Showing posts with label کاروبار. Show all posts
Showing posts with label کاروبار. Show all posts

انسان بن جاؤ!


اِنسانوں کے اِس بازار میں، خالص اِنسان نہایت قلیل ہیں۔ مانتا ہوں یہ انسان نما ضرور مگر انسان نہیں درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔ یہ اُستاد، طالبِعلم، وکیل، ڈاکٹر، انجینئر، ملازمین، مزدور، مذہبی و سیاسی رہنما غرض تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والا ہر اِک فرد اصل میں بیوپاری ہے جس میں میں اور تم بھی شامل ہیں۔ ہاں۔۔۔ تم مانو یا نہ مانو۔۔۔ میں اور تُم بھی بزنس مین ہیں۔ ہماری زندگیوں کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے یہی وجہ ہے کہ میں جب سے انٹرنیٹ پر بلاگنگ کر رہا ہوں، بے شمار افراد نے مجھ سے ایک ہی سوال کیا کہ کیا اِس بلاگنگ سے کوئی آمدنی بھی ہوتی ہے؟ میرا جواب ہمیشہ نفی میں رہا۔ جس پر دوسرا سوال جو میرے منہ پر مارا جاتا وہ یہ کہ پھر آپ کیوں یہاں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں؟ آپکو اِس سے کیا ملتا ہے؟ ہاں۔۔۔ ہماری زندگیوں کا مقصد تو صرف پیسہ کمانا ہے۔ ہم کیا جانیں یہ دِلی سکون، دِلی خوشی، محبت، ہمدردی، جذبہ، ایمان اور شوق کیا ہوتا ہے۔

ایک بچے کی ہی مثال لے لیجئیے جو ابھی مکمل بولنے کے قابل بھی نہیں ہوپاتا لیکن اُسکے دِماغ میں یہ بات ٹھونس دی جاتی ہے کہ تم نے ڈاکٹر بننا ہے، یہی تمہارا مقصدِ حیات ہے، اِسی میں تمہاری فلاح ہے۔ تم نے پڑھائی اور محنت کی صورت میں خوب سرمایہ کاری کرنی ہے تبھی اچھے ڈاکٹر بنو گے۔ اور جتنا گُڑھ ڈالو اتنا میٹھا کے مصداق جتنی سرمایہ کاری کرو گے اُتنا ہی نفع۔۔۔ گویا بچے کو بچپن سے ہی بیوپار کے اُصول سکھا دئیے جاتے ہیں۔ یہی بچہ بڑا ہوکر ڈاکٹر بنتا ہے، اپنا ہسپتال نما کارخانہ بنا لیتا ہے۔ اب اِس کارخانہ میں صرف وہی علاج پائے گا جو فیس بھرے گا۔ ہاں۔۔۔ کوئی مرتا ہے تو مرے۔۔۔ علاج تبھی ہوگا جب معاوضہ ملے گا۔ یہی بچہ اگر اُستاد بن جاتا ہے تو سکول نما کارخانہ، جہاں کسی غریب کا بچہ قطعاً تعلیم نہیں پاسکتا۔۔۔ فیس بھرو فیس۔۔۔ یہی بچہ عالم ہے تو علم کا تاجر، قاضی ہے تو انصاف کا تاجر، حاکم ہے تو رعایا اور اُنکے کے حقوق کا تاجر، سپاہی ہے تو ریاست کے امن کا تاجر، فوجی افسر ہے تو سرحدوں کا تاجر اور تاجر بھی ایسا کہ جسکے بنیادی ہتھیار رشوت، سفارش، جھوٹ، فراڈ اور بددیانتی ہیں۔ تبھی میں کہہ رہا ہوں کہ ہم انسان نما ضرور مگر انسان نہیں، درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔

انسان تو وہ ہیں جنہیں انسانیت کے تقاضوں کی نہ صرف پہچان ہے بلکہ وہ باخوبی اِن تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں۔ انسان اتنا خود غرض، لالچی، بےغیرت اور بےحس نہیں ہوتا جتنے آج ہم ہوچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان مشرق سے لے کر مغرب تک ہر جانب ظلم کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ میرے کتنے ہی بےگناہ مسلمان بہن بھائی کفار کی قید میں اُنکے مظالم سہ رہے ہیں۔ اور قید بھی گوانتا ناموبے جیسی جہاں وہ وہ ظُلم ڈھائے جاتے ہیں کہ جسکا تصور ہی لرزا دینے کیلئے کافی ہے۔ ہاں وہ میری ہی قوم کے باشندے ہیں جنہیں برہنہ کر کے برف خانوں میں لٹا دیا جاتا ہے، کتوں کے سامنے پھینک دیا جاتا ہے، پانی کی بجائے خون اور نہ جانے کیا کچھ پلایا جاتا ہے، میری ماؤں اور بہنوں کی عزتیں سینکڑوں مرتبہ لوٹی جاتی ہیں، وہ روز روز کے مرنے سے تنگ آکر اِک ہی مرتبہ مرنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں شکوہ ہے ہم سے کہ اُنکے مسلمان بہن بھائی بےخبر سو رہے ہیں۔ مگر اُنہیں کیا بتلاؤں کہ ہم تو انسان ہی نہیں رہے۔ پھر ہمارے پاس اتنا وقت کہاں کہ کسی کیلئے سوچیں۔ وہ مسلمان جو اللہ کی مدد کی اُمید کا ہتھیار لے کر تمہاری مدد کیلئے اپنے گھروں کو چھوڑ ڈالتے ہیں، ہم تو اُنہیں دہشت گرد اور بیوقوف تصور کرتے ہیں کہ اُنہیں اِس سے کچھ حاصل نہیں۔ ہمارا مذہب، ہمارا ایمان، ہمارا خدا اور ہمارا سب کچھ تو صرف پیسہ ہے پیسہ۔۔۔ ہم تو راتوں کو سونے کی بجائے یہ سوچتے ہوئے گزار دیتے ہیں کہ کیسے اپنا محل بنا لیا جائے، کیسے لمبی گاڑی آجائے، کیسے بڑا عہدہ مل جائے، کیسے فرعون جیسی شان مل جائے، ہم تو زمین کے ایک ٹکڑے کی خاطر اپنی ماں کو گالیاں دے جاتے ہیں، باپ کو جیتا جی مار دیتے ہیں۔۔۔ ہاں۔۔۔ کیا کیا بتلاؤں تمہیں۔۔۔ کہنے کو تو بہت کچھ ہے۔۔۔ مگر تم صرف یہ مان لو کہ ہم انسان نما ضرور مگر انسان نہیں، درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔

آؤ ۔۔۔ چند لمحوں کیلئے ۔۔۔ ذرا دماغ پر زور دو ۔۔۔ اِس بازار کے شوروغل سے ذرا پرے ہٹ کے، اپنے دماغ سے اپنی کاروباری زندگی کے نفع و نقصان، لالچ و خود غرضی کے پردوں کو ہٹاؤ، ذرا ضمیر کی اَکھیوں کو کھولو اور سوچو کہ تم اِس دُنیا میں کیوں آئے؟ کیا تمہارے یہاں آنے کا کوئی مقصد تھا؟ کب تک رہنا ہے یہاں؟ آخر تمہاری اِس زندگی کا انجام کیا ہے؟ یہاں سے جاتے ہوئے ساتھ کیا لے کر جاؤ گے؟ کبھی سوچا کیا یہ تم نے؟ اگر نہیں سوچا تو بخدا آج سوچ لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ تمہاری زندگیوں کا وہ مقصد نہیں ہے جو تم بنا بیٹھے ہو۔ ابھی بھی وقت ہے۔ اِس بیوپار کو چھوڑو اور انسان بن جاؤ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ انسان بن جاؤ!

باباجی ۔۔۔ بقیہ حصہ

ہم تو سوچتے ہیں کہ باباجی کے کوئی درجن ایک شہزادے ہوتے تو سبھی کمپنی کے کسی نہ کسی عہدے پر براجمان ہوتے۔ جی ہاں۔۔۔۔ کمپنی کے اکاونٹس مینیجر اپنا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ اِک ماہ کی آخیر تاریخوں میں ہم نے حسبِ معمول کمپنی کے عملہ کی تنخواہوں کو مرتب کیا تو باباجی ہم سے مُخاطب ہوئے کہ کیا اس فہرست میں ہمارے چھوٹے شہزادے کا نام بھی ہے؟ نفی میں جواب دینا تو کُجا، ہم تو آنکھیں پھاڑے باباجی کی جانب تکنے لگے۔ جواب ملا کہ کیا آپکو نہیں معلوم ہمارا سترہ سالہ شہزادہ ہماری کمپنی کا نیا ڈرافٹس مین ہے۔ وہ اس ماہ ہماری کمپنی کے فلاں ڈیلر کے پاس بیٹھ کر اپنی خدمات سرانجام دیتا رہا ہے۔ لہٰذا اُسکی تنخواہ کا بھی شمار کیا جائے۔ تفتیش کرنے پر وہ ڈیلر بچے کا تایا نکلا۔ باباجی کے جانے کے بعد ہم نے چھوٹے شہزادے کا موبائل نمبر تلاش کیا اور کال ملائی، سلام دُعا کے بعد جناب سے پوچھا کہ حضرت دفتری اوقات میں کہاں غائب ہیں؟ آخر کو وہ کمپنی کے عملہ کا حصہ تھے اب، یہ پوچھنا ہمارا حق بنتا تھا۔ دوسری جانب سے جواب ایسی معصوم آواز میں موصول ہوا گویا نائیٹ پیکیچ کروا کر ہم کسی بچی سے گپیں مار رہے ہیں۔ ’’ جی۔۔۔ وہ۔۔۔۔ ابھی باجی کو یونیورسٹی سے لے کر آرہا ہوں۔ خیریت تو ہے نا؟ ‘‘ اب ہم کیا کہتے کہ بیٹا دفتر تشریف لائیے، یہ وقت باجیوں کو یونیورسٹی سے لانے کا نہیں بلکہ دفتر میں کام کرنے کا ہے۔ آخر کو آج جناب کی تنخواہ جو تیار ہورہی تھی۔
حساب کتاب کے مینیجر مزید فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم حسبِ معمول اپنی نشست پر براجمان تھے کہ باباجی کی جانب سے ہمارا بلاوا آیا۔ جناب کے پاس حاضری دی تو معلوم ہوا کہ جناب کسی ادارے کے ٹینڈر کیلئے دستاویزات تیار کر رہے ہیں اور ہمیں باباجی کا دستاویزات تیار کرنے کا یہ مرحلہ نہایت دلچسپ لگا۔ جناب نے انٹرنیٹ سے کُچھ متعلقہ مواد ڈانلوڈ کیا اور پھر نقل کرنے لگے، وہی اجزاء، وہی مواد اور وہی قیمتیں اب جناب کی کمپنی کے دستاویزات کا حصہ تھیں۔ ہمارے شیر انجینئیر نے دوبارہ جسارت کرتے ہوئے باباجی کی عقل میں پھونک مارنے کی کوشش کی کہ جناب جس منصوبے کے ٹینڈر کیلئے آپ یہ دستاویزات تیار فرما رہے ہیں، اُسکیلئے ہمیں کُچھ مختلف مواد کی ضرورت ہوگی اور جو قیمتیں آپ چھاپے جا رہے ہیں وہ آج سے کئیں سالوں قبل کی ہیں، اگر ایسا ہی ٹینڈر بھرا تو منصوبے پر کام کرنا دُشوار ہوجائے گا۔ یہ کہنا تھا کہ باباجی کی کہانیاں شروع۔۔۔۔۔ کہ ہم نے فلاں فلاں منصوبوں پر کام کیا۔۔۔۔۔ یہ ہمارا طریقہ ہے۔۔۔۔۔ آپ ان باتوں کو نہیں سمجھیں گے۔۔۔۔۔ خیر باباجی ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ جو حساب کتاب ہم نے کیا، اسکا کُل کیجئیے کہ کتنا بنتا ہے۔ ہم نے بتایا کہ جناب یہ تو اتنا بن رہا ہے۔ کہنے لگے کہ نہیں یہ کُچھ زیادہ ہوگیا آپ ایسا کیجئیے کہ جو رقم سب سے بڑی ہے وہ بتائیے۔ ہمارے بتانے پر کہنے لگے کہ اس میں سے اتنے لاکھ کم کر دیجئیے، ہم نے ایک مرتبہ بلے جیسی موٹی موٹی آنکھوں سے باباجی کی جانب دیکھا اور پھر اُس رقم کو کم کردیا۔ خیر کُل کرنے پر جناب کو رقم پھر کافی بڑی لگی اور یوں یہ کھیل بار بار دُہرایا گیا۔۔۔۔ کوئی مانے نہ مانے۔۔۔۔ ہم تو اس کھیل سے بہت لُطف اندوز ہوئے۔۔۔۔
خیر ان تمام باتوں کے باوجود تقدیر باباجی کو کرنل کی وساطت سے رزق مہیا کئیے جا رہی ہے اور باباجی آجکل ہواؤں میں اُڑے جارہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ آج نہیں تو کل باباجی جتنی اُونچائی سے زمین پر آگریں گے اُتنی ہی اُونچی ڈھزززززز ہو گی۔
خیر لیجئیے باباجی کا ایک کارنامہ مزید سُنتے جائیے۔۔۔ حسبِ معمول تمام عملہ دفتر میں بیٹھا مکھیاں مار رہا تھا وہ بھی اس ہوشیاری سے کہ دیکھنے والا سمجھنے لگے، ہو نہ ہو کشمیر تو اسی کمپنی نے فتح کرنا ہے۔ اچانک کُچھ خواتین زبردستی دفتر میں گھُسی آئیں۔ یہ خواتین دیکھنے سے کسی اچھے گھرانے سے تعلق رکھنے والی معلوم ہوتی تھیں مگر تھیں پیشہ ور بھکاری۔ وہ اکثر دفتر تشریف لاتیں اور پوچھنے پر بتاتی کہ ہمیں باباجی سے ملاقات کرنی ہے، عملہ کا ایک بندہ تو کہنے لگا کہ میں سمجھا یہ باباجی کی گھروالیاں ہیں لہٰذا کُچھ نہیں کہا۔ اتفاق سے وہ مانگنے والیاں جب بھی آتیں تو باباجی دفتر میں موجود نہ ہوتے لیکن آج بزرگوار بھی تشریف فرما تھے۔ مانگنے والیاں سیدھی باباجی کے پاس حاضر ہوئیں اور مالی امداد کی التجاء کرنے لگی۔ باباجی غُصے میں بولے کہ آخر چاہتی کیا ہو تم؟ اُن میں سے ایک بولی جناب ہماری مدد فرما دیجئیے۔ آہا۔۔ ہا۔۔ ہا۔۔۔ باباجی نے کیا پاکیزہ جواب دیا۔۔۔۔ کہنے لگے کہ جس مدد کی تم بات کرتی ہو وہ تو میں صرف اپنی بیوی کی کرتا ہوں۔۔۔۔ وہ دِن اور آج کا دِن، مانگنے والیاں مُڑ کر دوبارہ کبھی نہیں آئیں۔ شائید وہ باباجی سے ذیادہ عزت دار نکلیں۔ باباجی کی اس حاضر دماغی کو ہماری جانب سے دُر سلام۔
ہم اگر باباجی کے گُن گانے لگے تو کی بورڈ گھِس جائے گا، بجلی چلی جائے گی، لیپ ٹاپ کی چارجنگ مُک جائے گی لیکن ہمارے باباجی کی تعریف میں یہ قصیدے ختم ہونے کا نام نہیں لیں گے۔ خیر وہ دِن اور آج کا دن، ہم کسی بھی پاکستانی مصنوعات کو دیکھتے ہیں تو دماغ فوراً چھلانگیں مارنے لگتا ہے کہ ضرور اس مصنوعات کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی باباجی تشریف فرما ہوں گے۔

باباجی

بابا جی نے ساری زندگی نہایت تکالیف و مصائب کا سامنا کرتے ہوئے گزاری۔ لیکن اب تقدیر مہرباں ہوئی اور باباجی کو ایک ریٹائرڈ کرنل سے ملاقات کا اتفاق ہوا۔ کرنل بھی ایسا کہ جسکو دیکھ کر ہم ہمیشہ بدگمانی کا شکار ہوئے جاتے اور کرنل اور مُملکتِ زرداریوں کی فوج کے درمیان موازنہ کرنے لگتے۔ آخر اس نتیجے پر پہنچتے کہ ہمارے دیس کی فوج تو قطعاً ایسی مہذب ہو نہیں سکتی، یقیناً یہ کرنل بگڑا ہوا ہے جس میں انسانیت اور شرافت ابھی بھی کافی حد تک رچ بس رہی ہے۔ خیر۔۔۔ باباجی نے کرنل کے عُہدے، جیب اور اُسکے اس بگڑے پن ہمارا مطلب ہے کہ شرافت سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی۔ چند ملاقاتوں کے بعد باباجی نے کرنل کو اپنی ایک ٹھیکیدارانہ نوعیت کی کمپنی بنانے پر رضامند کر لیا۔ دونوں نے شراکت داری بھی ایسی کی، کہ جسکی سمجھ آج تک ہمارے اس ناقص دماغ میں نہیں آئی۔ آسان الفاظ میں بتائے دئیے دیتے ہیں کہ سرمایہ داری ساری کرنل کی اور منیجمنٹ باباجی کی۔
دراصل باباجی پیشے سے ایک ٹھیکیدار تھے لیکن اب کرنل سے ملاقات کے بعد اپنی ٹھیکیداری کو مُکمل بھُلا چُکے ہیں۔ کرنل نے دفتری اور قانونی کاغذوں میں اپنے آپکو مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم۔ڈی) کہلوانا شروع کردیا، یہ دیکھا دیکھی باباجی کو بھی شے چڑی اور اُس دن کے بعد باباجی بھی کپمنی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل کہلوانے لگے۔ ٹھیکیداری کے دور میں باباجی کی کُل تعلیم فقط ایک ڈپلومہ تھا لیکن ڈائریکٹر ٹیکنیکل بننے کے بعد دفتری کاغذوں میں باباجی کے نام کے ساتھ مکینیکل انجینئیر لکھا جانے لگا۔ ٹھیکیداری کے دوران باباجی نے مُختلف ٹھیکیداروں کے جو جو بڑے بڑے قصے سُنے اب وہ تمام باباجی کی شخصیت کے ساتھ منسلک ہونے لگے۔ جی ہاں! دفتری عملہ ہو یا کسی محکمہ میں کوئی میٹینگ، اب باباجی کی ہر بات کا آغاز اپنے تجربات سے ہی ہونے لگا اور تجربات کی فہرست بھی ایسی کہ جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لے۔ ہر ایسا منصوبہ جو انکے کسی جاننے والے یا کسی بڑے ٹھیکیدار نے مکمل کیا ہو اب وہ باباجی کا ہی کارنامہ کہلانے لگا۔
باباجی نے کُرسی پر تشریف رکھنے کے بعد ایک اچھے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے برابر کی کُرسی اپنے جانشین کیلئے مُختص فرما دی۔ جی ہاں اپنے شہزادہ کو اماں کی گود سے اُٹھوا کر دفتر میں بلوایا اور جناب کی کُرسی پر پراجیکٹ مینیجر کی تختی لگوا دی۔ ہم تو سوچتے ہیں کہ بچہ تو ہکا بکا رہ گیا ہوگا کہ ارے یہ ہمارے ساتھ ہوا کیا۔ ہم تو ابھی بھی جناب کو یاد کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا منہ میں چوسنی ڈالے پراجیکٹ مینیجر کمپنی کے تمام برتن توڑے جارہا ہے۔۔۔ ارے جی کمپنی کے برتن تو کمپنی کے معاملات ہی ہوتے ہیں نا۔۔۔ تو سمجھ ہی جائیے۔۔۔ خیر عملہ میں سے ہمارے اِک باہمت شیر نے پراجیکٹ مینیجر کی تعلیم پوچھنے کی جسارت کی تو معلوم ہوا کہ جناب ایک انجینئیر ہیں یہ علیحدہ بات ہے کہ بغل میں ڈگری نہیں۔۔۔ بقول جناب کے، یونیورسٹی کا (پی۔ای۔سی) پاکستان انجنئیرنگ کونسل سے کوئی لانجھا چل رہا ہے جسکی وجہ سے طلبہ کو ڈگری کے بغیر ہی فارغ کیا جا رہا ہے۔ ایسی بھی کوئی بات نہیں، ہمیں جناب کی زبان پر پورا بھروسہ ہے، کہہ رہے ہیں تو سچ ہی ہوگا۔ آخر ہوئے جو ایک مہذب پاکستانی، بھروسہ کر کے لِتّر کھانا ہماری ایک پُرانی عادت ہے۔  

(جلدی کا کام شیطان کا، لہٰذا انتظار فرمائیے۔ بقیہ حصہ جلد ہی شائع کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ )

درندہ صفت

یحیٰ کا آپریشن الحمدللہ کامیابی سے ہوگیا ہے اور اب تو وہ گھر بھی آگیا لیکن تاحال بیڈ پر ہی ہے۔ پہلے اُسکی ٹانگ کے نیچے تین تکئیے رکھے جاتے تھے جبکہ اب ڈاکٹروں نے اُنہیں تین سے کم کر کے ایک کرنے کا کہا ہے۔ اِس سے آپ اُسکی موجودہ حالت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

خیر بڑھتا ہوں اُس بات کی جانب جس نے آج مجھے لکھنے پر مجبور کیا۔ دراصل آپریشن کے بعد یحیٰ کو جس وارڈ میں منتقل کیا گیا، وہیں کچھ فاصلے پر ایک اِکیس سالہ لڑکی اپنے بیڈ پر لیٹی تکلیف سے بلبلا رہی تھی۔ نوجوان لڑکی کی تکلیف ناقابلِ دید تھی اور اُسکی ماں آنسو بہاتے ہوئے اُسے بار بار دلاسا دے رہی تھی۔ باپ نہایت بے چینی کے عالم میں ڈاکٹروں کے پاس چکر لگارہا تھا۔ غرض مجھ جیسے نازک دِل انسان کیلئے یہ پورا منظر دیکھنا ہی نہایت اذیت کا سبب بنا۔
یہ نوجوان لڑکی ایک پرائیویٹ فرم میں ملازمت کرتی ہے۔ ایک دن دفتر جانے کیلئے بس سٹاپ پر کھڑی تھی کہ کچھ لفنگے ایک گاڑی میں آئے اور جاتے جاتے لڑکی کو ٹکر مار گئے۔ نجانے اُنہوں نے شرارت سے مارا یا ظالموں کو کوئی دُشمنی تھی یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن نوجوان لڑکی اور اُسکے والدین کی سینکڑوں بد دُعائیں ہمیشہ کیلئے ساتھ لیتے گئے جو شاید اُنہیں پوری زندگی چین سے نہ بیٹھنے دیں۔ مریضہ کے والدین کہتے ہیں کہ ہم بچی کو شہر کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹر سے ملے تو وہ کہنے لگا کہ یہ سرکاری ہسپتال ہے۔ یہاں علاج کروایا تو ایک لمبا عرصہ لگ جائے گا۔ چند پیسوں کی بچت کی خاطر آپ کہاں اتنا انتظار کرتے رہیں گے؟ لہٰزا بہتر یہی ہے کہ شام کو میرے پرائیویٹ ہسپتال آجائیے، وہاں جلد آپریشن ہو جائے گا۔ یہ کہہ کر ڈاکٹر نے اپنا ویزیٹینگ کارڈ ہمارے ہاتھ میں تھمایا اور باقی مریضوں کی جانب بڑھ گیا۔
والدین کا کہنا ہے کہ بچی کا رشتہ بھی طہ پایا ہوا ہے۔ ہمیں اس بات کا ڈر تھا کہ اگر کسی سرکاری ہسپتال سے علاج کروایا اور خداناخواستہ کچھ دیر ہوگئی تو کہیں لڑکے والے رشتہ ہی نہ توڑ دیں۔ بس یہی سوچ کر ہم ڈاکٹر کے پرائیویٹ ہسپتال پہنچ گئے۔ ڈاکٹر نے آپریشن کیلئے ایک بڑی رقم کا مطالبہ کیا جسکا بندوبست کرنا ہمارے لئے نہایت مشکل امر تھا۔ خیر جس طریقے سے ہم نے ڈاکٹر کی فیس ادا کی یہ ہم ہی جانتے ہیں یا پھر ہمارا رب۔ ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کے بعد بھی بچی کی تکلیف میں کوئی کمی نہ ہوئی۔ پہلے تو ہم سمجھے کہ شاید رفتہ رفتہ صحت بہتر ہو جائے گی لیکن تکلیف میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا گیا لہٰذا ہم بچی کو  شہر کے ایک اور بڑے ہسپتال لے گئے جہاں کچھ ابتدائی علاج کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچی کی ٹانگ میں نقلی راڈ ڈالا گیا ہے لہذا دوبارہ آپریشن کر کے اُسکو نکال کر نیا راڈ ڈالا جائے گا۔
والدین کیلئے ایک تو بچی کا غم، دوسرا بچی کے رشتے کی فکر کہ کہیں وہ یہ نہ کہیں کہ فقط پیسے کی بچت کی خاطر دیر کر رہے ہیں۔ بس یہی سوچ کر پیسے کی فکر کئے بِنا جتنا جلد ممکن ہوسکے علاج کروانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن ایک متوسط خاندان کیلئے اتنی بڑی رقوم کا بندوبست کرنا کتنا آسان ہے؟ یہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں۔

جب سے اس واقعہ کا علم ہوا، بار بار میرے ذہن میں وہ لمحات کسی ویڈیو کی طرح گردش کرنے لگ جاتے ہیں کہ لڑکی اپنے بیڈ پر لیٹی تکلیف سے بلبلا رہی ہے، ماں آنسو بہاتے ہوئے بچی کو تسلی دے رہی ہے اور باپ سخت پریشانی کے عالم میں ڈاکٹروں کے پیچھے بھاگ دوڑ رہا ہیں۔ پھر سوچتا ہوں اِس اسلامی جمہوریہ کے اِن درندہ صفت باشندوں کے بارے میں جو فقط اپنے پیٹ کے خداؤں کی بھوک کو مِٹانے کیلئے دوسروں کا گوشت بھی کھا جاتے ہیں اور اِنہیں خداؤں کی پیاس بُجھانے کیلئے ہر لمحہ دوسروں کا خون پینے کیلئے بھی تیار رہتے ہیں، پھر بھی نہایت پُر اُمید انداز میں اس مُلک پر چھائی گھٹا کے جلد ہی چھَٹ جانے کی پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔

یحیٰ

یحیٰ کے والد ائیر فورس سے ریٹائیرڈ ہیں اور محلے کی مین سٹریٹ میں دو دوکانوں کے مالک بھی ہیں۔ ماہانہ پینشن اور دوکانوں کا کرایہ ہی انکی کُل آمدنی ہے جسکی مدد سے وہ نہ صرف سفید پوشی سے زندگی بسر کر رہے ہیں بلکہ اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلوا کر اپنا فرض احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ پانچ وقت کے نمازی اور نہایت نیک انسان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یحیٰ بھی اِک خوش مزاج‘ نیک سیرت اور نہایت اچھے اخلاق کا نوجوان ہے۔
یحیٰ کے والدین اپنے بیٹے سے بے حد پیار کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے چھ بیٹیوں کے بعد اُنکو ایک بیٹے کی خوشی  سے نوازا۔ اُسکی حیثیت  اِن چھ بہنوں کے درمیان ایک چمکتے دمکتے چاند کی سی ہے۔ جسکی چاندنی اور ٹھنڈک میں وہ پورا گھرانہ ہنستا مسکراتا زندگی بسر کر رہا ہے۔ یحیٰ کے والدین کی پوری کوشش ہے کہ یحیٰ پڑھ لکھ کر کچھ بن جائے تاکہ وہ نہ صرف بڑھاپے میں اُنکے سہارے کا ذریعہ بن سکے بلکہ معاشرے میں اُنکو بھی عزت سے سر بلند کرنے کا موقع مل سکے۔ غرض یحیٰ کے والدین کی تمام تر اُمیدوں کا مرکز اور اُنکی خوشیوں کا باعث تنِ تنہا یحیٰ ہے۔
----------------------------------------
دفتر سے گھر لوٹا تو چھوٹے بھائی نے نہایت جلدی میں سلام کیا۔ ابھی میں سلام کا جواب بھی نہ دے پایا تھا کہ کہنے لگا: ’’بھائی آپکو علم ہوا؟ وِو۔۔ وو۔۔۔ وہ۔۔۔‘‘ بھائی کی اس حد تک ہچکچاہٹ اور گبراہٹ دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ ضرور کوئی نہایت اہم بات پیش آئی ہے۔ ابھی میں مزید کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ بول پڑا: ’’وہ یی۔۔۔یی۔۔ یحیٰ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔‘‘

یحیٰ موٹرسائیکل پر سوار یونیورسٹی جا رہا تھا کہ راستے میں اُسکا ایک پِک اَپ سے ایکسیڈینٹ ہوگیا۔ پِک اَپ کے ڈرائیور نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فوراً جائے وقوعہ سے غائب ہوگیا لیکن  اُسے کیا معلوم کہ وہ جاتے ہوئے نہ صرف ایک ہنستے مسکراتے گھرانے کی مسکراہٹوں اور خوشیوں کو لوٹ گیا بلکہ چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی، بوڑھے والدین کے تنِ تنہا سہارے، یحیٰ کو ایک ٹانگ سے محروم کر گیا۔۔۔۔
یحیٰ کے گھر عیادت کیلئے گیا تو اُسکے والد کے چہرے کو پہلی مرتبہ اتنا بُجھا ہوا پایا۔ انکل نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے معمولی علاج کے بعد یحیٰ کو گھر بھجوا دیا۔ بےحد اصرار پر بھی وہ یحیٰ کو ہسپتال میں ایڈمٹ نہیں کر رہے۔ پورا دن بچے کو تڑپتا چھوڑ کر ہسپتال میں بھاگتا دوڑتا رہا کہ شائید کوئی سُن لے لیکن اُن کے کان پر تو جوں تک نہیں رینگتی۔ اگر یحیٰ کا آپریشن وقت پر نہ ہوا تو۔۔۔۔ یہ کہہ کر انکل نے سر جھُکا لیا اور اپنے آنسو پونجھنے لگے۔ میں نے آج سے پہلے اُنکو اتنا مایوس اور اُداس کبھی نہیں دیکھا تھا۔ چند لمحوں کے بعد انکل نے سر اوپر اُٹھایا اور کہنے لگے: ’’اب سوچ رہا ہوں کہ کوئی سفارش ڈھونڈوں تاکہ وہ لوگ میرے بچے کو ایڈمٹ کر لیں۔ میری نہیں سنتے کسی بڑے آدمی کی تو سُن لیں گے نا۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا اور جھکے سر کے ساتھ زمین کو گھور گھور کر دیکھنے لگے۔

Powered by Blogger.
۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...