Showing posts with label انسان. Show all posts
Showing posts with label انسان. Show all posts

بدلتے مزاج

’’تم بدل گئے ہو۔۔۔‘‘
’’آپ بہت تبدیل ہوگئے ہیں۔۔۔۔‘‘
’’تم پہلے جیسی نہیں رہی۔۔۔۔۔‘‘
اِس مختصر سی زندگی میں یہ وہ جملے ہیں جو آپ نے عموماً سُنے یا کہے ہوں گے۔ دراصل انسان اور زندگی کی مثال صحرا کے ریت کے ذروں اور آندھیوں کی مانند ہے۔ زندگی نام ہی اِن آندھیوں کا ہے جو اپنے ساتھ ریت کے ذرات کو اُڑائے پھرتی ہیں۔ گویا زندگی جب اپنے تیور بدلتی ہے تو انسان کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ انسان کتنا ہی ہنس مُکھ کیوں نہ ہو، زندگی کے یہ طوفاں اُسکو سنجیدہ مزاج بنا دیتے ہیں، انسان کتنا ہی دولتمند کیوں نہ ہو، یہ طوفاں اُس سے پلک جھپکنے میں سب کچھ چھین لیتے ہیں، اِک راہگیر کو شہنشاہ اور شہنشاہ کو راہگیر بنانا اِن طوفانوں کیلئے قطعاً دُشوار نہیں، خوشیوں کو غموں اور غموں کو خوشیوں میں بدلنا، یہ سب اِن طوفانوں کا معمول ہے۔ لہٰذا میرے خیال میں اگر اِک انسان خوش مزاج ہے تو اِس میں اُسکا ذاتی کوئی کمال نہیں۔ اِسکے برعکس وہ جو تنہائی پسند اور سنجیدہ مزاج ہے، اِس میں بھی اُسکا ذاتی کوئی قصور نہیں، یہ سب زندگی کے طوفانوں کا کمال ہے جنہوں نے اِس انسان کو بدل کر رکھ دیا۔
دوسرے پیرائے میں دیکھا جائے تو درحقیقت اِن طوفانوں کے پیچھے قدرت کا ہاتھ ہے جو بذریعہ زندگی کے طوروخم، اِنسان کی شخصیت کو بدل ڈالتی ہے۔ قصۂ مختصر، تمہید سے مقصود، جب انسان کی شخصیت اور اُسکے مزاج کی تخلیق یا بدلنے کی بنیادی وجہ زندگی کے طوروخم اور حالات ہیں تو ہمیشہ انسان کو ہی اُسکے مزاج پر کیوں کوسہ جاتا ہے؟ مانتا ہوں قدرت کی رضا کے مطابق انسان کے بس میں بھی مزاج کی بہتری کی سعی کرنا ہے لیکن پھر بھی عموماً زندگی کے مسلسل طوفاں اِنسان کی مثبت کوششوں کو بھی ہوا کر دیتے ہیں۔ وہ چاہے کتنا ہی معاشرے میں گھُل مل کر جینا چاہے، دوست یاروں کے شوروغل میں اپنے قہقہوں کو بلند کرنا چاہے، حالات اُسکو تنہائی پسند بنا ہی دیتے ہیں اور اپنے مزاج میں مزاح پیدا کرنے کی وہ کتنی ہی جستجو کیوں نہ کرے، یہ طوفاں پلک جھپکنے میں اُسکو سنجیدگی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اِس تمام کے برعکس وہ انسان جسکو تنہائی، سنجیدگی اور خاموشی سے نفرت ہو اور جس کا ہر پل مزاح، شرارتوں اور یاروں میں گزرے، اِس میں بھی اُسکا نہیں بلکہ حالات کا کمال ہے جنہوں نے اُسکی خوشیوں اور شریر مزاجی کو قائم رکھا ہوا ہے۔
---------------------------------------------------------
آپ میرے مؤقف سے کس حد تک اتفاق کرتے ہیں اور اگر نہیں تو کیوں؟ اِن خیالات کا اظہار تبصرے کے صورت میں کیجئیے۔

بھیا کی تہہِ دِل سے دُعا ہے کہ اللہ تبارک وتعٰلی مُجھ سمیت آپ سب کی زندگیوں کی ایسے طوفانوں سے حفاظت فرمائے رکھے جو اپنے ہمراہ آپکی خوشیوں، راحت، رشتوں اور رشتوں کے پیار کو بھی اُڑا لے جائیں۔ اِسکے برعکس میری تمام چنچل، شریر اور خوش مزاج افراد سے گزارش ہے کہ اپنی خوشگوار زندگی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے ایسے افراد پر تنقید سے پرہیز کیجئیے جو زندگی کے طوفانوں کے پے در پے وار سے نڈھال، ہمت کھو بیٹھے ہیں، جو مایوسی کی فضا میں اِک خاموش زندگی بسر کرتے ہوئے مُسکراتے تو ہیں لیکن اِنکی ہر مُسکراہٹ اور قہقہے کے پیچھے بھی اِک درد چھُپا ہوا ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ایسے افراد کیلئے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکال کر اِن سے پیار و محبت کے بول بولئیے، اِنکے غموں کو سُنئیے اور اپنی خوشیوں کو اِن سے بانٹنے کی سعی کیجئیے۔ ہوسکتا ہے آپکا یہ عمل آپکی خوشیوں، راحت اور کامیابیوں میں اضافے کا باعث بنے۔

انسانی آئینہ کی تلاش

میں اِک کثیر عرصہ سے کسی ایسے انسانی آئینہ کی تلاش میں ہوں جس میں مُجھے اپنا عکس نظر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ جس انسان سے بھی ملتا ہوں، اُس میں اپنا آپ ڈھونڈنے لگتا ہوں۔ کچھ انسان جو دِل کو بھا جاتے ہیں، جن کی کچھ ادائیں دِل میں گھر کر لیتی ہیں، میں اپنی جان، مال اور وقت کی پروا کئے بناء اُنکے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہوں اور گر چند لمحوں کیلئے اُنکا ساتھ نصیب ہو جائے تو اُن میں اِک عادل تلاش کرنے لگتا ہوں۔ ہاں اُنکی چھوٹی چھوٹی عادات میرے مشاہدے سے گزرنے لگتی ہیں کہ شائید کوئی عادت مجھ سے مشابہ ہو۔ میں اِس سفر میں بہت سے افراد سے ملا جن میں بچوں سے لے کر جوان اور ضعیف العمر مردوخواتین شامل ہیں۔ کچھ لوگوں کے قریب ہوتے ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ مجھ میں اور اِن میں زمین آسمان کا فرق ہے لہٰذا میں واپسی کی راہیں ہموار کرنے لگتا ہوں جبکہ کچھ افراد سے مل کر اپنا آپ سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ میں اُنکی عادات کا مزید گہرائی میں مشاہدہ کرنے لگتا ہوں۔ ایسے میں کسی کی سوچ کا کچھ حصہ مُجھے اپنی سوچ سے اور کسی کی کوئی ایک یا زائد عادات مُجھے اپنی عادات سے ملتی جلتی دِکھائی دینے لگتی ہیں۔ خوشی تو تب ہوتی ہے جب ایک فرد کی بیشتر عادات اور سوچ، میری عادات اور سوچ سے مشابہ ہوں۔

افسوس اِس بات کا ہے کہ اِس سفر میں ہمیشہ ایک ہی نتیجہ نکلا کہ اِس دُنیا میں دو اِنسان قطعاً ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ ایسا کوئی نہ کوئی موڑ ضرور آتا ہے جہاں میں دائیں کو جانا چاہوں گا اور میرا ہمسفر بائیں کو۔ اِس نتیجہ سے مایوس ہو کر نجانے کتنی ہی مرتبہ یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ اب یہ سفر طے کرنا چھوڑ دوں۔ لیکن شائید کسی ایسے انسان کی یہ تلاش میری فطرت میں ہے۔ مُجھے یوں محسوس ہوتا ہے گویا جس اِنسان کی مُجھے تلاش ہے وہ مل جائے گا لیکن پھر یہ سوچ کر اپنے ہی لئے لبوں پر اِک مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ شائید یہ اپنی بیوقوفی پر اِک طنزیہ مسکراہٹ ہوتی ہے کہ اِس سفر میں جو نتیجہ ہمیشہ سے نکل رہا ہے میں ابھی بھی اسکی نفی کرتے ہوئے اُس سے مخالف نتیجہ کی اُمید رکھتا ہوں۔ اِس سفر کا ایک نقصان، میرا ہر دوسرے شخص سے بے پناہ مخلص ہو جانا ہے۔ اِس مخلصی میں میں نے ہمیشہ دوسروں کی ذات کو اپنی ذات پر ترجیح دی، اپنے قیمتی وقت میں سے دوسروں کیلئے وقت نکالا، ممکنہ حد تک اُنکے معاملات میں اُنکا ساتھ دیا، اُن کیلئے ہمیشہ مثبت سوچ رکھی۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ اِس سب کے باوجود اِسی مخلصی میں متعدد بار ڈسا جاچکا ہوں۔ لہٰذا یہ جاننے کے باوجود کہ ہر کسی کی فطرت، محسوسات (Feelings)، عادات، جذبات اور سوچ کا یہ مشاہدہ شائید میری فطرت بن گئی ہے یا نجانے عادت، اب اِک مرتبہ پھر میں نے اپنے اِس سفر کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے!!

مگر اِس سفر کی حسین یادوں کو میں کبھی بھُلا نہ پاؤں گا۔ مُجھے خوشی ہے کہ میں نے اِس عرصہ کے دوران بہت سے لوگوں کی فطرت کو پڑھنے کی کوشش کی۔ بیشتر اوقات اپنے آپکو دوسروں کی جگہ رکھ کر بھی سوچا جسکے نتیجے میں میں نے ہمیشہ بہت کچھ پایا اور سیکھا۔ میرے نزدیک میرے اِس سفر نے مُجھے نہ صرف بہت اطمینان اور سکون دِلایا بلکہ اِس دُنیا کی بہت سی پوشیدہ حقیقتوں اور اُصولوں سے بھی روشناس کروادیا۔ بلاشبہ یہ اِک حسین سفر تھا

بلاگی دوستوں کے نام

بلاگستان نے میرا ہمیشہ سے لکھنے کا شوق پورا کیا اور مُجھے اپنے اظہارِ خیالات کی کھلی آزادی دیتے ہوئے اِنہیں دُنیا کے سامنے لانے کو موقع دیا۔ بیشتر اُردو بلاگران جس لگن اور جذبے سے انٹرنیٹ کی دُنیا میں اُردو کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں وہ بلاشبہ قابل تحسین ہے۔ ایک خوش آئیند بات جو مجھے بہت پسند ہے وہ یہ کہ بلاگران ایک دوسرے سے کسی نہ کسی صورت میں رابطے میں ہیں۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس اور آن لائن چیٹنگ وغیرہ کے علاوہ، اب بیشتر بلاگران کے آپس میں براہِ راست روابط بھی ہیں اور مزے کی بات کہ یہ روابط دھیرے دھیرے دوستیوں کی اشکال اختیار کرنے لگے ہیں۔ مُلک بلکہ دُنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے اُردو بلاگران اب آپس میں بہترین دوست بنتے جارہے ہیں۔ کوئی اور رابطہ ہو نہ ہو، ہم سب کا بنیادی رشتہ ایک ہی گھرانے (یعنی بلاگستان) سے تعلق رکھنا ہے۔ :)

تمام بلاگران ایک دوسرے کی تحاریر کو پڑھنے کے علاوہ اِن پر خوب اظہارِخیالات کرتے ہیں اور اہم موضوعات کو زیرِبحث بھی لاتے ہیں۔ اِسی تسلسل میں ایک بات جو مُجھے ہمیشہ سے بُری لگتی رہی وہ ایک دوسرے کی تحاریر (بلاگی پوسٹوں) کے جواب میں لمبی چوڑی تحاریر لکھنا ہے اور اکثر یہ سلسلہ زیادہ طول اختیار کر جاتا ہے۔ بلاگران ایک دوسرے کی تحاریر کے جواب میں ایسی تحاریر لکھتے ہیں جو کسی تیسرے شخص کی سمجھ سے بالا تر ہوتی ہیں۔ پھپھے کٹنی، آنٹی اور بارہ سنگھا اِسی طرح کے سلسلوں کے مشہور کردار رہ چکے ہیں۔ جن پر بیشتر بلاگران نے بے شمار پوسٹیں لکھیں۔ اِسکے برعکس ایک ایسا سلسلہ جسے تمام بلاگران نہایت پسند کرتے ہیں اور بلاشبہ جسکی وجہ سے اِس گھرانے کے تمام افراد کا آپس میں رابطہ قائم رہا (جو کہ ایک خوش آئیند بات ہے) وہ چند خاص سوالات کے جوابات دے کر کسی دوسرے بلاگر کو ٹیگ کرنا ہے۔ ٹیگ زدہ بلاگر کو لازماً انہی سوالات کے جوابات دے کر کسی اور بلاگر کو ٹیگ کر کے اِس سلسلے کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن ایک بات جو مجھے اِن تمام تحریری سلسلوں میں مایوس کرتی ہے وہ یہ کہ کسی بھی نئے قاری کو ہماری ایسی تحاریر کی نہ تو سمجھ آتی ہے اور نہ ہی اُسکی اِن میں کوئی خاص دلچسپی ہوتی ہے۔ یوں پڑھنے والا اپنے دماغ میں انٹرنیٹ پر موجود اُردو تحاریر کا ایک منفی تاثر لے کر جاتا ہے اور دوبارہ کسی بھی اُردو بلاگ کو پڑھنے سے اجتناب برتتا ہے۔ لہٰذا میرے خیال سے ہر بلاگر کو کسی ایک بلاگر یا اُسکی کسی تحریر کے جواب میں لکھنے کی بجائے پوری دُنیا کو سامنے رکھتے ہوئے لکھنا چاہئیے۔ اگر کسی ایک بلاگر یا کسی بلاگر کی تحریر کے جواب میں لکھنا بھی ہو تو اِس انداز میں لکھا جائے کہ ہر قاری تحریر کو پڑھ کر نہ صرف بآسانی سمجھ سکے بلکہ تحریر سے پوری طرح لطف بھی اُٹھاسکے۔

بلاشبہ ایک بلاگرکیلئے تمام اُردو بلاگران کو مخاطب کرنے کا بہترین ذریعہ بلاگی پوسٹ (یعنی بلاگ پر تحریر) ہے لیکن جس نقطہ کی وضاحت میں کرنا چاہ رہا ہوں وہ یہ کہ بیشتر بلاگران کی ہر دوسری پوسٹ ہی کسی خاص بلاگر یا کسی بلاگ پوسٹ کے جواب میں ہوتی ہے۔ ہمیں ضرور ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا چاہئیے لیکن اِسکا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ہماری ہر تحریر ہی ایک دوسرے کیلئے ہو (چاہے اِسکی وجہ اپنے بلاگ کی تشہیر ہی کیوں نہ ہو) اور ہم اپنے لکھنے کا حقیقی مقصد کھو بیٹھیں۔

اِک انسان ہونے کے ناطے میری سوچ غلط یا مُجھے کوئی غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو آپ سے مثبت تبصروں کی اُمید رکھتا ہوں جو میری سوچ یا غلط فہمی کی تصیح کیلئے فائدہ مند ثابت ہوں گے وگرنہ میری تمام اُردو بلاگران سے گزارش ہے کہ ایسی پوسٹیں لکھنے میں کمی لائی جائے جن کا دائرہ کار فقط ایک بلاگر یا چند بلاگران تک محدود ہو۔ اِسکے برعکس ایسی تحاریر ذیادہ سے ذیادہ لکھنے کی کوشش کی جائے جو پوری قوم بلکہ پوری انسانیت کیلئے فائدہ مند ہوں۔

نوجوانوں کیلئے

’’بیٹا آپ۔۔۔۔ کیسے ہو؟ ‘‘ اُنہوں نے گیٹ کھولا اور مُجھے دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’جی۔۔۔۔ الحمدُللہ۔۔۔آنٹی۔۔۔ میں جُنید سے ملنے آیا تھا؟‘‘
’’بیٹا، وہ تو جم گیا ہوا ہے بس آتا ہی ہوگا۔ آپ باہر کیوں کھڑے ہو، آؤ اندر۔۔۔۔ بیٹھو۔‘‘
میں نے اپنا عُذر بیان کرتے ہوئے اجازت طلب کی لیکن جُنید کی والدہ کے بے حد اسرار کے سامنے مُجھے ہار ماننا پڑی۔
جگری یاری کے باعث ہمارا اکثر ایک دوسرے کے گھر آنا جانا رہتا ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کی والدہ مُجھ اور میرے خاندان سے بخوبی شناسا ہیں۔ حال احوال پوچھنے کے بعد کہنے لگی: ’’بیٹا اچھا ہوا آپ آگئے۔۔۔ میں کچھ دِنوں سے جُنید کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔‘‘
’’کیوں آنٹی خیریت؟ کیا ہوا جُنید کو؟‘‘

’’بیٹا۔۔۔ جُنید دِن بدن بدلتا جا رہا ہے۔ ہم سب اُسکے رویے میں نمایاں تبدیلی محسوس کر رہے ہیں۔۔۔ وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ نماز نہ روزہ، پوری پوری رات اپنے کمپیوٹر کے ساتھ چمٹا رہتا ہے، باقی ہر جانب سے اُسنے توجہ ہٹا لی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود ہمارے درمیان فاصلے بہت بڑھ چُکے ہیں۔ بیٹا تم ہی اُسے سمجھاؤ میں بہت پریشان ہوں۔‘‘ اُن کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات تو یہ تھی کہ آنٹی جُنید سے ڈرنے لگی ہیں اور مُجھ سے نہایت پریشانی کے عالم میں کہنے لگی:’’ بیٹا۔۔۔۔ اُسے مت بتانا کہ میں نے آپ سے اُسکے متعلق کوئی بات کی۔ آپ نہیں جانتے کہ اِس بات کا علم جنید کو ہوا تو اُسکا ردِعمل کیا ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر آنٹی اپنے آنچل سے آنکھوں کو ملتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دفتر میں معمول کے مطابق ہلچل تھی۔ رسیپشن پر بیٹھی لڑکی کان سے رسیور لگائے محوِ گفتگو، عملہ کے نوجوانوں کی حسبِ معمول بھاگ دوڑ، فوٹو سٹیٹ مشین آپریٹر فوٹو کاپیاں کرنے میں مصروف، خاکروب پوچا لگانے میں مگن۔۔۔۔
خاتون سہمے سہمے انداز میں دفتر کی اِس ہلچل کو دیکھ رہی تھی۔ یوں تو خواتین کی آمدورفت وہاں رہا ہی کرتی تھی لیکن اسکے تیز تیز اُٹھتے قدموں، ماتھے پر تیوری، سہمی ہوئی شکل اور چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نے مُجھے خاتون پر توجہ مرکوز رکھنے پر مجبور کردیا۔ وہ شرافت کی چادر میں لپٹی، اِک گھریلو خاتون معلوم ہورہی تھی۔ شائید اُسکو کسی کی تلاش تھی یا کسی خاص مدد کی ضرورت۔۔۔۔
کافی کا کپ میرے ہاتھ میں تھا۔ میں نے ایک چُسکی لی، کپ کو میز پر رکھا اور اُٹھ کر محترمہ کے پاس چلا آیا۔ سلام کے بعد مخاطب ہوا: ’’جی فرمائیے میڈم!‘‘ اور سوالیہ نظروں سے محترمہ کی جانب دیکھنے لگا۔
’’ یہ۔۔۔۔۔ انٹرنیٹ کنکشن آپ ہی دیتے ہیں؟‘‘ خاتون نے نہایت مؤدبانہ انداز میں پوچھا۔
میں بات کر رہا ہوں سن 1999 کی اور یہ اِسلام آباد کی پی ٹی سی ایل کے بعد سب سے بڑی انٹرنیٹ سروسز پرووائیڈنگ کمپنی تھی۔ میرا خیال تھا کہ خاتون انٹرنیٹ کنیکشن لینا چاہتی ہیں۔ رسیپشن یا متعلقہ شخص کے پاس بھیجنے کی بجائے، میں نے خود ہی انکو کنکشن دِلوانے کا سوچا لہٰذا محترمہ کو اپنے ساتھ اندرونی دفتر میں لے آیا جہاں میرے علاوہ کمپنی کے چار مزید افراد کی بھی نشستیں تھیں ۔ میں نے خاتون کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تاکہ بآسانی بات ہو سکے۔ محترمہ بیٹھتے ہی کہنے لگی: ’’میرے بیٹے کا نام احمر اقبال ہے۔ اُسنے آپسے کنکشن لیا ہے اور ہر ماہ یہاں ہی بل جمع کروانے آتا ہے۔ وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے جِس سے مُجھے بے حد اُمیدیں ہیں لیکن اِس انٹرنیٹ کی وجہ سے پوری پوری رات جاگنا اُسکا معمول بن چکا ہے۔ کل رات میں اُسکے کمرے میں داخل ہوئی تو میری نظر اُسکے کمپیوٹر پر پڑ گئی۔‘‘ یہ کہہ کر محترمہ کے آنسو یوں چھلکنے لگے جیسے وہ اپنے آنسوؤں کو بہت دیر سے روکے ہوئے تھیں۔ میں قریب ہی بیٹھے کمپنی کے سیلز مینیجر کی جانب حیران کُن نظروں سے دیکھنے لگا، میرے دیکھتے ہی اُنہوں نے نظریں جھکا لیں. اب میری زبان بھی مکمل طور پر ساکت ہوچکی تھی۔
’’اُسکی کمپیوٹر پر مشغولیات کو دیکھ کر میں دھنگ رہ گئی۔ میری تربیت اتنی تو بُری نہیں تھی۔‘‘ خاتون نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں اپنے بیٹے کا نیٹ بند کروانے آئی ہوں۔ آپ پلیز ابھی ہی اُسکا انٹرنیٹ کنکشن بند کر دیں۔ جتنا جلد ہو سکے میرے بیٹے کی جان اِس خباثت سے چھُڑا دیجئیے۔۔۔۔ ‘‘ اِس مرتبہ محترمہ آنسو بہانے کے برعکس ہمارے سامنے ہاتھ بھی جوڑنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسی سینکڑوں مائیں اپنے جگر گوشوں کیلئے بے چین اور فکرمند ہیں۔ میں نے بے شمار ایسے نوجوانوں کو دیکھا جنکی رات طلوعِ آفتاب کے بعد اور صبح سہ پہر دو یا تین بجے ہوتی ہے۔ اور تو اور فیس بُک اور چیٹنگ جیسی خباثت کی زد میں پوری پوری رات جاگنا لڑکوں کے ساتھ ساتھ اب نوجوان لڑکیوں کا بھی معمول بن چکا ہے۔ اُمتِ مسلمہ کی بیٹیاں جنکی پاک دامنی، شرافت، عزت اور حیا دُنیا کے سامنے ہمیشہ سے مثال رہی ہے، اب وہی محرموں سے چیٹنگ اور لغویات میں پوری پوری رات صرف کر دینے میں کوئی ممانعت نہیں سمجھتیں۔ پڑھائی یا کسی ضروری کام کے باعث راتوں کو جاگ کر محنت کرنے میں کوئی مماثلت نہیں لیکن اِسکو معمول بناتے ہوئے فحاش مشغولیات کو اپنانا نہ صرف قُدرت کے قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے بلکہ اپنی زندگی کی بربادی کے ساتھ ساتھ والدین کے راحت کی بھی بربادی ہے۔ نوجوانوں سے گزارش ہے کہ خُدارا اپنا نہیں تو اپنے والدین کا ہی خیال کیجئیے۔ میں نہیں چاہتا آپکی ماؤں کو جُنید یا احمر کی ماؤں کی طرح آپکی وجہ سے آنسو بہانے پڑیں یا کسی کے سامنے ہاتھ جوڑنے پڑیں۔

پرسیپشن (Perception)

عالیہ دِن دیہاڑے گھر سے لاپتہ ہوگئی۔۔۔ دِن بھر کی کوششوں، انتظار اور دُعاؤں کے بعد بھی نہیں ملی تو اماں زلیخا کہتی سُنائی دیتی ہیں: ’’عالیہ کی ماں نے اُسکا رشتہ طے کر دیا تھا جبکہ عالیہ کا ایک لڑکے سے کوئی چکر وکر چل رہا تھا، میں تو کہتی ہوں وہ اُسی بدمعاش کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔‘‘

 سیٹھ عنایت اللہ اپنی اہلیہ سے کہتے ہیں: ’’ یہ ضرور اغواہ برائے تائیوان ہے۔ تم دیکھ لینا جلد ہی کوئی فون کر کے تائیوان مانگے گا‘‘

عالیہ کی ایک سہیلی کا کہنا ہے: ’’ مُجھے یقین ہے کہ عالیہ کو اُس بلے لفنگے نے اغواہ کروایا ہے‘‘

بشیر کا کہنا تھا: ’’ عالیہ کا خاندان اِس شہر میں نیا ہے، یقیناً عالیہ کہیں راستہ کھو گئی ہوگی۔ انشاءاللہ مل جائے گی‘‘

ہمدانی صاحب کہتے ہیں: ’’مُجھے خدشہ ہے کہ کسی نے اغواہ کر کے قتل نہ کر دیا ہو‘‘
-----------------------------------------

آئیے اب آپکو بتاؤں کے اماں زلیخا، سیٹھ عنایت اللہ، عالیہ کی سہیلی، بشیر اور ہمدانی صاحب نے ایسا کیوں سوچا!!

دراصل اماں زلیخا عالیہ کو روزانہ شام دفتر سے واپسی پر ایک لڑکے کی گاڑی میں آتا ہوتا دیکھتی تھیں۔ لہٰذا اماں کو یقین تھا کہ ہو نہ ہو بات یہی ہے۔
سیٹھ عنایت اللہ کا بیٹا بھی چند سال قبل اغواہ ہوا تھا اور اغواہ کاروں نے دوسرے دِن فون کر کے تائیوان مانگا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سیٹھ صاحب کو یقین تھا کہ یہ ضرور اغواہ برائے تائیوان کی وارداد ہے۔
عالیہ اور اُسکی سہیلی روزانہ یونیورسٹی اکٹھی جایا کرتی تھیں، ایک دِن راستے میں بلے لفنگے نے عالیہ کو چھیڑا جس پر عالیہ نے اُس کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ عالیہ کی سہیلی کو اِسی وجہ سے پختہ یقین تھا کہ یہ بلے لفنگے نے ہی بدلہ لیا ہے۔
بشیر جب اِس شہر میں نیا آیا تھا تب اُسکی چھوٹی بہن ایک روز راستہ بھول گئی تھی۔ موبائل کی چارجنگ نہ ہونے کی وجہ سے بشیر کی بہن کسی سے رابطہ نہ کر پائی اور کسی نے اُسکی غلط رہنمائی کر دی جس سے وہ مزید گھر سے دور ہوگئی۔ یوں بشیر کی بہن کو گھر پہنچتے ہوئے نہایت دیر ہوگئی۔ لہٰذا وہ پراُمید تھا کہ انشاءاللہ عالیہ بھی جلد گھر پہنچ جائے گی۔
ہمدانی صاحب کے خالہ زاد بھائی کی کسی کے ساتھ دُشمنی تھی اور دُشمنوں نے اُسکے بیٹے کو اغواہ کر کے قتل کر کے نعش ایک نالے میں پھینک دی۔ یوں اُنہوں نے اپنا انتقام لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمدانی صاحب کا خیال تھا کہ عالیہ کے والد کے کاروباری دُشمنوں نے اُنکی بیٹی کو اغواہ کر کے قتل کرکے ضرور اپنا کوئی بدلہ لیا ہوگا۔

دراصل اماں زلیخا، سیٹھ عنایت اللہ، عالیہ کی سہیلی، بشیر اور ہمدانی صاحب نے اپنے گردونواح کے حالات کے مطابق وہی کچھ سوچا جو اُنکی زندگیوں میں ہورہا ہے یا ہوا جبکہ کسی نے بھی عالیہ، اُسکی زندگی، اُسکے کے گھر، اور حالات کے مطابق سوچنے کی بالکل کوشش نہ کی۔ مختلف افراد نے یہ جو مختلف اندازے لگائے اِنکو انگریزی میں ’’پرسیپشن (Perception)‘‘ کہا جاتا ہے۔

اِن پرسیپشنز (Perceptions) کی وجہ سے بہت سی غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جو ہماری زندگیوں اور مختلف رشتوں میں بیشتر تلخیوں، ناچاقوں اور دوریوں کا سبب بنتی ہیں۔ ہر فرد دوسرے شخص کیلئے اپنی سوچ اور اپنے گردونواح کے ماحول کے مطابق سوچتا ہے۔ وہ یہ کبھی سوچنے کی کوشش نہیں کرتا کہ دوسرا شخص کِس چوراہے پر کھڑا ہے، وہ جو بات یا فعل کر رہا ہے، کس نظریہ کے پیشِ نظر کر رہا ہے، اُسکی سوچ اور نظریات کیا ہیں، وہ کس ماحول میں رہ رہا ہے، وہ کیا چاہتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہم اِس انداز سے سوچنے لگیں تو شائید بہت سی تلخیاں، ناچاقیاں اور دوریاں ختم ہو جائیں۔ یاد رکھئیے آپکی ایک غلط فہمی اور ایک غلط سوچ کسی دوسرے کی زندگی برباد بھی کر سکتی ہے۔ 

آپکو دعوتِ فکر دیتا ہوں کہ آپ سے جو رشتے دور ہیں یا جن رشتوں میں ناچاقیاں ہیں، سوچئیے کہاں کوئی غلط فہمی ہے اور کہاں آپنے کسے دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ آئیے۔ ۔ ۔ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے روٹھے رشتوں اور پیاروں کی جانب پیار، محبت، اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیے۔ بھیا کی نیک تمنّائیں آپ سب کے ساتھ ہیں۔

انسان بن جاؤ!


اِنسانوں کے اِس بازار میں، خالص اِنسان نہایت قلیل ہیں۔ مانتا ہوں یہ انسان نما ضرور مگر انسان نہیں درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔ یہ اُستاد، طالبِعلم، وکیل، ڈاکٹر، انجینئر، ملازمین، مزدور، مذہبی و سیاسی رہنما غرض تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والا ہر اِک فرد اصل میں بیوپاری ہے جس میں میں اور تم بھی شامل ہیں۔ ہاں۔۔۔ تم مانو یا نہ مانو۔۔۔ میں اور تُم بھی بزنس مین ہیں۔ ہماری زندگیوں کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے یہی وجہ ہے کہ میں جب سے انٹرنیٹ پر بلاگنگ کر رہا ہوں، بے شمار افراد نے مجھ سے ایک ہی سوال کیا کہ کیا اِس بلاگنگ سے کوئی آمدنی بھی ہوتی ہے؟ میرا جواب ہمیشہ نفی میں رہا۔ جس پر دوسرا سوال جو میرے منہ پر مارا جاتا وہ یہ کہ پھر آپ کیوں یہاں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں؟ آپکو اِس سے کیا ملتا ہے؟ ہاں۔۔۔ ہماری زندگیوں کا مقصد تو صرف پیسہ کمانا ہے۔ ہم کیا جانیں یہ دِلی سکون، دِلی خوشی، محبت، ہمدردی، جذبہ، ایمان اور شوق کیا ہوتا ہے۔

ایک بچے کی ہی مثال لے لیجئیے جو ابھی مکمل بولنے کے قابل بھی نہیں ہوپاتا لیکن اُسکے دِماغ میں یہ بات ٹھونس دی جاتی ہے کہ تم نے ڈاکٹر بننا ہے، یہی تمہارا مقصدِ حیات ہے، اِسی میں تمہاری فلاح ہے۔ تم نے پڑھائی اور محنت کی صورت میں خوب سرمایہ کاری کرنی ہے تبھی اچھے ڈاکٹر بنو گے۔ اور جتنا گُڑھ ڈالو اتنا میٹھا کے مصداق جتنی سرمایہ کاری کرو گے اُتنا ہی نفع۔۔۔ گویا بچے کو بچپن سے ہی بیوپار کے اُصول سکھا دئیے جاتے ہیں۔ یہی بچہ بڑا ہوکر ڈاکٹر بنتا ہے، اپنا ہسپتال نما کارخانہ بنا لیتا ہے۔ اب اِس کارخانہ میں صرف وہی علاج پائے گا جو فیس بھرے گا۔ ہاں۔۔۔ کوئی مرتا ہے تو مرے۔۔۔ علاج تبھی ہوگا جب معاوضہ ملے گا۔ یہی بچہ اگر اُستاد بن جاتا ہے تو سکول نما کارخانہ، جہاں کسی غریب کا بچہ قطعاً تعلیم نہیں پاسکتا۔۔۔ فیس بھرو فیس۔۔۔ یہی بچہ عالم ہے تو علم کا تاجر، قاضی ہے تو انصاف کا تاجر، حاکم ہے تو رعایا اور اُنکے کے حقوق کا تاجر، سپاہی ہے تو ریاست کے امن کا تاجر، فوجی افسر ہے تو سرحدوں کا تاجر اور تاجر بھی ایسا کہ جسکے بنیادی ہتھیار رشوت، سفارش، جھوٹ، فراڈ اور بددیانتی ہیں۔ تبھی میں کہہ رہا ہوں کہ ہم انسان نما ضرور مگر انسان نہیں، درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔

انسان تو وہ ہیں جنہیں انسانیت کے تقاضوں کی نہ صرف پہچان ہے بلکہ وہ باخوبی اِن تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں۔ انسان اتنا خود غرض، لالچی، بےغیرت اور بےحس نہیں ہوتا جتنے آج ہم ہوچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان مشرق سے لے کر مغرب تک ہر جانب ظلم کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ میرے کتنے ہی بےگناہ مسلمان بہن بھائی کفار کی قید میں اُنکے مظالم سہ رہے ہیں۔ اور قید بھی گوانتا ناموبے جیسی جہاں وہ وہ ظُلم ڈھائے جاتے ہیں کہ جسکا تصور ہی لرزا دینے کیلئے کافی ہے۔ ہاں وہ میری ہی قوم کے باشندے ہیں جنہیں برہنہ کر کے برف خانوں میں لٹا دیا جاتا ہے، کتوں کے سامنے پھینک دیا جاتا ہے، پانی کی بجائے خون اور نہ جانے کیا کچھ پلایا جاتا ہے، میری ماؤں اور بہنوں کی عزتیں سینکڑوں مرتبہ لوٹی جاتی ہیں، وہ روز روز کے مرنے سے تنگ آکر اِک ہی مرتبہ مرنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں شکوہ ہے ہم سے کہ اُنکے مسلمان بہن بھائی بےخبر سو رہے ہیں۔ مگر اُنہیں کیا بتلاؤں کہ ہم تو انسان ہی نہیں رہے۔ پھر ہمارے پاس اتنا وقت کہاں کہ کسی کیلئے سوچیں۔ وہ مسلمان جو اللہ کی مدد کی اُمید کا ہتھیار لے کر تمہاری مدد کیلئے اپنے گھروں کو چھوڑ ڈالتے ہیں، ہم تو اُنہیں دہشت گرد اور بیوقوف تصور کرتے ہیں کہ اُنہیں اِس سے کچھ حاصل نہیں۔ ہمارا مذہب، ہمارا ایمان، ہمارا خدا اور ہمارا سب کچھ تو صرف پیسہ ہے پیسہ۔۔۔ ہم تو راتوں کو سونے کی بجائے یہ سوچتے ہوئے گزار دیتے ہیں کہ کیسے اپنا محل بنا لیا جائے، کیسے لمبی گاڑی آجائے، کیسے بڑا عہدہ مل جائے، کیسے فرعون جیسی شان مل جائے، ہم تو زمین کے ایک ٹکڑے کی خاطر اپنی ماں کو گالیاں دے جاتے ہیں، باپ کو جیتا جی مار دیتے ہیں۔۔۔ ہاں۔۔۔ کیا کیا بتلاؤں تمہیں۔۔۔ کہنے کو تو بہت کچھ ہے۔۔۔ مگر تم صرف یہ مان لو کہ ہم انسان نما ضرور مگر انسان نہیں، درحقیقت فقط بیوپاری ہیں۔

آؤ ۔۔۔ چند لمحوں کیلئے ۔۔۔ ذرا دماغ پر زور دو ۔۔۔ اِس بازار کے شوروغل سے ذرا پرے ہٹ کے، اپنے دماغ سے اپنی کاروباری زندگی کے نفع و نقصان، لالچ و خود غرضی کے پردوں کو ہٹاؤ، ذرا ضمیر کی اَکھیوں کو کھولو اور سوچو کہ تم اِس دُنیا میں کیوں آئے؟ کیا تمہارے یہاں آنے کا کوئی مقصد تھا؟ کب تک رہنا ہے یہاں؟ آخر تمہاری اِس زندگی کا انجام کیا ہے؟ یہاں سے جاتے ہوئے ساتھ کیا لے کر جاؤ گے؟ کبھی سوچا کیا یہ تم نے؟ اگر نہیں سوچا تو بخدا آج سوچ لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ مان لو۔۔۔ تمہاری زندگیوں کا وہ مقصد نہیں ہے جو تم بنا بیٹھے ہو۔ ابھی بھی وقت ہے۔ اِس بیوپار کو چھوڑو اور انسان بن جاؤ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ انسان بن جاؤ!

تعارف

فارغ اوقات میں عموماً انسان کی آنکھوں اور ہاتھوں کا انجن سٹارٹ ہو جاتا ہے۔ آنکھیں 6x6 کا گئیر لگاتی ہیں تو دیواروں پر لٹکے مکڑی کے جالے نظر آنے لگتے ہیں۔ پنکھوں پر جمی گرد کالی گھٹا کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔ ہر طرف بکھرا گند آپکی توجہ مانگ رہا ہوتا ہے۔ مالک کو نوکر کی کام چوریاں دِکھائی دینے لگتی ہیں، نوکر کو مالک کی وہ عادات دِکھائی دینے لگتی ہیں جنکو مالک کی غیر موجودگی میں یاد کر کے نہایت لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ اسکے برعکس جب ہاتھ ایکشن میں آتے ہیں تو آنکھوں کی دکھائی ہوئی راہوں پر چلنے لگتے ہیں۔ یا پھر بلا وجہ اردگرد کی چیزوں کو ٹٹولنے لگتے ہیں۔۔۔

اُن دنوں میری کوئی خاص مصروفیات نہ تھیں۔ میں فارغ بیٹھا وقت کو دھکے دئیے گزار رہا تھا۔ اچانک میری نظر نے قریب ہی پڑے ایک چھوٹے سے ناول پر بریک لگائی۔ ہاتھوں نے فوراً حرکت کرتے ہوئے ناول کو گود میں اُٹھا لیا اور تو اور زبان بھی چُپ نہ بیٹھ سکی اور عنوان وغیرہ پڑھنے کے بعد پورا ناول پڑھنے لگی۔ وہ مُلک کے ایک نامور ناول نگار کا جاسوسی ناول تھا۔ چند صفحات پڑھنے کے بعد چھوڑنے کا جی ہی نہیں چاہا غرٖض جب تک میں نے وہ ناول پورا نہیں پڑھ لیا نہیں اُٹھا۔ مجھے وہ ناول نہایت پسند آیا یہی وجہ ہے کہ میں اُسکے بعد اُن ناول نگار کے لکھے ہوئے تمام جاسوسی ناولوں کر پڑھنے لگا۔ ناولوں کے علاوہ بھی اُنکی لکھی ہوئی بے شمار کُتب اور تحاریر کا مطالعہ کیا۔ جہاں اُنکے بارے میں کچھ نظر آتا، فوراً پڑھنے لگ جاتا۔ مختلف رسالوں وغیرہ میں بھی اُنکا تعارف پڑھنے کو ملا۔ ایمیل ایڈریس تو کہیں سے ملا نہیں لہٰزا خط لکھ کر ہی ’’نصف ملاقات‘‘ کر ڈالی۔ کچھ ہی دن بعد اُنکے جوابی خط نے میری حوصلہ افزائی کر دی جسکے بعد میں نے ایک اور خط لکھ ڈالا جس میں اپنے مکمل پتہ کے ساتھ میں نے اپنا موبائل نمبر بھی ارسال کردیا۔ کچھ دن بعد میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب ناول نگار نے مجھے کال کر کے میرے خط پر پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اور میرے خط کا جواب دیا۔
انکی بے شمار تحاریر پڑھنے کے بعد میں انکے بارے میں بہت کچھ جان چکا تھا اور مزید جاننے کیلئے سرچ بھی کی لیکن کوئی خاص معلومات نہ مل سکیں۔ لہٰزا میں نے یہ ٹھان لی کہ اب میں ان مصنف اور انکی زندگی کے بارے میں بذاتِ خود ضرور کچھ لکھوں گا۔ لیکن اسکے لئے مجھے چند مزید معلومات کو اکٹھا کرنا ہوگا۔

میری اس تحریر لکھنے کا مقصد یہ بات واضح کرنا تھی کہ کسی بھی لکھاری کا تعارف اُسکی تحاریر ہوتی ہیں۔ اُس کی زیادہ سے زیادہ تحاریر پڑھ کر اُسکے بارے میں بہت کچھ جانا سکتا ہے مثلاً اُسکے عقائد، نظریات، جزبات، سوچ، روزانہ کے معمولات، وغیرہ وغیرہ۔ غرض ایک شخص، ایک لکھاری کی تحاریر پڑھ کر اُسکے بارے میں وہ سب کچھ جان سکتا ہے جو اُس کیلئے کسی دوست کے بارے میں جاننا ضروری ہوتا ہے۔  بلکل اسی طرح آپکو میرے بلاگ کا ہر صفحہ میری سوچ، عقائد، نظریات، جزبات، محسوسات اور معمولات کی عکاسی کرتا دکھائی دے گا، قصہ مختصر، اس بلاگ کا ہر ہر صفحہ میرا تعارف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(آجکے بعد تعارف کے صفحے پر اس تحریر کو میرے تعارف کے طور پر شائع کیا جائے گا)

درندہ صفت

یحیٰ کا آپریشن الحمدللہ کامیابی سے ہوگیا ہے اور اب تو وہ گھر بھی آگیا لیکن تاحال بیڈ پر ہی ہے۔ پہلے اُسکی ٹانگ کے نیچے تین تکئیے رکھے جاتے تھے جبکہ اب ڈاکٹروں نے اُنہیں تین سے کم کر کے ایک کرنے کا کہا ہے۔ اِس سے آپ اُسکی موجودہ حالت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

خیر بڑھتا ہوں اُس بات کی جانب جس نے آج مجھے لکھنے پر مجبور کیا۔ دراصل آپریشن کے بعد یحیٰ کو جس وارڈ میں منتقل کیا گیا، وہیں کچھ فاصلے پر ایک اِکیس سالہ لڑکی اپنے بیڈ پر لیٹی تکلیف سے بلبلا رہی تھی۔ نوجوان لڑکی کی تکلیف ناقابلِ دید تھی اور اُسکی ماں آنسو بہاتے ہوئے اُسے بار بار دلاسا دے رہی تھی۔ باپ نہایت بے چینی کے عالم میں ڈاکٹروں کے پاس چکر لگارہا تھا۔ غرض مجھ جیسے نازک دِل انسان کیلئے یہ پورا منظر دیکھنا ہی نہایت اذیت کا سبب بنا۔
یہ نوجوان لڑکی ایک پرائیویٹ فرم میں ملازمت کرتی ہے۔ ایک دن دفتر جانے کیلئے بس سٹاپ پر کھڑی تھی کہ کچھ لفنگے ایک گاڑی میں آئے اور جاتے جاتے لڑکی کو ٹکر مار گئے۔ نجانے اُنہوں نے شرارت سے مارا یا ظالموں کو کوئی دُشمنی تھی یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن نوجوان لڑکی اور اُسکے والدین کی سینکڑوں بد دُعائیں ہمیشہ کیلئے ساتھ لیتے گئے جو شاید اُنہیں پوری زندگی چین سے نہ بیٹھنے دیں۔ مریضہ کے والدین کہتے ہیں کہ ہم بچی کو شہر کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹر سے ملے تو وہ کہنے لگا کہ یہ سرکاری ہسپتال ہے۔ یہاں علاج کروایا تو ایک لمبا عرصہ لگ جائے گا۔ چند پیسوں کی بچت کی خاطر آپ کہاں اتنا انتظار کرتے رہیں گے؟ لہٰزا بہتر یہی ہے کہ شام کو میرے پرائیویٹ ہسپتال آجائیے، وہاں جلد آپریشن ہو جائے گا۔ یہ کہہ کر ڈاکٹر نے اپنا ویزیٹینگ کارڈ ہمارے ہاتھ میں تھمایا اور باقی مریضوں کی جانب بڑھ گیا۔
والدین کا کہنا ہے کہ بچی کا رشتہ بھی طہ پایا ہوا ہے۔ ہمیں اس بات کا ڈر تھا کہ اگر کسی سرکاری ہسپتال سے علاج کروایا اور خداناخواستہ کچھ دیر ہوگئی تو کہیں لڑکے والے رشتہ ہی نہ توڑ دیں۔ بس یہی سوچ کر ہم ڈاکٹر کے پرائیویٹ ہسپتال پہنچ گئے۔ ڈاکٹر نے آپریشن کیلئے ایک بڑی رقم کا مطالبہ کیا جسکا بندوبست کرنا ہمارے لئے نہایت مشکل امر تھا۔ خیر جس طریقے سے ہم نے ڈاکٹر کی فیس ادا کی یہ ہم ہی جانتے ہیں یا پھر ہمارا رب۔ ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کے بعد بھی بچی کی تکلیف میں کوئی کمی نہ ہوئی۔ پہلے تو ہم سمجھے کہ شاید رفتہ رفتہ صحت بہتر ہو جائے گی لیکن تکلیف میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا گیا لہٰذا ہم بچی کو  شہر کے ایک اور بڑے ہسپتال لے گئے جہاں کچھ ابتدائی علاج کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچی کی ٹانگ میں نقلی راڈ ڈالا گیا ہے لہذا دوبارہ آپریشن کر کے اُسکو نکال کر نیا راڈ ڈالا جائے گا۔
والدین کیلئے ایک تو بچی کا غم، دوسرا بچی کے رشتے کی فکر کہ کہیں وہ یہ نہ کہیں کہ فقط پیسے کی بچت کی خاطر دیر کر رہے ہیں۔ بس یہی سوچ کر پیسے کی فکر کئے بِنا جتنا جلد ممکن ہوسکے علاج کروانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن ایک متوسط خاندان کیلئے اتنی بڑی رقوم کا بندوبست کرنا کتنا آسان ہے؟ یہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں۔

جب سے اس واقعہ کا علم ہوا، بار بار میرے ذہن میں وہ لمحات کسی ویڈیو کی طرح گردش کرنے لگ جاتے ہیں کہ لڑکی اپنے بیڈ پر لیٹی تکلیف سے بلبلا رہی ہے، ماں آنسو بہاتے ہوئے بچی کو تسلی دے رہی ہے اور باپ سخت پریشانی کے عالم میں ڈاکٹروں کے پیچھے بھاگ دوڑ رہا ہیں۔ پھر سوچتا ہوں اِس اسلامی جمہوریہ کے اِن درندہ صفت باشندوں کے بارے میں جو فقط اپنے پیٹ کے خداؤں کی بھوک کو مِٹانے کیلئے دوسروں کا گوشت بھی کھا جاتے ہیں اور اِنہیں خداؤں کی پیاس بُجھانے کیلئے ہر لمحہ دوسروں کا خون پینے کیلئے بھی تیار رہتے ہیں، پھر بھی نہایت پُر اُمید انداز میں اس مُلک پر چھائی گھٹا کے جلد ہی چھَٹ جانے کی پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔

بچے کی ذہانت


میزبان چند لمحوں کیلئے مجھے اِس کمرے میں تنہا  چھوڑ گیا۔ میں اُٹھا اور حسبِ عادت کمرے میں ٹہلنے لگا۔ میری نظر کتابوں کے ایک شیلف پر پڑی جس پر مختلف چھوٹی موٹی کتابیں پڑی ہوئی تھیں۔ میں شیلف کے قریب گیا اور کتابوں کو ٹٹولنے لگا۔ اچانک میرے ہاتھ اِک چھوٹی سی ڈائری لگی جو تمام کتابوں کے عقّب میں پڑی ہوئی تھی۔ یہ ڈائری ایک چودہ، پندرہ سالہ طالب علم کی تھی۔ میں بےدھیانی میں ہی اسکے صفحات پلٹنے لگا۔ صفحات پلٹنے سے اِک نہایت عمدہ خوشبو میری سانسوں میں داخل ہوئی۔ طالب علم نے لکھنے کیلئے بہت سے رنگوں کو استعمال کر کے ہر صفحے کو دُلہن کی مانند سجایا ہوا تھا۔ گویا یہ سب طالب علم کی اس ڈائری سے محبت کو واضح کر رہا تھا۔ میں نے ایک صفحے کو پڑھنا شروع کیا تو پڑھتا ہی گیا۔ ہر صفحے کو پڑھ لینے کے بعد میرے ہونٹوں پر اِک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل جاتی۔ ڈائری میں مختلف موضوعات پر مواد موجود تھا جس میں سے زیادہ تر اقوال زریں تھے اور کہیں کہیں طالب علم نے اپنے بارے میں بھی کچھ لکھا ہوا تھا۔ میں جوں جوں ڈائری کے صفحات پڑھتا گیا، مجھے بچے پر نہایت پیار آنے لگا۔ ڈائری میں موجود کچھ باتیں جوں کی توں آپکی خدمت میں پیش کر رہا ہوں:
’’جس طرح ماہی کو آب میں۔۔۔۔۔ سمندر کو آگ میں۔۔۔۔۔ بوم کو جنگل میں۔۔۔۔۔ کوئل کو منگل میں۔۔۔۔۔ بھوکے کو کھانے میں۔۔۔۔ بچے کو کھیل میں۔۔۔۔۔ مسافر کو ریل میں۔۔۔۔۔ شیر کو کچھار  میں۔۔۔۔  گھوڑے کو تنگ میں۔۔۔ ۔مجاہد کو جنگ میں۔۔۔۔  حریص کو  مال میں۔۔۔۔ فقیر کو حال میں۔۔۔۔ اطمینان حاصل ہوتا ہے۔۔۔۔اسی طرح دِل کو اللہ کے ذکر میں اطمینان ہوتا ہے۔‘‘
’’ وہ قوم  کبھی فلاح نہیں پاسکتی جس نے مخلوق کی رضا خرید کر اللہ کی ناراضگی مول لی ہو۔ ‘‘
’’خوشی کے پھولوں سے اتنا پیار مت کرو کہ اُنکے پنکھڑ سے غم کا عرق نکلنے ٹپکنے لگے۔‘‘
’’یہ ضروری نہیں کہ خوبصورت بھی ہو اور نیک سیرت بھی، کام کی چیز اندر ہوتی ہے باہر نہیں۔‘‘

پڑھتے پڑھتے میں ایک ایسے  صفحے پر پہنچا جو خراب پرنٹنگ کے باعث دُرست  پرنٹ نہیں ہوپایا تھا اور یہ صفحہ بلکل سادہ دکھائی دے رہا تھا۔ صفحے کے اوپر چھوٹی سی اِک سطر لکھی تھی جو کہ یہ ہے:
’’زندگی اِک سادہ صفحے کی مانند ہے جس میں رنگ تم خود بھرتے ہو‘‘
صفحے کے نیچے ایک نوٹ لکھا ہوا تھا کہ دو صفحے مزید آگے دیکھیں۔ میں نے دو صفحات پلٹے تو اِک ویسا ہی سادہ صفحہ نظر آیا جس   پر بہت سے رنگوں سے یہ  لکھا ہوا تھا :
’’میرے دوستو! دیکھیں پہلا صفحہ بلکل سادہ تھا اور نہایت بُرا لگ رہا تھا لیکن اب اِس صفحے پر میں نے رنگ بھر کر اِسکو سجا دیا تو یہ کتنا خوبصورت لگ رہا ہے۔ جس طرح یہ صفحہ خالی ہے اِسی طرح ہمارے دِل بھی ایمان سے خالی ہیں۔ اپنے سادہ اور خالی دلوں کو ایمان سے بھر لو تاکہ یہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچائیں۔ شکریہ‘‘

یہ پڑھ کر میں بچے کی سوچ اور ذہنیت پر حیران ہو کر رہ  گیا۔ کیا آج بھی ایسے بچے ہوتے ہیں؟ اسکے علاوہ بھی میں نے اس بچے میں چند باتیں نہایت منفرد دیکھیں ہیں جو موقع ملنے پر پھر کبھی آپکے سامنے رکھوں گا۔ میرا دل کہتا ہے اور مجھے پوری اُمید ہےکہ یہ بچہ بڑا ہو کر ایک دن ضرور کچھ کر دکھائے گا۔ انشاءاللہ


سیدھی راہ

آج میں آپکے سامنے ایک ایسا مسئلہ بیان کرنے جا رہا ہوں جو شائید  آپ سب کیلئے کوئی بڑی بات نہ ہو لیکن میرے لئے یہ اِک بڑا مسئلہ ہے۔ اِس مسئلے کا  سامنا مجھے ہر آئے دن کرنا پڑتا ہے۔ دراصل  بات کچھ یوں ہے کہ ابھی حال ہی میں مجھے ایک سُنت عمل کا علم ہوا  ہے جس سے شائید آپ میں سے بھی  کچھ حضرات واقف نہ ہوں اور وہ سُنت یہ ہے کہ اگر آپ کسی سواری پر سوار ہیں تو  راہ کی بائیں جانب کو اختیار کریں اور اگر پیدل ہیں تو ہمیشہ راہ کی دائیں جانب چلیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہمارے اِس مُلک کے ٹریفک کا قانون بھی اِسی سُنت کے مطابق ہے۔  یعنی اگر آپ سواری پر سوار ہیں تو بائیں جانب وگرنہ دائیں جانب چلیں۔ چونکہ ہماری ٹریفک پولیس اِس سنت کے پہلے حصے پر تو زبردستی عمل کرواتی ہے لیکن دوسرے حصے کا کبھی ذکر نہیں کیا گیا اِس لئے  عوام  یہی سمجھتی ہے کہ پیدل چلتے ہوئے بھی راہ کی بائیں جانب کو ہی اختیار کرنا چاہئیے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہرائیں ہوں یا بازار یا کوئی گلی محلہ ‘ پیدل چلنے والے ہمیشہ راستے کہ بائیں جانب ہی چلتے  نظر آتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق دائیں جانب چلنے کا ثمر یہ ہے کہ آپ سامنے سے آتی ہوئی گاڑی کو بآسانی دیکھ سکتے ہیں اور ایسے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچ سکتے ہیں۔
آپ سب سوچ رہے ہوں گے کہ اِس پوری بات میں مسئلہ کیا تھا؟ دراصل یہی تو مسئلہ ہے کہ اگر کسی بازار وغیرہ میں چلتے ہوئے اِس سُنت پر عمل کیا جائے تو ہر ہر قدم پر آپکو ایک ایک دھکے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کہیں کسی کا کندھا آپکے کندھے سے ٹکرا رہا ہے تو کہیں کسی کا پاؤں آپکے پاؤں پر آرہا ہے۔ اور اگر مخالف شخص سخت طبیعت کا ثابت ہوا تو شائید آپکو کچھ کھَری کھَری سنا بھی جائے  اور ایسے میں ہو سکتا ہے کہ آپکو اَن پڑھ, جاہل اور  بیوقوف  جیسے چند القابات سے بھی نواز دیا جائے۔ اگر تو آپ بول پڑے کہ بھیا میں تو سہی جانب کو چل رہا ہوں۔۔۔ غلط تو آپ ہیں تو پھر اپنی خیر منائیے۔۔۔ آپکے مخالف کو چونکہ اِس بات پر پورا یقین ہے کہ بائیں طرف کو ہی چلنا دُرست ہے لہذا اُسکے بگڑ جانے کے امکانات زیادہ ہیں اور مُمکن ہے کہ وہ چلانا بھی شروع کر دے ۔ ایسے میں اگر دو چار بندے اور بھی جمع ہو گئے تو قصوروار آپکو ہی ٹھہرائیں گے۔۔۔ روڈ ہو یا بازار‘ کوئی مُحلہ ہو یا کوئی گلی۔۔۔  دائیں جانب چلتے ہوئے ہمیشہ ہی  اِس مسئلےکا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔
ہمارے اِس اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کوئی بھی شعبہ ہو‘ اگر آپ سیدھے ہاتھ پر چلنے کی کوشش کریں گے تو لاکھ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کہیں کوئی سامنے سے آکر آپکو ٹکرتا ہے تو کہیں کوئی دائیں بائیں سے۔ سرکاری شعبہ ہو یا غیرسرکرکاری , آپکو کسی صورت بھی سیدھے ہاتھ نہیں چلنے دیا جائے گا اور اگر آپ پھر بھی اپنی راہ کے اِس تعین پر بضِد ہیں تو آپکو اُن تمام نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جو قانوناً  اور شریعۃً اُلٹے ہاتھ پر چلنے والے کا مقدر ہونے چاہئیے تھے۔ غرض اِس پورے ماحول میں جہاں سب اُلٹے ہاتھ کو ہی چلتے ہیں, اب سیدھے ہاتھ پر چلنا نہایت معیوب سمجھا جاتا ہے اور اگر کوئی چلنا بھی چاہے تو  بالآخر  شکست اُسکا مقدر ہے۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی اِس مُلک میں رہتے ہوئے, کسی بھی شعبے میں سیدھے ہاتھ کو چلے اور اُسکو کِسی رکاوٹ کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔ اور وہ اپنی ترقی کی منازل بآسانی طے کرتا رہے؟؟؟ اگر یہ ممکن نہیں تو میں اور آپ اِسکو ممکن  بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ ہم دنیا کے جس جس شعبے میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں, ہمیشہ سیدھی راہ ہی چلیں گے۔ اور اگر ایسا ممکن نہیں تو کم از کم سیدھے ہاتھ چلنے والوں کا ساتھ دیں گے اور اُنکے لئے کوئی رُکاوٹ کھڑی نہیں ہونے دینگے۔۔۔

جلا دو



ہم شہر کی ایک مصروف ترین شاہراہ پر سفر کررہے تھے۔۔۔ خوش گوار موسم سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ خوش گپیوں میں بھی مصروف تھے۔۔۔ اتنے میں ہم ایک چوک پر پہنچے۔۔۔ یہاں ٹریفک صبح شام چاروں جانب سے رواں دواں رہتی ہے۔۔۔  سرخ بتی بھی ہمارا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔۔ ابھی زیبرا کراسنگ سے چند فُٹ کے فاصلے پر تھے کہ بتی محترمہ روشن ہوگئیں۔۔۔ تمام گاڑیاں رُک گئی۔۔۔ مگر میں جن محترم کے ساتھ سفر کر رہا تھا‘ اُنہوں نے دائیں بائیں دیکھا اور چل پڑے۔۔۔ میں نے اُنکے اس عمل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے نہ رُکنے کی وجہ پوچھی۔۔۔ اِس سے پہلے کہ میں مزید کچھ کہتااُنہوں نے میری طرف دیکھا اورسنجیدگی سے کہنے لگے

’’اقبال نے فرمایا تھا:

جس کھیت سے دہکاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے  ہر خوشۂِ گندم  کو  جلا دو‘‘


Powered by Blogger.
۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...