پرسیپشن (Perception)

عالیہ دِن دیہاڑے گھر سے لاپتہ ہوگئی۔۔۔ دِن بھر کی کوششوں، انتظار اور دُعاؤں کے بعد بھی نہیں ملی تو اماں زلیخا کہتی سُنائی دیتی ہیں: ’’عالیہ کی ماں نے اُسکا رشتہ طے کر دیا تھا جبکہ عالیہ کا ایک لڑکے سے کوئی چکر وکر چل رہا تھا، میں تو کہتی ہوں وہ اُسی بدمعاش کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔‘‘

 سیٹھ عنایت اللہ اپنی اہلیہ سے کہتے ہیں: ’’ یہ ضرور اغواہ برائے تائیوان ہے۔ تم دیکھ لینا جلد ہی کوئی فون کر کے تائیوان مانگے گا‘‘

عالیہ کی ایک سہیلی کا کہنا ہے: ’’ مُجھے یقین ہے کہ عالیہ کو اُس بلے لفنگے نے اغواہ کروایا ہے‘‘

بشیر کا کہنا تھا: ’’ عالیہ کا خاندان اِس شہر میں نیا ہے، یقیناً عالیہ کہیں راستہ کھو گئی ہوگی۔ انشاءاللہ مل جائے گی‘‘

ہمدانی صاحب کہتے ہیں: ’’مُجھے خدشہ ہے کہ کسی نے اغواہ کر کے قتل نہ کر دیا ہو‘‘
-----------------------------------------

آئیے اب آپکو بتاؤں کے اماں زلیخا، سیٹھ عنایت اللہ، عالیہ کی سہیلی، بشیر اور ہمدانی صاحب نے ایسا کیوں سوچا!!

دراصل اماں زلیخا عالیہ کو روزانہ شام دفتر سے واپسی پر ایک لڑکے کی گاڑی میں آتا ہوتا دیکھتی تھیں۔ لہٰذا اماں کو یقین تھا کہ ہو نہ ہو بات یہی ہے۔
سیٹھ عنایت اللہ کا بیٹا بھی چند سال قبل اغواہ ہوا تھا اور اغواہ کاروں نے دوسرے دِن فون کر کے تائیوان مانگا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سیٹھ صاحب کو یقین تھا کہ یہ ضرور اغواہ برائے تائیوان کی وارداد ہے۔
عالیہ اور اُسکی سہیلی روزانہ یونیورسٹی اکٹھی جایا کرتی تھیں، ایک دِن راستے میں بلے لفنگے نے عالیہ کو چھیڑا جس پر عالیہ نے اُس کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ عالیہ کی سہیلی کو اِسی وجہ سے پختہ یقین تھا کہ یہ بلے لفنگے نے ہی بدلہ لیا ہے۔
بشیر جب اِس شہر میں نیا آیا تھا تب اُسکی چھوٹی بہن ایک روز راستہ بھول گئی تھی۔ موبائل کی چارجنگ نہ ہونے کی وجہ سے بشیر کی بہن کسی سے رابطہ نہ کر پائی اور کسی نے اُسکی غلط رہنمائی کر دی جس سے وہ مزید گھر سے دور ہوگئی۔ یوں بشیر کی بہن کو گھر پہنچتے ہوئے نہایت دیر ہوگئی۔ لہٰذا وہ پراُمید تھا کہ انشاءاللہ عالیہ بھی جلد گھر پہنچ جائے گی۔
ہمدانی صاحب کے خالہ زاد بھائی کی کسی کے ساتھ دُشمنی تھی اور دُشمنوں نے اُسکے بیٹے کو اغواہ کر کے قتل کر کے نعش ایک نالے میں پھینک دی۔ یوں اُنہوں نے اپنا انتقام لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمدانی صاحب کا خیال تھا کہ عالیہ کے والد کے کاروباری دُشمنوں نے اُنکی بیٹی کو اغواہ کر کے قتل کرکے ضرور اپنا کوئی بدلہ لیا ہوگا۔

دراصل اماں زلیخا، سیٹھ عنایت اللہ، عالیہ کی سہیلی، بشیر اور ہمدانی صاحب نے اپنے گردونواح کے حالات کے مطابق وہی کچھ سوچا جو اُنکی زندگیوں میں ہورہا ہے یا ہوا جبکہ کسی نے بھی عالیہ، اُسکی زندگی، اُسکے کے گھر، اور حالات کے مطابق سوچنے کی بالکل کوشش نہ کی۔ مختلف افراد نے یہ جو مختلف اندازے لگائے اِنکو انگریزی میں ’’پرسیپشن (Perception)‘‘ کہا جاتا ہے۔

اِن پرسیپشنز (Perceptions) کی وجہ سے بہت سی غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جو ہماری زندگیوں اور مختلف رشتوں میں بیشتر تلخیوں، ناچاقوں اور دوریوں کا سبب بنتی ہیں۔ ہر فرد دوسرے شخص کیلئے اپنی سوچ اور اپنے گردونواح کے ماحول کے مطابق سوچتا ہے۔ وہ یہ کبھی سوچنے کی کوشش نہیں کرتا کہ دوسرا شخص کِس چوراہے پر کھڑا ہے، وہ جو بات یا فعل کر رہا ہے، کس نظریہ کے پیشِ نظر کر رہا ہے، اُسکی سوچ اور نظریات کیا ہیں، وہ کس ماحول میں رہ رہا ہے، وہ کیا چاہتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہم اِس انداز سے سوچنے لگیں تو شائید بہت سی تلخیاں، ناچاقیاں اور دوریاں ختم ہو جائیں۔ یاد رکھئیے آپکی ایک غلط فہمی اور ایک غلط سوچ کسی دوسرے کی زندگی برباد بھی کر سکتی ہے۔ 

آپکو دعوتِ فکر دیتا ہوں کہ آپ سے جو رشتے دور ہیں یا جن رشتوں میں ناچاقیاں ہیں، سوچئیے کہاں کوئی غلط فہمی ہے اور کہاں آپنے کسے دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ آئیے۔ ۔ ۔ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے روٹھے رشتوں اور پیاروں کی جانب پیار، محبت، اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیے۔ بھیا کی نیک تمنّائیں آپ سب کے ساتھ ہیں۔

12 comments:

  1. بھیا۔۔۔۔۔۔۔ کمال لکھا کمال۔۔۔۔۔۔ داد وصول کیجیئے

    محمد نعمان

    ReplyDelete
  2. بہت خوب جناب۔ بہت ہی زبردست تحریر ہے۔
    ویسے اس کہانی کے تناظر میں پرسیپشن کا اردو ترجمہ کیا ہو گا؟
    اندازے، خیال، احساس یا پھر علم حسیات؟؟؟

    ReplyDelete
  3. پرسیپشن کو گولی ماریں، عالیہ ملی یا نہیں؟

    ReplyDelete
  4. bohat khob likha hy ...:)
    haan bilkul theek kaha perception sy bohat c galat fehmiyan ho jati hain or choti choti galat fehmiyan mil k aeysi bari diwaar khari ker daiti hain k us diwaar ka girna namumkin ho jata hy.
    kisi ny theek hi kaha hy k"aapas main galtiyon ko drguzar kia kro ..Qk darguzer na krogy to mohabbat khtm ho jaey gi ...jab muhabbat khatam ho gi to rabita tot jaey ga ..or jab rabita tot jaey ga to fasla ho jaey ga...

    ReplyDelete
  5. نعمان بھیا:: بہت شکریہ. آئیندہ بھی ایسے ہی حوصلہ افزائی کرتے رہئیے گا۔

    بلال بھیا:: بہت شکریہ۔ آپسے ایسی مستقل حوصلہ افزائی کی توقع رکھتا ہوں۔ جہاں تک بات ہے پرسیپشن کی تو میرے خیال سے اِس تحریر میں کافی واضح کر دیا ہے اِسکے بارے میں۔ آپ اِس تحریر کے تناظر میں اِسکا ترجعہ ’’طرزِفکر‘‘ لے سکتے ہیں۔

    سعد بھیا:: اِس سوال کا جواب آپکو دے چکا ہوں لہٰذا پھر دئیے دیتا ہوں۔ میری یہ تحریر پڑھ کر کسی کی زندگی پر کوئی فرق پڑا تو میرے سمجھئیے عالیہ مل گئی ورنہ لاپتہ ہی ہے۔ (عالیہ ایک فرضی کردار ہے)۔

    نینا:: جی بالکل بجا فرمایا آپنے۔ ایسے ہی میرے بلاگ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہئیے گا۔ سراہنے کا بہت شکریہ۔

    ReplyDelete
  6. یار میں دیر سے آیا۔۔۔
    بہت خوب لکھا ہے۔ عمدہ کنسپشن ہے آپکی۔ :)

    ReplyDelete
  7. hummmmmm

    ہمیں تو عالیہ مل گئی

    ReplyDelete
  8. جنید:: شکریہ دوست
    عمیر بھیا:: سراہنے کا شکریہ لیکن آئیندہ دیر نہیں کرنی آنے میں :)

    ReplyDelete
  9. ٘یں تو عالیہ کو پچھلی گلی میں ہی اتار دیا کرتا تھا لیکن یہ اماں زلیخا نے جانے کہاں سے تاڑ لیا ۔۔

    ReplyDelete
  10. ہاہاہا۔۔۔ امتیاز بھیا دُنیا کی نظریں بڑی تیز ہوتی ہیں۔ احتیاط کیا کیجئیے۔ بڑی بات یہ کہ ہر معاملے میں حقیقت کو سمجھنے کی سعی کی بجائے اپنی عقل و شعور کے مطابق سوچتے ہیں۔

    ویسے اِس مرتبہ تو زبردستی تشریف لائے میرے بلاگ پر، خود ہی آکر حوصلہ افزائی کرتے رہا کرئیے

    ReplyDelete
  11. oy aalya abhi tak lapata hay k mil gai hay?

    ReplyDelete

Powered by Blogger.
۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...