Showing posts with label میرا تعارف. Show all posts
Showing posts with label میرا تعارف. Show all posts

میں بھیا ہوں

جب سے اِس گلوبل ویلیج خصوصاً بلاگنگ کی دُنیا میں بنام ’’عادل بھیا‘‘ قدم رکھا، تب سے اِک سوال کا سامنا بکثرت کرتا چلا آرہا ہوں۔ یوں تو سوالات عموماً انسان کو پریشان کئے دیتے ہیں لیکن اِس سوال کو سُن کر میں ہر مرتبہ اِک انجانی سی خوشی محسوس کرتا ہوں اور ہو بھی کیوں نہ، جب سوال کرنے والے کا اندازِ سوال کچھ دِلچسپ ہو۔ جی ہاں! میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ آج تک یہ سوال کرنے والے ہر شخص کا اندازِ سوال دِلچسپ، اُسکی لبوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں شرارت کی تجلی ہوتی ہے۔
آپ یہ سوال جاننے کیلئے بیقرار ہورہے ہوں گے جبکہ بیشتر کو اندازہ ہوچکا ہوگا کہ میں کس سوال کی بات کررہا ہوں۔ تو سُنئیے! دراصل میرا پہلا ایمیل ایڈریس اور موجودہ بلاگ جو کہ دونوں بنام ’’عادل بھیا‘‘ ہیں کو دیکھ کر بیشتر قارئین بشمول دوست احباب اور چند عزیزواقارب یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے نام کے ساتھ ’’بھیا‘‘ منصوب کرنے کی کوئی خاص وجہ یا اِسکے پیچھے کوئی خاص پسِ منظر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشمار قارئین یہ جاننا چاہتے ہیں، بیشمار مُجھ سے یہ سوال کر چکے ہیں اور تاحال اِس طرز کے سوالات کا سامنا اکثر و بیشتر کرتا رہتا ہوں کہ اپنے نام کے ساتھ ’’بھیا‘‘ منصوب کرنے کی کیا وجہ ہے؟ کیا اِسکے پیچھے کوئی خاص پسِ منظر ہے؟ میں کیا سوچ کر ’’بھیا‘‘ کہلواتا ہوں اپنے آپکو؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
(اِس وغیرہ وغیرہ کو فضول مت سمجھئے گا کیونکہ اِس میں یاروں کی بہت سی دِلچسپ قیاس آرائیاں شامل ہیں۔)

خیر۔۔۔ سب کو بارہا یقین دِلانے کے باوجود کہ اِسکے پیچھے کوئی خاص وجہ نہیں ہے، سوچا کیوں نہ ایک تفصیلی تحریر ہی لکھ دی جائے (تاکہ سند رہے)۔ شائید اپنے نام کے ساتھ بھیا لگانے کی وجہ میرے ایک اُستادِ محترم ہیں۔ جی ہاں! درحقیقت چھٹی جماعت میں میرے ایک اُستاد تھے جنکے بقول تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور اِسکی عملی تعلیم ہم اُساتذہ نے ہی بچوں کو دینی ہے۔ لہٰذا اُنہوں نے تمام طلبہ کیلئے یہ قانون سختی سے نافذ کر رکھا تھا کہ سب ایک دوسرے کو اُنکے ناموں کے ساتھ بھائی اور بہن کہہ کر پکاریں گے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت مولا بخش کاروائی عمل میں لائی جاتی تھی۔ جسکا نتیجہ یہ تھا کہ دو طلبہ آپس میں جھگڑنے کے بعد اُستادِ محترم کو شکایت بھی کچھ اِس انداز سے لگایا کرتے تھے:
’’سر علی بھائی میری پنسل واپس نہیں کر رہے۔۔۔‘‘
’’ نہیں سر جنید بھائی مُجھے میری کتاب نہیں دے رہے۔۔۔‘‘
’’سرررر!! علی بھائی کہہ رہے ہیں کہ بچو تُو باہر نکل، میں تُجھے بتاتا ہوں
۔۔۔‘‘

اِس اسکول کو چھوڑے ہوئے اِک لمبہ عرصہ بھیت گیا لیکن سب کو بھائی بھائی کہنا مُجھے آج بھی بہت بھلا لگتا ہے۔ (یاد رہے یہ مسلمانوں کے بھائی چارے والا بھائی ہے نہ کہ لندن کے چارے والا!)۔ یہی وجہ ہے کہ اپنا پہلا ایمیل ایڈریس بناتے ہوئے میں نے اپنا یوزرنیم ’’عادل بھائی‘‘ رکھنے کی کوشش کی لیکن یہ نام پہلے استعمال ہوچکا تھا لہٰذا میں نے ایسے ہی مختلف یوزرنیمز رکھنے کی پے درپے کوشش کی لیکن ہر کے جواب میں یاہو ایک نئے نام کے ساتھ نئی کوشش کرنے کو کہتا۔ بالآخر میں نے بھائی کے آگے دو حروف ’’ya‘‘ لگا کر کوشش کی (جو کہ بھیا بنتا ہے) تو یاہو نے قبول کر لیا۔ وہ دِن اور آجکا دِن، انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر جگہ اِس نام کی بآسانی دستیابی کی بناء پر میں اپنے تمام اکاؤنٹس میں یوزرنیم ’’عادل بھیا‘‘ ہی استعمال کرنے لگا۔ اِسی تسلسل میں بلاگنگ کا آغاز کرتے ہوئے پہلا نام جو ذہن میں آیا وہ ’’عادل بھیا‘‘ ہی تھا لہٰذا اِسی نام سے ہی بلاگ بنایا اور آج آپکے سامنے۔۔۔ قصہ مختصر بس یہی وہ معمولی سا پسِ منظر ہے جسکی وجہ سے میں نے اپنے نام کے ساتھ بھیا منصوب کر رکھا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ صرف دوستوں بلکہ چند اُن رشتہ داروں نے بھی مُجھے بھیا کہنا شروع کر دیا ہے جو میرے بلاگ سے واقف ہیں۔ بات صرف یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب تو دفتر میں بھی رفتہ رفتہ ’’بھیا‘‘ کا ڈھنڈورا پیٹا جانے لگا ہے۔ غرض مُجھے خوشی ہمیشہ فقط اِس بات کی ہوتی ہے کہ قارئین بشمول دوست اور عزیزواقارب اِسکو کچھ دِلچسپ پیرائے میں لیتے ہیں۔ جسکی بناء پر اب کسی کے بھی منہ سے اپنے لئے بھیا سُن کر بہت اچھا لگتا ہے کیونکہ میں مکمل طور پر تسلیم کر چکا ہوں کہ ’’میں بھیا ہوں!‘‘

انسانی آئینہ کی تلاش

میں اِک کثیر عرصہ سے کسی ایسے انسانی آئینہ کی تلاش میں ہوں جس میں مُجھے اپنا عکس نظر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ جس انسان سے بھی ملتا ہوں، اُس میں اپنا آپ ڈھونڈنے لگتا ہوں۔ کچھ انسان جو دِل کو بھا جاتے ہیں، جن کی کچھ ادائیں دِل میں گھر کر لیتی ہیں، میں اپنی جان، مال اور وقت کی پروا کئے بناء اُنکے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہوں اور گر چند لمحوں کیلئے اُنکا ساتھ نصیب ہو جائے تو اُن میں اِک عادل تلاش کرنے لگتا ہوں۔ ہاں اُنکی چھوٹی چھوٹی عادات میرے مشاہدے سے گزرنے لگتی ہیں کہ شائید کوئی عادت مجھ سے مشابہ ہو۔ میں اِس سفر میں بہت سے افراد سے ملا جن میں بچوں سے لے کر جوان اور ضعیف العمر مردوخواتین شامل ہیں۔ کچھ لوگوں کے قریب ہوتے ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ مجھ میں اور اِن میں زمین آسمان کا فرق ہے لہٰذا میں واپسی کی راہیں ہموار کرنے لگتا ہوں جبکہ کچھ افراد سے مل کر اپنا آپ سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ میں اُنکی عادات کا مزید گہرائی میں مشاہدہ کرنے لگتا ہوں۔ ایسے میں کسی کی سوچ کا کچھ حصہ مُجھے اپنی سوچ سے اور کسی کی کوئی ایک یا زائد عادات مُجھے اپنی عادات سے ملتی جلتی دِکھائی دینے لگتی ہیں۔ خوشی تو تب ہوتی ہے جب ایک فرد کی بیشتر عادات اور سوچ، میری عادات اور سوچ سے مشابہ ہوں۔

افسوس اِس بات کا ہے کہ اِس سفر میں ہمیشہ ایک ہی نتیجہ نکلا کہ اِس دُنیا میں دو اِنسان قطعاً ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ ایسا کوئی نہ کوئی موڑ ضرور آتا ہے جہاں میں دائیں کو جانا چاہوں گا اور میرا ہمسفر بائیں کو۔ اِس نتیجہ سے مایوس ہو کر نجانے کتنی ہی مرتبہ یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ اب یہ سفر طے کرنا چھوڑ دوں۔ لیکن شائید کسی ایسے انسان کی یہ تلاش میری فطرت میں ہے۔ مُجھے یوں محسوس ہوتا ہے گویا جس اِنسان کی مُجھے تلاش ہے وہ مل جائے گا لیکن پھر یہ سوچ کر اپنے ہی لئے لبوں پر اِک مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ شائید یہ اپنی بیوقوفی پر اِک طنزیہ مسکراہٹ ہوتی ہے کہ اِس سفر میں جو نتیجہ ہمیشہ سے نکل رہا ہے میں ابھی بھی اسکی نفی کرتے ہوئے اُس سے مخالف نتیجہ کی اُمید رکھتا ہوں۔ اِس سفر کا ایک نقصان، میرا ہر دوسرے شخص سے بے پناہ مخلص ہو جانا ہے۔ اِس مخلصی میں میں نے ہمیشہ دوسروں کی ذات کو اپنی ذات پر ترجیح دی، اپنے قیمتی وقت میں سے دوسروں کیلئے وقت نکالا، ممکنہ حد تک اُنکے معاملات میں اُنکا ساتھ دیا، اُن کیلئے ہمیشہ مثبت سوچ رکھی۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ اِس سب کے باوجود اِسی مخلصی میں متعدد بار ڈسا جاچکا ہوں۔ لہٰذا یہ جاننے کے باوجود کہ ہر کسی کی فطرت، محسوسات (Feelings)، عادات، جذبات اور سوچ کا یہ مشاہدہ شائید میری فطرت بن گئی ہے یا نجانے عادت، اب اِک مرتبہ پھر میں نے اپنے اِس سفر کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے!!

مگر اِس سفر کی حسین یادوں کو میں کبھی بھُلا نہ پاؤں گا۔ مُجھے خوشی ہے کہ میں نے اِس عرصہ کے دوران بہت سے لوگوں کی فطرت کو پڑھنے کی کوشش کی۔ بیشتر اوقات اپنے آپکو دوسروں کی جگہ رکھ کر بھی سوچا جسکے نتیجے میں میں نے ہمیشہ بہت کچھ پایا اور سیکھا۔ میرے نزدیک میرے اِس سفر نے مُجھے نہ صرف بہت اطمینان اور سکون دِلایا بلکہ اِس دُنیا کی بہت سی پوشیدہ حقیقتوں اور اُصولوں سے بھی روشناس کروادیا۔ بلاشبہ یہ اِک حسین سفر تھا

بھیا کی شاعری

اِک زمانہ میں ماحول اور وقت نے ہمیں بھی شاعری کرنے پر مجبور کیا لہٰذا ہم قلم اور کاغذ ہاتھ میں تھامے بیٹھ گئے اور شام تک اپنے مقصد میں کُچھ حد تک کامیاب ہو ہی گئے۔ چند اشعار تو لکھ لئے مگر مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ ہمارے علاوہ یہ اشعار پورے گھرانے میں کسی کے بھی پلے نہ پڑے۔۔۔۔ گھرانے میں کیا، آج تک یہ اشعار جس کو بھی سُنائے، بیشتر کے سر کے اوپر سے ہی گزر گئے۔ اپنی کوشش کو جاری رکھتے ہوئے ہم نے چند اِک مرتبہ دوبارہ بھی قلم اُٹھایا اور ہر مرتبہ اپنی ڈائری میں لکھ کر ڈائری سنبھالے دیتے۔ بالآخر اُردو کے ایک پروفیسرکو ڈائری دِکھائی تو جناب نے ہماری آنکھیں کھولنے میں ہماری معاونت فرمائی کہ جو کُچھ ہم آج تک لکھتے رہے اگر اُنکو اشعار کہا بھی جائے تو معذور میرا مطلب ہے کہ بغیر ہاتھ اور  پاؤں کے اشعار کہا جائے گا۔ خیر وہ دِن اور آج کا دِن دوبارہ کبھی لکھنے کی زحمت ہی نہ کی۔ نہ ہی کبھی اپنے اِن شاہکاروں کا ذکر کسی سے کیا۔ آج کافی عرصے بعد ڈائری کھولی تو سوچا کیوں نہ چند اشعار کا تذکرہ اپنے بلاگ پر دوستوں اور قارئین سے کیا جائے۔ لہٰذا کُچھ اشعار پیشِ خدمت ہیں۔
فکر مت کیجئیے! ہم اشعار کے نیچے مُشکل الفاظ کے معانی بھی لکھے دئیے دیتے ہیں تاکہ آپ حضرات پڑھنے کے بعد بھیا کی (طنز پر مبنی) عزت افزائی نہ کردیں۔

نوٹ: یہ اشعار نما سطور بھیا نے فقط سولہ سے سترہ سال کی عمر میں لکھی تھیں۔ لہٰذا اگر پسند نہ آئیں  (جِس کے ننّاوے فیصد امکانات ہیں)یا اُردو ادب کی توہین محسوس ہو تو برائے مہربانی معاف فرمائیے گا۔

نہیں  ہیں  بھولتے   بسم اللہ   آلویز  ہم
کرتے  ہیں  جب کبھی  کُچھ   رائٹ  ہم

اُٹھایا  نہ  تھا  پہلے کبھی بھی   ہم  نے  قلم
یاس  نہ ہوئے تھے  عالمِ ناپائیدار  سے  ہم

چاروں جانب نظر آتے تھے جو  سروِچرواغاں
پھیلائے رکھتے تھے تابندگی زندگی میں جاوداں

یہ مصنوعی  تابندگی  سروچراغاں   کی نہ تھی
چراغ رہ گزر تھا ہوگیا نظرہوائے تندِجولاں

نہیں کرتے کوئی شکوہ  ان آندھیوں سے  ہم
جگا کر مُجھ کو انہوں نے بہت کیا ہے   احساں

ثابت  ہوتا  ہے  وہی  مارِآستین  جاوداں
کرتے  ہیں  جن سے  ہم   پیار  بے کراں

مسّیں بھیگنے سے قبل بچا لیا دُنیا کے فریب سے
یہ میرے رب کا ہے  مُچھ دِل گرفتہ پر  احساں

کہاں  گئی  وہ مہرو ولا بھری دُنیا  اے اللہ!
کہاں ہے پنہاں  خوشی بھرا فدینا  اے اللہ!

معانی:      
یاس                          :   نا اُمید
عالمِ ناپائیدار                 : فانی دُنیا
سروِچراغ                  : مصنوعی سرو کا درخت جِسکو مُختلف روشنیوں سے سجایا گیا ہو
تابندگی                      : چمک، روشنی (مراد رونق اور خوشیاں)
جاوداں                      : ہمیشہ      
چراغِ رہ گزر                 : ایسا چراغ جو ہلکی سی ہوا سے بُجھ جائے
ہوائے تندِ جولاں         : تیز ہوا (مراد زندگی کی تلخیاں ہیں)
آندھیوں                   : مراد زندگی کی تلخیاں
مارِ آستیں                    : وہ شخص جو دوست بن کر دُشمنی کرے
بے کراں                   : بے حد، بہت ذیادہ
مسّیں بھیگنا                 : داڑھی مونچھ نکلنا، جوان ہونا
دِل گرفتہ                    : شکستہ دِل، غمگین، اُداس
مہروولا بھری دُنیا          : محبت اور پیار سے بھری دُنیا
پنہاں                         : چھُپا ہوا، خفیہ
فدینا                         : خزانہ           
مزید پڑھا کر ہم اپنی مزید عزت افزائی نہیں کروانا چاہتے لہٰذا اِسی پر ڈکار مارئیے....

دو قوتیں

میں پوسٹ آفس کی کھڑکی سے اندر ہاتھ کئے اس انتظار میں کھڑا تھا کہ کب پوسٹ ماسٹر اپنے کام سے فارغ ہوکر میرے ہاتھ سے یہ لفافہ لے گا۔  اچانک میرے کندھے کے اوپر سے اِک ہاتھ کھڑکی کی جانب بڑھا جس میں ایک سفید رنگ کا لفافہ تھا اور اِک آواز اُبھری ’’ایکس کیوز می ! یہ پیکٹ کب تک لاہور پہنچ جائے گا؟‘‘ آواز اس بات کا ثبوت دے رہی تھی کہ یہ ایک پڑھا لکھا اور کسی اچھے گھرانے سے تعلق رکھنے والا نوجوان ہے۔ میں اپنی جگہ سے ایک جانب کو تھوڑا سا سِرک کیا تاکہ نوجوان اپنی درکار معلومات پوسٹ ماسٹر سے بآسانی حاصل کر سکے۔ لیکن نوجوان نے دوبارہ کوئی سوال نہ کیا لہٰذا میں ایک مرتبہ پھر اپنی جگہ کو ہولیا اور ہاتھ کھڑکی سے اندر کرتے ہوئے لفافہ اندر بیٹھے شخص کے حوالے کردیا۔

میں پوسٹ آفس میں بیٹھے اُس شخص کے کام میں اس قدر مگن تھا کہ مجھے احساس ہی نہیں ہوا کہ میرے پیچھے کوئی کھڑا اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ کون ہے اور میرے پیچھے کب سے کھڑا ہے؟ مجھے اس بات کا قطعاً اندازہ نہیں تھا۔ اب میری نظریں پوسٹ آفس میں بیٹھے اُس شخص کے کام پر ٹِکی ہوئی تھیں مگر میرے ذہن میں نوجوان کی آواز گردش کر رہی تھی۔ اُسکی آواز مجھے جانی پہچانی لگی مگر وہ کون ہے؟ کیا میں پہلے کبھی اس نوجوان سے ملا؟ اگر ملا تو کب اور کہاں؟ انہیں سوالوں کے جواب کے حصول کیلئے میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھنا چاہا، ابھی میں اس نوجوان کی ایک جھلک ہی دیکھ پایا تھا کہ پوسٹ آفس میں بیٹھے شخص کی آواز گونجی: ’’سَر پینتالیس روپے!‘‘ میں نے فوراً کھڑکی کی جانب رُخ کرتے ہوئے جیب کو ٹٹولا اور پچاس روپے نکال کر کھڑکی سے اندر پکڑا دئیے۔ اتنی دیر میں نوجوان کی آواز اُبھری: ’’ہیلو! جی جی۔۔۔ بس میں دس منٹ تک آرہا ہوں۔ ۔ ۔ ٹھیک۔ ۔ ۔ ٹھیک ۔ ۔ ۔ اوکے۔ ۔ ۔ اللہ حافظ‘‘۔ یہ آواز سُننی تھی کہ اچانک مجھے یاد آیا کہ آج سے نو دس سال قبل، پُرانے محلے میں میرا ایک پڑوسی تھا۔ ہوبہو ایسی ہی آواز۔ ۔ ۔ نہایت اچھے اخلاق۔ ۔ ۔ خوبصورت اندازِ گفتگو۔ ۔ ۔
’’سَر یہ آپکے بقایا پانچ روپے اور یہ رسید! ‘‘ ایک مرتبہ پھر پوسٹ آفس میں بیٹھے شخص نے میرے خیالات کے تسلسل میں خلل پیدا کیا۔ میں نے پانچ روپے کا سِکہ اور رسید جیب میں ڈالی اور واپس کو مُڑا۔ نوجوان مُجھے جاتا دیکھ کر جلدی سے کھڑکی کی جانب بڑھا۔ کیونکہ اب نوجوان کے پیچھے دو اور حضرات کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ پوسٹ آفس سے چند قدم چل کر پارکنگ تک آتے ہوئے مُجھے اس بات کا یقین سا ہونے لگا کہ یہ وہی میرا پڑوسی تھا۔ میرے دماغ میں نو دس سال پُرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔ میں سوچنے لگا کہ میں نوجوان سے آخر کیوں نہ ملا؟ شائید میں اُسے سہی پہچان نہ سکا تھا یا شائید مُجھے جانے کی جلدی تھی۔ ۔ ۔ لیکن وہ خود بھی تو مُجھ سے مل سکتا تھا۔ ۔ ۔ شائید اُسنے مُجھے پہچانا نہ ہو۔ ۔ ۔ لیکن میں تو آگے تھا پیچھے کھڑے شخص کو دیکھ نہ سکا مگر وہ تو میرے پیچھے کھڑے تھا۔ ۔ ۔ مجھے بآسانی دیکھ سکتا تھا۔ ۔ ۔ میرے اور میرے دماغ کے ان سوالات و جوابات کا سلسلہ تب ٹوٹا جب دِل نے کہا کہ مُجھے واپس جا کر نوجوان سے ملنا چاہئیے۔ اتنے عرصے بعد مُلاقات کا موقع ملا ہے، مُجھے ضرور ملنا چاہئیے۔ ۔ ۔ لیکن پھر جواب ملا کہ نہیں ! اُس وقت نہیں ملے تو اب کِس منہ سے ملو گے؟ اُسکو کیا کہو گے کہ میں تب کیوں نہ ملا جب پوسٹ آفس کے باہر کھڑا تھا؟؟ 
میں اِک عجیب کیفیت میں مبتلا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ مُجھے اُس کیفیت کو کیا نام دینا چاہئیے؟ مُجھے ایسا محسوس ہورہا تھا گویا دوقوتیں مجھے دائیں بائیں سے اپنی اپنی جانب کو کھینچ رہی ہیں۔ وہ کونسی دو قوتیں تھی جن میں سے ایک مُجھے میرے پُرانے پڑوسی سے ملوانا چاہتی تھی اور دوجی، جو یہ مُلاقات نہیں چاہتی تھی؟؟ نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اپنی راہ اختیار کی۔ ۔ ۔ کیونکہ میں پہلے ہی دفتر سے بہت لیٹ ہوچکا تھا۔ لیکن اب بھی میں سوچ رہا ہوں کہ وہ کونسی دو قوتیں تھیں؟ اور مُجھے اُس کیفیت کو کیا نام دینا چاہئیے؟؟؟

تعارف

فارغ اوقات میں عموماً انسان کی آنکھوں اور ہاتھوں کا انجن سٹارٹ ہو جاتا ہے۔ آنکھیں 6x6 کا گئیر لگاتی ہیں تو دیواروں پر لٹکے مکڑی کے جالے نظر آنے لگتے ہیں۔ پنکھوں پر جمی گرد کالی گھٹا کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔ ہر طرف بکھرا گند آپکی توجہ مانگ رہا ہوتا ہے۔ مالک کو نوکر کی کام چوریاں دِکھائی دینے لگتی ہیں، نوکر کو مالک کی وہ عادات دِکھائی دینے لگتی ہیں جنکو مالک کی غیر موجودگی میں یاد کر کے نہایت لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ اسکے برعکس جب ہاتھ ایکشن میں آتے ہیں تو آنکھوں کی دکھائی ہوئی راہوں پر چلنے لگتے ہیں۔ یا پھر بلا وجہ اردگرد کی چیزوں کو ٹٹولنے لگتے ہیں۔۔۔

اُن دنوں میری کوئی خاص مصروفیات نہ تھیں۔ میں فارغ بیٹھا وقت کو دھکے دئیے گزار رہا تھا۔ اچانک میری نظر نے قریب ہی پڑے ایک چھوٹے سے ناول پر بریک لگائی۔ ہاتھوں نے فوراً حرکت کرتے ہوئے ناول کو گود میں اُٹھا لیا اور تو اور زبان بھی چُپ نہ بیٹھ سکی اور عنوان وغیرہ پڑھنے کے بعد پورا ناول پڑھنے لگی۔ وہ مُلک کے ایک نامور ناول نگار کا جاسوسی ناول تھا۔ چند صفحات پڑھنے کے بعد چھوڑنے کا جی ہی نہیں چاہا غرٖض جب تک میں نے وہ ناول پورا نہیں پڑھ لیا نہیں اُٹھا۔ مجھے وہ ناول نہایت پسند آیا یہی وجہ ہے کہ میں اُسکے بعد اُن ناول نگار کے لکھے ہوئے تمام جاسوسی ناولوں کر پڑھنے لگا۔ ناولوں کے علاوہ بھی اُنکی لکھی ہوئی بے شمار کُتب اور تحاریر کا مطالعہ کیا۔ جہاں اُنکے بارے میں کچھ نظر آتا، فوراً پڑھنے لگ جاتا۔ مختلف رسالوں وغیرہ میں بھی اُنکا تعارف پڑھنے کو ملا۔ ایمیل ایڈریس تو کہیں سے ملا نہیں لہٰزا خط لکھ کر ہی ’’نصف ملاقات‘‘ کر ڈالی۔ کچھ ہی دن بعد اُنکے جوابی خط نے میری حوصلہ افزائی کر دی جسکے بعد میں نے ایک اور خط لکھ ڈالا جس میں اپنے مکمل پتہ کے ساتھ میں نے اپنا موبائل نمبر بھی ارسال کردیا۔ کچھ دن بعد میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب ناول نگار نے مجھے کال کر کے میرے خط پر پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اور میرے خط کا جواب دیا۔
انکی بے شمار تحاریر پڑھنے کے بعد میں انکے بارے میں بہت کچھ جان چکا تھا اور مزید جاننے کیلئے سرچ بھی کی لیکن کوئی خاص معلومات نہ مل سکیں۔ لہٰزا میں نے یہ ٹھان لی کہ اب میں ان مصنف اور انکی زندگی کے بارے میں بذاتِ خود ضرور کچھ لکھوں گا۔ لیکن اسکے لئے مجھے چند مزید معلومات کو اکٹھا کرنا ہوگا۔

میری اس تحریر لکھنے کا مقصد یہ بات واضح کرنا تھی کہ کسی بھی لکھاری کا تعارف اُسکی تحاریر ہوتی ہیں۔ اُس کی زیادہ سے زیادہ تحاریر پڑھ کر اُسکے بارے میں بہت کچھ جانا سکتا ہے مثلاً اُسکے عقائد، نظریات، جزبات، سوچ، روزانہ کے معمولات، وغیرہ وغیرہ۔ غرض ایک شخص، ایک لکھاری کی تحاریر پڑھ کر اُسکے بارے میں وہ سب کچھ جان سکتا ہے جو اُس کیلئے کسی دوست کے بارے میں جاننا ضروری ہوتا ہے۔  بلکل اسی طرح آپکو میرے بلاگ کا ہر صفحہ میری سوچ، عقائد، نظریات، جزبات، محسوسات اور معمولات کی عکاسی کرتا دکھائی دے گا، قصہ مختصر، اس بلاگ کا ہر ہر صفحہ میرا تعارف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(آجکے بعد تعارف کے صفحے پر اس تحریر کو میرے تعارف کے طور پر شائع کیا جائے گا)
Powered by Blogger.
۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...