہ کر ڈاکٹر نے اپنا ویزیٹینگ کارڈ ہمارے ہاتھ میں تھمایا اور باقی مریضوں کی جانب بڑھ گیا۔
والدین کا کہنا ہے کہ بچی کا رشتہ بھی طہ پایا ہوا ہے۔ ہمیں اس بات کا ڈر تھا کہ اگر کسی سرکاری ہسپتال سے علاج کروایا اور خداناخواستہ کچھ دیر ہوگئی تو کہیں لڑکے والے رشتہ ہی نہ توڑ دیں۔ بس یہی سوچ کر ہم ڈاکٹر کے پرائیویٹ ہسپتال پہنچ گئے۔ ڈاکٹر نے آپریشن کیلئے ایک بڑی رقم کا مطالبہ کیا جسکا بندوبست کرنا ہمارے لئے نہایت مشکل امر تھا۔ خیر جس طریقے سے ہم نے ڈاکٹر کی فیس ادا کی یہ ہم ہی جانتے ہیں یا پھر ہمارا رب۔ ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کے بعد بھی بچی کی تکلیف میں کوئی کمی نہ ہوئی۔ پہلے تو ہم سمجھے کہ شاید رفتہ رفتہ صحت بہتر ہو جائے گی لیکن تکلیف میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا گیا لہٰذا ہم بچی کو  شہر کے ایک اور بڑے ہسپتال لے گئے جہاں کچھ ابتدائی علاج کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچی کی ٹانگ میں نقلی راڈ ڈالا گیا ہے لہذا دوبارہ آپریشن کر کے اُسکو نکال کر نیا راڈ ڈالا جائے گا۔
والدین کیلئے ایک تو بچی کا غم، دوسرا بچی کے رشتے کی فکر کہ کہیں وہ یہ نہ کہیں کہ فقط پیسے کی بچت کی خاطر دیر کر رہے ہیں۔ بس یہی سوچ کر پیسے کی فکر کئے بِنا جتنا جلد ممکن ہوسکے علاج کروانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن ایک متوسط خاندان کیلئے اتنی بڑی رقوم کا بندوبست کرنا کتنا آسان ہے؟ یہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں۔

جب سے اس واقعہ کا علم ہوا، بار بار میرے ذہن میں وہ لمحات کسی ویڈیو کی طرح گردش کرنے لگ جاتے ہیں کہ لڑکی اپنے بیڈ پر لیٹی تکلیف سے بلبلا رہی ہے، ماں آنسو بہاتے ہوئے بچی کو تسلی دے رہی ہے اور باپ سخت پریشانی کے عالم میں ڈاکٹروں کے پیچھے بھاگ دوڑ رہا ہیں۔ پھر سوچتا ہوں اِس اسلامی جمہوریہ کے اِن درندہ صفت باشندوں کے بارے میں جو فقط اپنے پیٹ کے خداؤں کی بھوک کو مِٹانے کیلئے دوسروں کا گوشت بھی کھا جاتے ہیں اور اِنہیں خداؤں کی پیاس بُجھانے کیلئے ہر لمحہ دوسروں کا خون پینے کیلئے بھی تیار رہتے ہیں، پھر بھی نہایت پُر اُمید انداز میں اس مُلک پر چھائی گھٹا کے جلد ہی چھَٹ جانے کی پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔

کچھ یادیں




ہمارے سکول کے قریب ہی مجاہدہ اکیڈمی کے نام سے ایک اکیڈمی تھی جہاں خواتین کو مختلف کورسِس کروائے جاتے تھے۔ اس اکیڈمی میں بیشتر تعداد بی۔ایڈ کرنے والی بچیوں۔۔۔ اوہ۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ خواتین کی ہوتی تھی۔ کچھ یاد ہو نہ ہو یہ اچھی طرح یاد ہے کہ بی۔ایڈ کی یہ طلبات ہر سال ہمارے سکول تشریف لاتیں اور یہاں انکو کسی کلاس کا ایک پیریڈ لینا ہوتا تھا۔ کچھ تھانیدار نما حضرات‘ بغلوں میں فائیلیں دُبائے کلاس میں تشریف لاتے اور سب سے پیچھے, جہاں نالائقوں کے ٹولوں کی محفل جما کرتی تھی آ کر بیٹھ جاتے۔ کچھ دیر ان بچیوں کو۔۔۔ سوری۔۔۔ ان طلبات کو گُھور گُھور کر دیکھتے رہتے (اس تکنے کے عمل کی تفصیل بتانے سے میں قاصر ہوں)۔ پھر اپنی فائلوں میں کچھ لکھنے لگتے گویا کوئی جج کسی وکیل کے دلائل سُن کر اپنے سامنے موجود فائل پر کچھ لکھ رہا ہو۔۔۔ خیر پھر ایک دوسرے کے کانوں میں کھُسر پھُسر کرنے لگتے اور آخر کار جس خاموشی سے آئے تھے اُسی خاموشی سے چلے جاتے۔۔۔ پوری کلاس سے ایک ٹھنڈی آہ بھرنے کی آواز اُبھرتی جس میں سب سے زیادہ اونچی آواز انہی ملزموں کی ہوتی تھی جنکا مقدمہ پیش کیا جارہا ہوتا تھا۔ ویسے کیا مزے کی بات ہے کہ ملزم بھی خود اور اپنی وکالت بھی خود ہی۔۔۔
اوہ۔۔۔ یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ یہ وہ سکول ہے جہاں سے ہم نے میٹرک میں پاس ہونے کا عظیم کارنامہ مَر مَر کر اور سِسکتے سِسکتے سرانجام دیا تھا۔
ایک دن ہم حساب کا بورنگ پیریڈ لے رہے تھے۔۔۔ نہیں۔۔۔ بلکہ اُستادِ محترم زبردستی دے رہے تھے۔ کہ اتنے میں ایک کلرک جماعت میں داخل ہوا‘ اُستاد جی کے قریب آکر کچھ کہا اور چلا گیا۔ سَر نے ڈائیز پر کھُلی کتاب کو بند کر دیا۔۔۔ جو ہم سب کے دِلوں کیلئے باعث مُسرت اور باعثِ سکون تھا۔ پھر سَر مُسکراتے ہوئے‘ کچھ شرمیلے سے انداز میں بولے کہ لو بھئی مجاہدین آرہے ہیں۔ ہم حیران ہوئے کہ مجاہدین کون؟ تو جنابِ والا نے بتایا کہ ارے بھئی۔۔۔ مجاہدہ اکیڈمی کی پیداوار مجاہدین ہی کہلائے گی نا۔۔۔ اُستاد محترم کی اِس بات سے پوری کلاس قہقہوں سے گونج اُٹھی۔۔۔ دراصل زیادہ خوشی سَر کے کلاس سے جانے کی تھی۔ پوری کلاس میں ہُو۔۔۔ ہا۔۔۔ ہُو۔۔۔ ہا۔۔۔ کی آوازیں گونجنے لگی۔ ہماری تو گویا عید ہو جاتی تھی اِن مجاہدین کے آنے پر۔۔۔ اصل خوشی تو پڑھائی سے چھٹکارے کی ہوتی تھی۔
کچھ ہی دیر میں ایک باجی کلاس میں تشریف لے آئیں۔۔۔ ہماری تو خوشی کی انتہا نہ تھی۔۔۔ خوب نعرے لگا کر مجاہدہ باجی کو خوش آمدید کہا۔ آغاز میں تو میڈم صاحبہ نے بہت رُعب جھاڑنے کی کوشش کی گویا یوں معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے مشورہ دیا ہو کہ کلاس کو جاتے ہی کنٹرول کرلینا ورنہ بعد میں قابو نہیں آئے گی۔ لیکن ہم بھلا اُنکو استادی کیسے کرنے دے سکتے تھے۔۔۔ آخرکار کافی دیر کی تگ و دو کے بعد باجی جی ہمیں خاموش کروانے میں کامیاب ہوہی گئیں۔۔۔ اتنے میں کلاس کے باہر سے ایک اور ماڈل نما مجاہدہ کا گزر ہوا۔۔۔ ماڈل نما اِسلئے کیونکہ وہ طالبہ کم اور ماڈل زیادہ دِکھائی دیتی تھیں۔ اُنکو دیکھتے ہی ہماری کلاس میں موجود باجی نے آواز کس دی۔۔۔ سلمااااء!!!! سلماء جی بھی فوراً اندر آگئیں۔۔۔ دونوں باجیاں ایک دوسرے کی جانب بڑھیں اور  اپنے روائیتی انداز میں ایک دوسرے سے اپنے منہ بچاتے ہوئے اُوومچہ اُوومچہ کرتے ہوئے پیار کرنے لگی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا گویا ہم نے پچپن کی بِچھڑی دو بہنوں کو آپس میں ملوا دیا ہو۔ ایسے موقع پر جیسی خوشی ملوانے والے کو ہوتی ہے ویسی ہی ہمیں بھی ہو رہی تھی۔ آخرکار یہ منظر دیکھتے ہوئے ہم بھی دو لڑکے اپنی نشستوں سے اُٹھے اور ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور زوردار پچک پچک کر کے ایک دوسرے کو پیار دئیے لیکن اس دوران ہم دونوں کے منہ کے درمیان کوئی پورے ایک ڈیڑھ فُٹ کا فاصلہ تھا۔ یہ دیکھنا تھا کہ باجیاں بھی خوب کھِلکھِلا کر ہنس پڑیں اور پوری کلاس قہقہوں سے گونج اُٹھی۔۔۔ ہمیں تو ایسا محسوس ہوا گویا آج ہمیں پرائیڈ آف دی پَرفارمنس کا ایوارڈ مل گیا ہو۔ خیر ہم دونوں ہاتھ بلکہ دونوں بازو ہوا میں لہرا لہرا کر دوستوں کی داد کا شکریہ ادا کرنے لگے۔

مسلم شہزادیاں


مولانا صاحب اِک غیر مسلم دیس میں موجود مسلمانوں کے ایک مجمع سے مخاطب تھے۔ اِس مجمع میں بہت سے غیر مسلم بھی موجود تھے۔ مولانا صاحب اسلام میں عورت کی عزت و تعظیم کے موضوع پر گفتگو فرما رہے تھے کہ اچانک مجمع سے اِک شخص اُٹھا اور مولانا صاحب سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ آپ لوگ عورت کی قدرنہیں کرتے۔۔۔۔ آپ اپنی عورتوں کو زبردستی پردہ کرواتے ہیں۔۔۔ عورت کی آزادی چھین لیتے ہیں۔۔۔ آسکو قید کر کے رکھ دیتے ہیں۔۔۔ آسکو باہر نہیں نکلنے دیتے اور نہ ہی خود کمانے دیتے ہیں۔۔۔
مولانا صاحب خاموشی سے سُنتے رہے اور اُس شخص کے چُپ ہونے پر بولے کہ آپ اپنی لیڈی ڈیانا سے کیوں کام نہیں کرواتے؟ وہ شخص مولانا کے سوال پر نہایت حیران ہوا اور فوراً بولا کہ وہ تو ہماری پرنسس ہیں۔ ہم اُن سے بھلا کیسے کام کروا سکتے ہیں؟ وہ کیوں کوئی کام کریں؟ مولانا صاحب نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ آپکی صرف ایک شہزادی ہے جبکہ مسلمانوں کے ہر گھر میں ملکائیں اور شہزادیاں بیٹھی ہیں۔
کاش آج میرے نبی کی پوری اُمت کے قلوب میں اِس بات کا احساس پیدا ہو جائے اور میرے تمام مسلمان بہن بھائیوں کی سمجھ میں عورت کا وہ مقام آجائے جو اسلام نے اُسکو دیا ہے۔ اگر آج مسلمانوں کے ایمان پختا ہوتے اور وہ اپنے فرائض سے غافل نہ ہوئے ہوتے تو کِس کی جُرأت تھی کہ وہ مسلمانوں کی اِن شہزادیوں کی جانب میلی آنکھ سے دیکھتا؟ یورپ میں تو غیر مسلم قوتیں مسلمان عورت کے آنچل کو برداشت نہیں کر سکیں مگر ڈوب مرنے کا مقام تو یہ ہے کہ آج اِس برائے نام اِسلامی ریاست میں ایسی عورتوں کی تعداد میں دِن بہ دِن اضافہ ہوا جارہا ہے جو خود اپنے اِس آنچل سے تنگ ہیں۔ اِسلام کے اِن احکامات پر عمل کرنا اب اِنکے لئے کسی غلامی سے کم نہیں۔ غرض اِس سے زیادہ اور افسوس کی کیا بات ہوگی کہ آج تو خود مسلمان عورت ہی اپنا مقام بھُلا بیٹھی۔۔۔ نجانے کل کے دِن یہ عورت اماں عائیشہؓ کے سامنے کس منہ کے ساتھ کھڑی ہوگی۔۔۔ اور اُنکو کیا جواب دے گی کہ آپ کی اِس وراژت کو ہم نے کیا خوب سنبھالا؟؟؟
آج ہماری قوم کی اِن شہزادیوں کی لبوں پر وہی اعتراضات ہیں جو اُس انگریز کے مسلمانوں سے تھے۔ سوچنا اِس بات کا ہے کہ اُس انگریز کے اعتراضات تو مولانا صاحب نے نہایت مؤثر انداز میں دور کر دئیے تھے مگر اب یہاں کون مولانا صاحب کی جگہ ہمارے دیس کی اِن شہزادیوں کے اعتراضات کو دور کرے گا؟؟؟




ہم کون ہیں  کیا ہیں   بخدا  یاد  نہیں

اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا  یاد نہیں


ہیں اگر یاد تو کفر کے ترانے اب تک

ہاں نہیں یاد  تو  کعبہ کی سدا یاد نہیں


بنتِ ہوا  کو نچاتے ہیں  سرِ محفل اب

کتنے سنگ دل ہیں کہ رسمِ حیا یاد نہیں


آج اپنی زلت کا سبب یہ ہے  شاید
ہم کو سب یاد ہے بس خدا یاد نہیں

خُدارا اِس بات کو سمجھئیے

جب پہلی پوسٹ پبلش کی تو بہت سے خواتین و حضرات نے عورتوں کے نماز پڑھنے کے طریقے کو بھی پبلش کرنے کی گزارش کی۔ اِس میں کوئی شک نہیں کی مرد حضرات تو مساجد میں نماز پڑھ لیتے ہیں اور جسکی نماز درست نہیں ہوتی وہ بہت جلد اِس ماحول میں جا کر سیکھ لیتا ہے۔ مگر سارا مسئلہ تو میری ماؤں بہنوں کا ہے کہ وہ ایسی مجالِس میں نہیں جاسکتی جہاں اسلام کی تعلیم دی جائے اور نہ ہی آجکل کے مردوں کو یہ شوق رہا ہے کہ اُنکے گھر کی مستورات اسلام کو سیکھیں۔ اگر اِس اُمت کی صرف مستورات دین پر عمل کرنے لگیں تو یہ پوری اُمت بآسانی راہِ راست پر آسکتی ہے کیونکہ ایک مرد کیلئے پورے گھرانے کو سُدھارنا اتنا آسان نہیں جتنا کہ ایک عورت کیلئے۔ میری تمام بھائیوں سے گزارش ہے کہخود بھی دین کو سیکھنے کی جستجو پیدا کریں اور اپنے گھر کی مستورات کو بھی سکھائیں۔ اکثر محلوں میں یا کچھ مدارس میں عورتوں کو باقاعدہ اسلام کی تعلیمات دی جاتی ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ایسی جگہوں کو تالاش کر کے اپنے گھر کی عورتوں کو بھی دین سیکھنے بھیجیں۔ کل کو ہمیں بھی ﷲ کے سامنے اپنی ماںبہین‘ بیوی اور بیٹی کے بارے میں جواب دہ ہونا ہے۔ اِسکے علاوہ میری مستورات سے بھی گزارش ہے کہ برائے مہربانی اپنے اوپر رہم کرتے ہوئے خود بھی اپنے اندر دین سیکھنے کی جستجو پیدا کریں۔ آج مسلمانوں کے زوال کی وجہ اِنکی دین سے دوری ہے۔ جب تک مسلمان دینِ اسلام پر عمل پیرا رہے تو اﷲ انکو کامیابیوں سے نوازتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر پچاس فیصد اُمت صرف نماز پر آجائے تو مسلمانوں کا زوال رُک جائے گا اور جب پچاس سے ایک فیصد بھی اضافہ ہوگا تو مسلمانوں کے عروج کی ابتدا ہوگی۔
عورتوں کے نماز کے طریقے کو پبلش کرنے میں سارا مسئلہ عورت کے چہرے کا دِکھانا تھا۔ میں نہ تو کوئی عالم ہوں نہ مفتی کہ خود سے ارکانِ اسلام پر بحض کروں۔ لہٰذا میں کچھ ایسے لنکس کی تلاش میں تھا کہ جس میں  عورت کی صورت نہ دکھائی گئی ہو۔ یہ وہ لِنک ہے جہاں سے آپ عورت کے نماز پڑھنے کا طریقہ ڈاؤن لوڈ کر سکتےہیں:
عورت کی نماز کی تصاویر دیکھنے کیلئے یہ لِنک وزٹ کریں:
بہتر تو یہ ہے کہ آپ انٹرنیٹ پر اسلام سیکھنے کی زیادہ جستجو مت کریں بلکہ عملی طور پر کوشش کریں اور علماءِاکرام سے رابطہ رکھیں کیونکہ اِس میں زیادہ نفع ہے۔ کوئی شخص بیمار ہو تو فوراً ڈاکٹرز کے پاس لے جایا جاتا ہے۔۔۔ گھر بنوانا ہو تو ٹھیکیدار یا مزدور سے رابطہ کیا جاتا ہے۔۔۔ گاڑی خراب ہونے کی صورت میں ورکشاپ کے چکر لگائے جاتے ہیں۔۔۔ تعلیم حاصل کرنے کیلئے سکولوں کا رُخ کیا جاتا ہے۔۔۔ غرض زندگی کے ہر شعبے میں اُسکے ماہرین سے روابط اختیارکئے جاتے ہیں مگر افسوس سد افسوس کہ اسلام کے معاملات میں کبھی کوئی علماء سے رابطہ نہیں کرتا۔ اور تو اور خود ہی اپنے آپکو اسلام کا ماہر سمجھ کر فیصلے کرنے لگ جاتا ہے۔ اگر اتنا علم اور عقل ہے ہمارے پاس تو ہم ڈاکٹر کے پاس کیوں جاتے ہیں؟ خود علاج کیوں نہیں کر لیتے؟؟؟ گھر بنوانا ہے تو خود بنائیں۔۔۔ گاڑی خراب ہو گئی ہے تو خود کیوں نہیں ٹھیک کر لیتے؟؟؟ ارے ہم نے تو صرف اتنا فیصلہ کرنا ہے کہ کونسا ڈاکٹر اچھا ہے اور کونسا نہیں؟ یہ کہنا کوئی عقلمندی کی بات نہیں کہ اب تو کوئی اچھا ڈاکٹر ہی نہیں رہا۔ اب میں اپنا علاج خود کروں گا۔ نہیں بلکہ اچھے اور بُرے لوگ تو ہر جگہ موجود ہیں چاہے وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں۔ ہمارا کام صرف اِن میں فرق کرنا ہے۔ خُدارا اِس بات کو سمجھئیے!!!
Powered by Blogger.
۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...