کمپیوٹر اور احتیاط

جہاں کمپیوٹر موجودہ دور کی اِک اہم ضرورت اور نوجوانوں کیلئے تفریح کا سبب بن چُکا ہے وہیں اِسکے بہت سے نقصانات بھی ہیں جن سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ اِنہیں نقصانات میں سے ایک کمپیوٹر کے ذیادہ استعمال کا صحت پر منفی اثر ہے۔ نظر کا کمزور ہونا اور کمر کا درد سرِعام ہیں اور یہ دونوں بیماریاں بھی ایسی کہ جن سے جان چھُڑانا نہایت مشکل ہے۔ مُجھے بھی کُچھ عرصہ یہ کمر کا درد رہا تھا لیکن الحمدُللہ جلد ہی جان چھُٹ گئی لیکن اِک دوست اِس درد میں مبتلا ہے جس کو دیکھتے ہوئے اِس موضوع پر آج لکھنا چاہا۔ اب معاملہ یہ کہ خوب آرام کرو تو درد ختم لیکن تھوڑا سی مشقت یا کوئی کام کر لیا جائے یا کچھ دیر بغیر سہارے کے بیٹھ لیا جائے تو یہ درد آپکا جینا حرام کئے دیتا ہے۔ اِس سلسلے میں نہایت معمولی سی احتیاطی تدابیر کو اپنانے سے ہم اِن سے بچ سکتے ہیں۔ 
مُجھے کالج کے زمانہ میں آرام دہ کُرسی نہ ہونے کی وجہ سے کمر کا درد شروع ہوگیا تھا جو کالج چھوڑنے کے بعد بھی کچھ عرصہ جاری رہا۔ اکثر تھوڑی سی مشقت والا کام کرنے سے یہ درد نہایت ذیادہ ہونے لگتا تھا۔ خیر بالآخر بھرپور آرام اور احتیاط سے مُجھے اس درد سے چھُٹکارا مل گیا۔ لہٰذا اگر آپکے ساتھ بھی کوئی ایسا مسئلہ ہو تو بھرپور آرام اور احتیاط کیجئیے۔

زیادہ دیر لگاتار مت بیٹھئے۔ اگر آپکا کام زیادہ ہو تو کچھ دیر کے بعد وقفہ کر لیا جائے۔ یوں وقفوں میں بیٹھنے سے ذیادہ تھکاوٹ نہیں ہوگی۔
کمزور افراد خصوصاً بچے زیادہ دیر لگاتار کمپیوٹر کا استعمال مت کریں۔
سکرین کی روشنی (Brightness) کو کم سے کم رکھا جائے۔
اندھیرے میں ہر گز کمپیوٹر کا استعمال مت کریں بلکہ ہمیشہ کمرے کی لائٹ آن رکھیں۔ نوجوان رات کے اوقات میں اندھیرے میں لیپ ٹاپ کو آن کر کے پوری پوری رات نیٹ گردی کرتے رہتے ہیں جو کہ صحت کیلئے سخت نقصان دہ ہے۔
کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی سکرین ہمیشہ آپکی آنکھوں کے بالکل سامنے ہونی چاہئیے، نہ اوپر اور نہ ہی نیچے۔
ذیادہ ٹائپنگ کرنی ہو تو کی بورڈ (keyboard) بھی بالکل کہنیوں کی سامنے ہونا چاہئیے۔ نہ اوپر اور نہ نیچے۔
اپنے آرام کا خاص خیال رکھیں۔ آرام دہ کُرسی پر بیٹھیں۔ کسی بھی ایسی حالت میں مت بیٹھیں جہاں آپ اپنے آپ کو پُرسکون محسوس نہ کریں۔

ووڈافون کی جانب سے بنائی گئی ایک متعلقہ اور دلچسپ ویڈیو آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ ضرور دیکھئیے:
video

آزادی

’’چودہ اگست 1947 کو کیا ہوا؟‘‘
’’اِس دِن پاکستان آزاد ہوا تھا‘‘۔ 
 میرے اِس سوال کا  یقیناً یہی وہ جواب ہے جو آپ سب کے دماغوں میں ہوگا۔
’’لیکن پاکستان کے آزاد ہونے کا کیا مطلب؟‘‘
آپ حیران ہورہے ہوں گے کہ یہ آج بھیا کیسے سوالات کر رہا ہے۔
’’برصغیر کے مسلمانوں کو اِک علیحدہ سرزمین ملی جہاں وہ سر اُٹھا کر اِک آزاد زندگی گزار سکتے ہیں۔‘‘
مُجھے پورا یقین ہے کہ آپ کے پاس میرے دوسرے سوال کا جواب یہی ہوگا۔
’’تو کیا ہم آزاد زندگی گزار رہے ہیں؟؟؟‘‘
یہ وہ سوال ہے جسکا جواب میں صرف اور صرف آپ سے سُننا چاہتا ہوں۔۔۔
**************************************************
لقمان میرا  ایک پرانا دوست ہے۔ ہم جب بھی ملتیں ہیں تو پُرانی یادوں کو یاد کر کے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اک کثیر عرصہ بعد کل ہماری پھر ملاقات ہوئی، خوب باتیں ہوئیں۔ باتیں کرتے کرتے لقمان کہنے لگا کہ میں اُن لوگوں کے سخت خلاف تھا جو اپنے دیس اور اپنی سرزمین کے ساتھ بےوفائی کرتے ہوئے پاکستان سے باہر چلے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اب اِسکے خلاف نہیں ہو کیا؟ کہنے لگا کہ نہیں ۔۔۔ قطعاً نہیں۔۔۔ آجکل کے زمانے میں وہ لوگ واقعی عقلمند ہیں۔۔۔ اُسنے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرا خیال تھا جو بھی ہو پردیس تو پردیس ہوتا ہے، وہاں انسان آزادی سے نہیں جی سکتا، ہزاروں مسائل ہوتے ہیں پردیس میں۔ لیکن یہاں آزادی ہے، آپ کھُل کر جی سکتے ہیں۔۔۔۔۔ لقمان نے اِک لمبا سانس لیا اور کہنے لگا کہ  اب  سب اِسکے برعکس ہے۔ انسان پردیس میں جا کر جو زندگی گزارتا ہے وہ یہاں سے کوسوں بہتر ہے۔ میں لقمان کی بات سُن کر مُسکرا دیا۔ اُس نے میرے مُسکرانے کی وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کہ میرے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی ہے اور سو فیصد وہی رائے ہے جو تمہاری۔
**************************************************
میرے گزشتہ دفتر کا بینک اکاونٹ جس بینک کی شاخ میں تھا وہ شاخ راولپنڈی میں جبکہ دفتر اسلام آباد میں تھا لہٰذا دفتر کیلئے بینک سے کوئی بڑی رقم نکلوا کر دفتر لاتے ہوئے پورے سفر اِک عجیب سا خوف طاری رہتا اور یہ خوف اپنی انتہا کو پہنچ جاتا جب میرا گزر اسلام آباد پولیس کی ایک چیک پوسٹ سے ہوتا۔ کیا کوئی مُجھے بتا سکتا ہے کہ یہ کیسا خوف تھا؟ جب آپ کوئی غلط کام نہیں کر رہے تو یہ خوف کیسا؟ کیا یہ پولیس آپکی ہی محافظ نہیں؟

اگر آپ مذہبی شخصیت کےمالک ہیں تو بچ کر رہئیے گا۔ آپ ایک دہشتگرد ہیں۔ بھرے مجمع میں خصوصاً آپکی تلاشی لی جائے گی۔ بیشتر ادارے ایسے ہوگئے جہاں آپکو نماز تک پڑھنے کی آزادی نہیں ۔ یہی حال ہر ایسی عورت کے ساتھ ہے جو پردہ کرتی ہے۔ خصوصاً شرعی پردہ کرنے والی خواتین کو یہاں ہر موڑ پر نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اب تو پبلک پوائینٹس سے لے کر تعلیمی اداروں تک خواتین کے زبردستی نقاب اُتروائے جاتے ہیں۔ دِن بدن اِس دیس میں عورت کی عزت و تعظیم میں کمی آتی جا رہی ہے۔ 
  
آپ مُلک کے جس کونے میں بھی ہوں، آپکو  یا آپکے بچوں کو کوئی بھی بغیر کسی وجہ کے اُٹھا کر لے جا سکتا ہے، یاد رکھئیے! واپسی کے کوئی امکانات نہیں۔ اِن میں پولیس، فوج اور خفیہ ایجنسیاں سرعام ہیں۔ لہٰذا آپکو احتیاط کرنی ہے۔ گھر میں چھُپ کر رہئیے، صرف اپنے کام سے باہر نکلئیے۔   
  
اگر آپ کوئی عہدہ یا مقام چاہتے ہیں تو سفارش اور رشوت کا بندوبست کیجئیے ورنہ اونچے خیالات دماغ سے نکال لیجئیے اور کھپتے رہئیے۔
  
آپ غریب ہیں تو اِس آزاد سرزمین میں آپکی اچھوت سے بڑھ کر کوئی قدر نہیں۔
 
اگر آپ جائز طریقوں سے حلال کمانے کے خواہشمند ہیں اور حرام، جھوٹ، فراڈ، رشوت اور ہر غلط کام سے بچنا چاہتے ہیں تو۔۔۔۔جائیے ڈوب مرئیے۔ 
 
اِن تمام باتوں کے باوجود اگر آپ اِس سر زمین کی خاطر کُچھ کرنا چاہتے ہیں تو موسٹ ویلکم لیکن یہ مت بھولئے گا کہ آپکا انجام کچھ ڈاکٹر عبدلقدیر خان جیسا ہوگا۔۔
  
اوپر  ذکر کئے ہوئے تمام افراد اِس آزاد ریاست کے میرٹ پر پورا نہیں اُترتے لہٰذا آپ یہاں رہنے کے اہل نہیں۔
**************************************************
 اِس آزاد دیس کے آزاد باشندوں کویومِ آزادی  مبارک ہو
Powered by Blogger.
۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...